Baaghi TV

ایران کا آبنائے ہرمز میں مزید بارودی سرنگیں بچھانے کا دعویٰ

تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں مزید بحری بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی مسلح افواج کی آپریشنل کوآرڈینیشن کے ذمہ دار خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ رات کے دوران کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے جنوب میں غیر قانونی بحری راستوں پر مزید بحری بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں۔

ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے ’’آبنائے ٹرمپ‘‘ رکھنے کی تجویز کا بھی طنزیہ انداز میں مذاق اڑایا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) صرف فوٹوشاپ کے ذریعے آبنائے کا نام تبدیل کرسکتی ہے۔

ایرانی ترجمان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ مسئلہ حل ہوگیا، اب امریکا فوٹوشاپ کے ذریعے ہی تیل بردار بحری جہازوں کو اس گزرگاہ سے گزار سکتا ہے۔

ایرانی دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ سمندری آمدورفت کے تمام راستوں سے بحری بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں، جبکہ تیل بردار بحری جہازوں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے سے متعلق اطلاعات کو گمراہ کن قرار دیا گیا تھا۔

دوسری جانب پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ دو تیل بردار بحری جہاز، جن کے عملے کو امریکی فوج کی ہدایت پر اتار دیا گیا تھا، غیر قانونی راستے سے گزرنے کے لیے امریکا کے اختیار میں دیے گئے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق بعد ازاں دونوں جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا کر دھماکے سے پھٹ گئے اور آگ کی لپیٹ میں آگئے۔

پاسداران انقلاب کا کہنا تھا کہ ایرانی بحریہ نے بارودی سرنگوں سے لیس گزرگاہ عبور کرنے کے خطرات سے پہلے ہی خبردار کیا تھا۔ تاہم جو بحری کمپنیاں قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے امریکا کے کہنے پر اپنے جہاز اس کے اختیار میں دیتی ہیں، ان کے لیے اضافی سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز امریکا کے کنٹرول میں ہے۔ ایک صحافی کے سوال پر ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے ’’آبنائے ٹرمپ‘‘ رکھ دینا چاہیے۔

ایران پر ممکنہ مزید حملوں سے متعلق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران پر ایک اور حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم ایران کے خلاف حملوں کی نئی مہم زیادہ عرصے تک جاری نہیں رہے گی۔ ان کے مطابق ایران ریڈار اور میزائل سسٹمز دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

More posts