دور کے ڈھول واقعی سہانے اور دل موہ لینے والے ہوتے ہیں ۔ لیکن نزدیک سے سنیں تو اسی ڈھول کی آواز بے سری لگتی ہے۔ ہماری حکومتیں بھی ہمیں دور کے ڈھول سنا کر اپنی کارکردگی کا ڈھنڈورا پیٹتی ہیں۔ ایسے دور ازکار منصوبے بنائے جاتے ہیں جن کی چمک دمک نظر کو خیرہ کرتی ہے۔ لیکن ان میں دور اندیشی اور مستقبل بینی کا فقدان ہوتا ہے ۔ حال ہی میں حکومت پنجاب نے طلباء کی تعلیمی بڑھوتری کے لیے انہیں ای۔ بائکس دینے کا اعلان کیا ہے ۔ چنانچہ "سی ایم مریم نواز الیکٹرک بائیک سکیم” کے تحت پنجاب کے طلباء کو سوا لاکھ سے زائد ای بائکس ملیں گی۔ اب نظر بظاہر یہ سکیم بڑی شاندار ہے جس کا مقصد طلباء کی تعلیمی کارکردگی کو دو چند کرنا ہے۔ لیکن اگر اس سکیم کا بغور جائزہ لیں تو یہ طلباء کے لئے افیون سے کم نہیں ۔ ہمارے تعلیمی نظام کی حالت پہلے ہی خاصی دگر گوں ہے۔ موبائل کی یلغار نے طلباء کا کتاب و قلم سے رشتہ انتہائی کمزور کر رکھا ہے ۔ اب جب انہیں ای بائکس ملیں گی تو وہ سکول سے واپسی پر گروہ در گروہ آوارہ گردی کرتے پھریں گے ۔ بائکس کے لیے پٹرول تو چاہیے گا نہیں لہذا ان کی مٹر گشت پر کوئی قدغن نہیں ہو گی۔ پڑھائی کی بجائے وہ ای بائکس پر قلانچیں بھرتے پھریں گے۔ والدین کے لیے یہ ای بائکس خواہ مخواہ پریشانی کا باعث بنیں گی جن کی وجہ سے ان کے نور نظر گھروں سے دور بلا وجہ پھرتے رہیں گے۔
اس کی بجائے کیا ہی بہتر ہوتا کی پنجاب کے سرکاری سکولوں کو الیکٹرک بسیں فراہم کی جاتیں جو طلباء کو گھروں سے سکول تک سفری سہولت مہیا کرتیں۔ والدین بھی مطمئن رہتے اور طلباء کا وقت بھی بچتا۔ لیکن کیا کیا جائے ہمارے حکمران وقتی اور سستی شہرت کو دور اندیشی اور مستقبل کی سوچ پر ترجیح دیتے ہیں ۔
