Baaghi TV

میر رضا قتل کیس: تفتیشی افسر نے اہم دستاویزات جوڈیشل کمیشن میں جمع کرادیں

کراچی: سندھ ہائیکورٹ کے رجسٹرار کے مطابق میر رضا علی خان قتل کیس کے تفتیشی افسر سراج لاشاری نے کیس سے متعلق اہم دستاویزات جوڈیشل کمیشن میں جمع کرا دی ہیں۔

رجسٹرار کے مطابق تفتیشی افسر نے تمام دستاویزات رجسٹرار جوڈیشل کمیشن عبدالماجد کے حوالے کیں، جن میں میر رضا کی گمشدگی کی ایف آئی آر، کیس میموز اور گواہوں کے بیانات کی نقول شامل ہیں۔

کیس کی تفتیشی ٹیم میں شامل افسران کی فہرست بھی جوڈیشل کمیشن میں جمع کرادی گئی ہے۔ رجسٹرار کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے سندھ حکومت کے فوکل پرسن سے کیس کی مکمل تفصیلات طلب کی تھیں۔

واضح رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتا ہوا تھا۔ وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا، تاہم دو روز بعد اس کی لاش گلستانِ جوہر سے برآمد ہوئی۔

پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش انتہائی خراب حالت میں ملی تھی اور اس کے سینے میں گولی لگی ہوئی تھی۔ لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کیے گئے تھے۔

مقتول کے والد کے مطابق میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے آغاز کے حوالے سے انتہائی خوش تھا۔

میر رضا کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مبینہ خامیوں کی نشاندہی کے بعد معاملہ مزید اہمیت اختیار کرگیا۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید اور مقتول کے والد نے بھی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

بعد ازاں عدالتی حکم پر 8 اگست کو میر رضا کی قبر کشائی کرکے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس کے بعد اسی روز دوبارہ تدفین کردی گئی۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی جبکہ جسم پر تشدد کے متعدد نشانات موجود تھے۔ رپورٹ میں پسلیوں کے ٹوٹنے، سر اور چہرے پر متعدد زخموں اور جسم پر کالے دھبوں کا بھی ذکر کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق میر رضا کے پاؤں پر بھی زخموں کے نشانات پائے گئے، جبکہ جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر خون کے دھبے موجود تھے۔ دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم کی بھی نشاندہی کی گئی۔

ابتدائی رپورٹ میں جبڑے کے حصے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد کے ساتھ ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

جوڈیشل کمیشن میں اہم دستاویزات جمع ہونے کے بعد کیس کی تحقیقات اور میر رضا کی موت کے اصل حقائق سامنے لانے کی کوششیں مزید اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔

More posts