اسلام آباد:وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت نے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر 130 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی۔
علی پرویز ملک کے مطابق خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈیوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا، تاہم حکومت نے مشکل حالات میں بھی ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے۔ حکومت نے عالمی قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ عوام پر منتقل کرنے کے بجائے اپنے مالی وسائل استعمال کرتے ہوئے اس کا ایک بڑا حصہ خود برداشت کیا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملک میں کھاد کی فیکٹریاں بھرپور پیداوار دے رہی ہیں، جبکہ وزارت توانائی اور پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے توانائی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھی تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے۔
حکومت نے حالیہ عرصے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار بھی تبدیل کیا ہے۔ نئے نظام کے تحت عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کو مرحلہ وار مقامی صارفین تک منتقل کرنے کے لیے روزانہ بنیاد پر قیمتوں کا تعین کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں رواں سال عالمی توانائی بحران اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے اثرات پاکستان کی درآمدی ضروریات، زرمبادلہ اور مقامی ایندھن کی قیمتوں پر بھی پڑے۔
بحران کے عروج پر 3 اپریل 2026 کو پیٹرول کی قیمت میں 137.23 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 184.49 روپے فی لیٹر کا ریکارڈ اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پیٹرول 458.41 روپے اور ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا۔ حکومت نے اس دوران عالمی قیمتوں کے اضافی اثرات کا بڑا حصہ خود برداشت کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی آنے پر پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بتدریج کم ہوئیں۔ 8 اگست کو پیٹرول 327.62 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 380.86 روپے فی لیٹر مقرر کیا گیا تھا۔
حکومت نے جولائی 2026 میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کیا۔ نئے نظام کے تحت اوگرا عالمی مارکیٹ کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے روزانہ بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرتی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے نظام سے عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیاں زیادہ شفاف انداز میں مقامی مارکیٹ تک منتقل ہوں گی۔ جولائی میں نئے نظام کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 5.44 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 31.05 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد پیٹرول 316.15 اور ڈیزل 354.35 روپے فی لیٹر ہوگیا تھا۔
علی پرویز ملک کی جانب سے 130 ارب روپے کی سبسڈی کا بیان عالمی منڈی میں قیمتوں کے شدید اضافے کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت نے صارفین پر عالمی قیمتوں کا مکمل بوجھ منتقل کرنے کے بجائے قیمتوں کے ایک بڑے حصے کو خود برداشت کیا۔
پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ملکی درآمدی بل پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے، جس سے زرمبادلہ، روپے کی قدر اور مہنگائی پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں اضافہ عام صارفین کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکلوں، رکشوں اور نجی گاڑیوں کے اخراجات بڑھاتا ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور صنعتی سرگرمیوں کی لاگت بھی متاثر ہوتی ہے۔
