گزشتہ دنوں انٹر نیشنل ھیومن رائٹس مومنٹ کی تقریب کے سلسلہ میں مجھے تلہ گنگ جانا ہوا،یہ تقریب معصوم بچوں کے بارے آگاہی تحفظ کے سلسلہ میں سیمینار تھا ،اس تقریب کی صدارت بھی بندہ ناچیز نے کی اس تقریب کا مقصد والدین کو بچوں کے تحفظ ، تربیت ، تعلیم ، اور انسانی حقوق کی آگاہی تھا ،اس تقریب میں سیاسی و سماجی تنظیموں کے سر براہان کے علاؤہ تلہ گنگ سے کثیر تعداد میں والدین نے شرکت کی،
در اصل ضلع تلہ گنگ میں اس وقت معصوم بچوں کے اغوا اور جنسی ہرا سگی کے حادثات آئے روز ہو رہے تھے جس کے لئے ایسی تقریب کا انعقاد انتہائی اہم حیثیت کا حامل تھا اس تقریب میں اسٹنٹ کمشنر تلہ گنگ ، ڈی ایس پی تلہ گنگ نے بھی شرکت کرنی تھی لیکن کسی سرکاری اہم میٹنگ کی وجہ سے دونوں افسران اس تقریب میں شرکت نہ کر پائے، ضلع تلہ گنگ کی انتظامیہ انٹر نیشنل ھیومن رائٹس مومنٹ نے انتہائی اہم سیمینار منعقد کروا کر انسانی حقوق کی پاسداری کا حق ادا کر دیا۔
تلہ گنگ کی بات ہو تو عمار یاسر کا نام نہ آئے یہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ سابقہ ایم پی اے حافظ عمار یاسر تلہ گنگ کا ہیرو سیاست دان ہے جس نے تلہ گنگ کو ضلع بنانے میں اہم کردار ادا کیا، سیاست کا شملہ وقت کے ساتھ ساتھ مختلف سر بدلتا ہے اس کے بدلنے کی وجہ کچھ یوں ہے کہ بڑے شہروں میں سیاست دان کا چناؤ۔ برادری ازم نہیں کرتا بلکہ کسی وزیر ایم پی اے کی کار گردگی پر ہوتا ہے یا پھر دوستی یاری یا بڑی سرکار سے خاص تعلق سے ہوتا ہے .مضافات میں اصل مزہ سیاست کا پایا جاتا ہے جہاں کار گردگی نہیں بلکہ چناؤ برادری کے فیصلے پر ہوتا ہے دیہاتوں میں برادری ازم انتہائی اہم اور سیاست کا ستون ہوتا ہے برادری جب چاہے جس کو چاہے ہرا دے جتوادے، کچھ ایسی ہی ہوٹل سیاست اور تھڑا سیاست کی خبریں چلتی رہتی ہیں جن میں کبھی کبھی تو پورا سچ ہوتا ہے اور کبھی کبھی پورا جھوٹ اور پراپیگنڈا ہوتا ہے،
ایسی ہی خبر گزشتہ دنوں ہونے والی تقریب کے بعد علاقائی لوگوں میں تھوڑی تھوڑی سیاسی ہلچل سے ملی جس کا لب لباب مجھے جو حاصل ہوا وہ یو نین کونسل ٹہی تلہ گنگ کی برادری ننھیال خاندان کے متعلق آواز تھی کہ حافظ عمار یاسر کا خاندان دو دھڑوں میں تقسیم ہو گیا ہے خاندان کے اپنے سیاسی اختلافات ہیں جس کی وجہ حافظ عمار یاسر کو شاید خاندان کی جانب وہ سیاسی طاقت نہ مل سکے جو اسے پہلے ملی تھی شاید اس کی وجہ حافظ حافظ عمار یاسر کی وطن سے دوری ہو ۔
یونین کونسل ٹہی کی سیاست میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ مقامی سیاسی حلقوں میں ننھیال خاندان کے اندر اس خاندان کے حوالے سے پیدا ہونے والی یہ صورتحال اب محض گھریلو معاملہ نہیں رہی بلکہ سیاسی بیٹھکوں، محفلوں اور انتخابی صف بندیوں میں بھی موضوعِ بحث بن چکی ہے۔تاہم حلقے اس تاثر سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ معاملہ صرف سیاسی عدم موجودگی کا نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی خاندانی، تنظیمی اور مقامی سیاسی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔یعنی سوال اب صرف یہ نہیں کہ اختلاف ہے یا نہیں؟
بلکہ سوال یہ ہے کہ اختلاف کی اصل وجہ کیا ہے، حاجی عمر حبیب اور حاجی طلحہ زبیر بھی سوالات کی زد میں ہیں دوسری جانب ان کے حامی اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے اسے محض قیاس آرائی قرار دے سکتے ہیں۔
ووٹرز ٹہی میں نئی سیاسی صف بندی کی سرگوشیاں کرتے ملتے ہیں اور یہی وجہ ہے ایم پی اے حافظ عمار یاسر کا سیاسی مستقبل خطرے میں ہے ،اگر ننھیال خاندان کی مبینہ تقسیم مستقل دھڑے بندی میں تبدیل ہوگئی تو اس کا سب سے بڑا سیاسی امتحان حافظ عمار یاسر کی قیادت کا ہوگا۔ٹہی کی سیاسی نظریں اب حافظ عمار یاسر کی طرف ہیں۔کیا وہ خاندان کے دونوں حصوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مبینہ خلیج ختم کر سکیں گے یا نہیں۔ یہ تو مجھے معلوم نہیں مگر انٹر نیشنل ھیومن رائٹس مومنٹ کی تقریب برائے تحفظ اطفال کے اختتام پر نئے عہدہ دران کو انکے تقرر نامے تقسیم کئے گئے ، بے لوث انسانی خدمات پر عرفان اعوان کو ،،محسن انسانیت ،، ایوارڈ سر ٹیفکیٹ ، اور سینئیر وائس چیئرمین پنجاب ظفر گوندل کو ،،اپریسیشن ،، سر ٹیفکیٹ ، سے نوازا۔گیا ایس ایچ او تلہ گنگ امان اللہ کو انکی اعلی کار گر دگی پر اپریسیشن سر ٹیفکیٹ سے نوازا گیا اس طرح مختلف تنظیم کے عہدہ دران کو بھی انکی انسانی خدمات پر سراہا گیا ۔
