انسان صرف گوشت پوست کا پیکر نہیں، وہ ایک سوچ، ایک احساس، ایک ضمیر اور ایک کردار کا نام ہے۔ دنیا میں کروڑوں انسان سانس لیتے ہیں، مگر ہر شخص حقیقی معنوں میں زندہ نہیں ہوتا۔ زندگی کا اصل مفہوم اس وقت آشکار ہوتا ہے جب انسان کے اندر شعور بیدار ہو، اسے اپنے وجود کی ذمہ داری کا احساس ہو اور وہ اپنے کردار سے اپنے اردگرد کی دنیا میں بہتری پیدا کرنے کی کوشش کرے۔
بیداریِ شعور دراصل انسان کے اندر موجود اس روشنی کا نام ہے جو اسے حق اور باطل، اچھائی اور برائی، ذمہ داری اور غفلت کے درمیان فرق سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ شعور کی بیداری انسان کو صرف یہ نہیں بتاتی کہ کیا درست ہے، بلکہ یہ حوصلہ بھی دیتی ہے کہ درست بات کے ساتھ کھڑا کیسے ہونا ہے۔
آج کا انسان علم کے اعتبار سے پہلے سے کہیں زیادہ آگے ہے۔ معلومات چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ ہم دنیا کو تو جاننے لگے ہیں، خود کو جاننا بھول گئے ہیں۔ ہمیں دوسروں کی غلطیاں فوراً دکھائی دیتی ہیں، مگر اپنے کردار کے آئینے میں جھانکنے کی فرصت نہیں۔
حقیقی شعور کا آغاز وہیں سے ہوتا ہے جہاں انسان دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے ہاتھ کی باقی انگلیوں کو دیکھتا ہے۔ جہاں وہ یہ سوال کرتا ہے کہ معاشرہ میرے لیے کیا کر رہا ہے، اس سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ میں معاشرے کے لیے کیا کر رہا ہوں؟
انسان کا کردار ہی اس کے شعور کا سب سے بڑا آئینہ ہے۔ اصل انسان وہ ہے جو تنہائی میں بھی وہی ہو جو لوگوں کے درمیان نظر آتا ہے۔ جس کے پاس اختیار ہو مگر وہ انصاف کرے، جس کے پاس طاقت ہو مگر وہ کمزور کو سہارا دے، جسے اختلاف کا حق حاصل ہو مگر وہ دوسرے کی عزت پامال نہ کرے۔
شعور آنکھوں کے کھلنے کا نام نہیں، ضمیر کے جاگنے کا نام ہے۔ قومیں عمارتوں سے نہیں، بیدار انسانوں سے بنتی ہیں؛ معاشرے نعروں سے نہیں، کردار سے بدلتے ہیں۔ اور انقلاب ہمیشہ سڑکوں پر نہیں آتا، کبھی ایک بیدار ضمیر، ایک سچی سوچ اور ایک باکردار انسان بھی انقلاب کا آغاز بن جاتا ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف دنیا کو جگانے کی کوشش نہ کریں بلکہ اپنے اندر کے انسان کو جگائیں۔ کیونکہ جب انسان بیدار ہوتا ہے تو اس کا کردار بولتا ہے، جب کردار بولتا ہے تو معاشرہ بدلتا ہے، اور جب معاشرہ بدلتا ہے تو تاریخ ایک نئے باب کے لیے تیار ہوتی ہے۔
