Baaghi TV

دھوکہ دہی،معاشرے کا ناقابل شفا ناسور ،تحریر :ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

دنیا بھر میں روز بروز گناہ اور جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے۔حالات بڑی تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہے ہیں۔ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ عالمی طاقتیں کمزور ممالک کو زیر کرنے کے منصوبے بنا رہی ہیں۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا خطہ یا ملک ہو جہاں گناہ اور جرائم کی شرح برائے نام ہو۔البتہ زیادہ تر یہی دیکھا گیا ہے کہ عوام الناس میں غلطیاں ، خطائیں ، گناہ اور جرائم زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔کوئی شخص دعوی نہیں کر سکتا کہ میں بالکل گناہ سے مبرا ہوں۔ معاشرتی حقائق ہم سب کو متنبہ کر رہے ہیں کہ دنیا کس تیزی کے ساتھ گناہ کی دلدل میں پھنس رہی ہے۔جب دنیا ایسی صورت حال سے دوچار ہو جائے تو معاشرے میں امن و امان کی صورت حال خراب ہو جاتی ہے۔ لوگوں کو خود بخود گناہ کا بخار چڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ ان کی فطرت میں خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ طرح طرح کے گناہ پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ان پیدا شدہ گناہوں میں دھوکہ دہی بھی ایک ناقابل شفا ناسور ہے جس کی سرائیت اور اثر قبولیت بجلی کی طرح ہے۔حالیہ چند برسوں سے دھوکہ دہی کا ناسور جس تیزی کے ساتھ پھیلا ہے اس نے پورے معاشرے کو ایک ایسی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے جہاں اعتماد کی فضا زہر الود ہو گئی ہے۔جو شخص بھی اس فضا میں سانس لے گا۔وہ جسمانی ، نفسیاتی اور روحانی طور پر ضرور بیمار ہو گا۔ یہ ایک ایسی پچیدہ صورت حال ہے جس کا اصلی چہرہ حادثہ ہو جانے کے بعد نظر آتا ہے۔دھوکہ باز کس طرح منصوبہ بندی کرتے ہیں۔وہ جب معاشرے میں ایسے سادہ ، معصوم اور شریف لوگوں کو دیکھتے ہیں تو انہیں بڑے مہذب انداز سے چکنی چپڑی باتوں سے اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں۔ یہ رجحان اب بڑھتے بڑھتے ایک ایسے ناسور میں تبدیل ہو گیا ہے جو قریبا ناقابل شفا ہے۔ ویسے آج کل تو ہر کام میں دھوکہ دہی معمول بن گیا ہے۔ پہلی بات ملک بھر میں دودھ دہی کی خالص دستیابی نہیں۔ پانی سے لے کر کیمیکل تک ملاوٹ کا راج ہے۔ اس کے علاوہ ہر کاروبار میں دھوکہ دہی کے نفسیاتی طریقے راج ہے۔جو انسان کی اندرونی اور بیرونی کیفیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔یہ عصری تقاضوں کا خوف ناک المیہ ہے اس کی دہشت اس قدر بھیانک ہے جس میں خوف کا رعشہ ، اعصابی شکنیں اس قدر زیادہ ہو چکی ہے جہاں معاشرے کا پورا چہرہ بگڑ چکا ہے۔اچھی تصویر ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ بلکہ اب خوابوں میں جن ، بھوت اور پریاں نظر آتے ہیں جو نیند میں خلل پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ سر سے لے کر پاؤں تک جسم و روح میں لرزہ طاری کر دیتے ہیں۔

آج کا انسان ایک ایسی راہ پر سفر کر رہا ہے جہاں جگہ جگہ دھوکہ دہی کے کھڈے ہیں۔ اسے چلنا محال لگتا ہے۔قوت ارادی کمزور ہونے لگتی ہے ، شکوک و شبہات دوریاں پیدا کرنے لگتے ہیں۔ جب کسی بھی معاشرے میں اچھے لوگوں کی تعداد کم ہو جائے اور برے لوگ طاقت و اختیار میں اس قدر طاقتور بن جائیں وہاں نیکی کی شمع بجھ جاتی ہے۔اب
سوال پیدا ہوتا ہے ایک اچھا انسان ایسی زہر الود فضا میں کیسے سانس لے؟ جب اس کے آس پاس دھوکے کی قے پڑی ہوگی۔اس کا جی متلائے گا۔وہ فورا اپنے ناک اور منہ پر ہاتھ رکھے گا۔ یاد رکھیں تعفن تو تعفن ہے خواہ وہ جسمانی ہو یا روحانی۔ وہ دور رہنے پر مجبور ہوگا۔پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی میں ایک ایسا دن آ جائے گا جہاں وہ مکمل طور پر بدظن ہو جائے گا۔ایسی گمبھیر صورت حال پر قابو پانے کے لیے موثر لائحہ عمل کی ضرورت ہے تاکہ کھویا ہوا اعتماد پھر سے بحال ہو جائے۔
یوں سمجھ لیجیے انسان اپنی بدبختی یا خوش بختی کی تاریخ خود لکھتا ہے۔

More posts