Baaghi TV

ننکانہ صاحب، گوردواروں کو جانے والی مرکزی شاہراہ کی تعمیر سست روی کا شکار

ننکانہ صاحب (احسان اللہ ایاز، باغی ٹی وی نامہ نگار) کیپٹن حسنین نواز شہید روڈ کی تعمیر و بحالی اور بیوٹیفکیشن کا منصوبہ شدید سست روی کا شکار ہو گیا، جبکہ بابا گورو نانک دیو جی کے جنم دن کی عالمی تقریبات قریب آنے کے باوجود منصوبے پر ذرائع کے مطابق 10 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہو سکا، جس پر شہری حلقوں نے انتظامی نگرانی اور منصوبے کی بروقت تکمیل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کروڑوں روپے کی لاگت سے جاری یہ منصوبہ گوردوارہ جنم استھان سمیت ننکانہ صاحب کے اہم مذہبی مقامات کو جانے والے مرکزی راستے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شاہراہ کے اطراف گوردوارہ جنم استھان، گوردوارہ تنبو صاحب، گوردوارہ پانچویں و چھٹی پادشاہی، گوردوارہ مال جی صاحب اور گوردوارہ کیارہ صاحب سمیت اہم گوردوارے واقع ہیں۔دنیا بھر سے سکھ یاتری ہر سال بابا گورو نانک دیو جی کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے ننکانہ صاحب پہنچتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق 2026 میں جنم دن کی تقریبات 24 نومبر کو ہوں گی، جبکہ نومبر کے دوران سکھ یاتریوں کی بڑی تعداد کی آمد متوقع ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر تعمیراتی کام اسی رفتار سے جاری رہا تو عالمی سطح پر اہمیت رکھنے والے مذہبی تہوار کے موقع پر سکھ یاتریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

معتبر ذرائع کے مطابق متعلقہ افسران کی جانب سے منصوبے کے باقاعدہ اور مؤثر سائٹ وزٹس نہ ہونے کے باعث تعمیراتی کام کی رفتار اور نگرانی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ موجودہ صورتحال میں میونسپل آفیسر آئی اینڈ ایس حسیب احمد کی نگرانی اور ذمہ داری بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ منصوبے کے تعمیراتی معیار، رفتار اور موقع پر نگرانی میں متعلقہ شعبے کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔شہری حلقوں نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب رعنا حمید سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کی پیش رفت کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے، موقع پر معائنہ کیا جائے اور متعلقہ افسران کو واضح ٹائم لائن کے مطابق دن رات کام مکمل کرنے کا پابند بنایا جائے۔

شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ گوردوارہ جنم استھان سمیت اہم مذہبی مقامات کو جانے والی اس مرکزی شاہراہ کے منصوبے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کریں، تاکہ منصوبہ مقررہ وقت پر معیاری انداز میں مکمل ہو اور دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

More posts