6 ستمبر 1965ء کو بھارت نے بغیر اعلانِ جنگ کرکے پاکستان کی بین الاقوامی سرحد عبور کر کے لاہور اور قصور کے محاذوں پر حملہ کر دیا۔ یہ دن پاکستان میں یومِ دفاع کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس 17 روزہ جنگ میں پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج نے متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ اس جنگ میں مسلمان سپاہیوں اور افسران کے ساتھ اقلیتی (خصوصاً مسیحی اور کچھ ہندو) افسران اور سپاہیوں نے بھی شاندار خدمات سر انجام دیں۔ ان کی قربانیاں اور بہادری اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ وطن کی حفاظت مذہب سے بالاتر ہے۔ ISPR کے مطابق 1965ء کی جنگ میں تین مسیحی اہلکار شہید ہوئے۔6 ستمبر 1965ء کی دوپہر کو نمبر 5 سکواڈرن کے فلائٹ لیفٹیننٹ سیسل چودھری نے سکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی کی قیادت میں ہلواڑا ایئر بیس پر حملے میں حصہ لیا۔ دشمن کے ہنٹر طیاروں کے ساتھ فضائی جنگ میں جب رفیقی کے گن جام ہو گئے تو سیسل چوہدری نے لیڈ سنبھالی اور دشمن کے علاقے میں تقریباً 60 میل اندر دو ہنٹر طیارے مار گرائے۔ 15 ستمبر کو انہوں نے ایک کینبرا بمبار بھی تباہ کیا۔ سیالکوٹ محاذ پر بھی انہوں نے قریبی فضائی مدد فراہم کی۔ ان کی بہادری پر ستارہِ جرات اور تمغہِ جرات سے نوازا گیا۔
ایئر کموڈور نظیر لطیف (بل لطیف، مسیحی)۔نمبر 31 بمبر ونگ کے کمانڈر کے طور پر انہوں نے رات کے خطرناک مشنز کی قیادت کی۔ 8 ستمبر کی رات کو امبالا ایئر بیس پر حملے میں ان کا طیارہ اینٹی ایئر کرافٹ فائر سے متاثر ہوا لیکن انہوں نے مشن مکمل کیا اور محفوظ واپس آئے۔ انہوں نے ادیم پور، پٹھانکوٹ، سرسا، سری نگر، جودھ پور اور یہاں تک کہ آگرہ پر بھی بمباری کی۔ ان کی خدمات پر ستارہِ جرات (دو بار، 1965 اور 1971) سے نوازا گیا۔
ایئر وائس مارشل ایرک گورڈن ہال (مسیحی) چکلہ بیس کے کمانڈر کے طور پر انہوں نے سی-130 ہرکیولس ٹرانسپورٹ طیاروں کو بھاری بمبار میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ 11 ستمبر 1965ء کو انہوں نے خود کٹھوا بریج پر پہلی بمباری مشن کی قیادت کی جو بھارتی سپلائی لائنوں کو کاٹنے کے لیے اہم تھا۔ بعد میں بی آر بی کینال کے کنارے بھارتی بھاری توپوں پر بھی درست بمباری کی گئی۔ ان کی اختراع اور بہادری پر ستارہِ جرات سے نوازا گیا (کچھ ذرائع میں ہلالِ جرات اور ہلالِ امتیاز کا بھی ذکر ہے)۔
سکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی (مسیحی)بی-57 کینبرا بمبار کے نیوی گیٹر کے طور پر انہوں نے 1965ء میں متعدد کامیاب آپریشنل مشنز میں حصہ لیا۔ ان کی خدمات پر تمغہِ جرات دیا گیا۔ (1971ء میں شہادت پر ستارہِ جرات بھی ملا)۔
سکواڈرن لیڈر ولیم ڈیزمنڈ ہارنی (مسیحی)انہوں نے رضاکارانہ طور پر 14 بمباری مشنز کیے جن میں ادیم پور، ہلواڑا، جودھ پور، پٹھانکوٹ اور امبالا شامل تھے۔ ان کی بہادری پر ستارہِ جرات سے نوازا گیا۔
ونگ کمانڈر مرون لیسلی مڈل کوٹ (مسیحی)1965ء میں کراچی کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا اور “ڈیفنڈر آف کراچی” کے لقب سے مشہور ہوئے۔ انہیں ستارہِ جرات دیا گیا۔بری فوج کے اقلیتی افسران مسیحی افسران نے مختلف محاذوں پر خدمات انجام دیں:
کرنل ٹریسلر (چمب سیکٹر)
کرنل کے ایم ڈبلیو ہربرٹ (ظفر وال اور شکار گڑھ)
کرنل کے ایم رائے (بڈیال)
بریگیڈیئر انتھونی لیمب (کھیموکرن)
بریگیڈیئر آسٹن، کرنل ایل سی روتھ، لیفٹیننٹ کرنل ڈیرک جوزف، میجر رامون ،میجر رامون اور بریگیڈیئر آسٹن کو تمغہِ بسالت سے نوازا گیا۔ میجر جنرل جولین پیٹر (بعد میں جنرل) نے بھی خدمات انجام دیں۔ ہندو افسر ایئر کموڈور بلونت کمار کا بھی ذکر ملتا ہے جنہوں نے پاکستان کے دفاع میں حصہ لیا۔
احمدی افسران (بعض ذرائع میں اقلیتی کے طور پر ذکر)
میجر جنرل افتخار جانجوا (رن آف کچھ کے ہیرو، اپریل 1965ء میں بریگیڈ کمانڈر کے طور پر)۔لیفٹیننٹ جنرل عبدالعلی ملک (چونڈہ محاذ پر 24 انفنٹری بریگیڈ کے کمانڈر، ہلالِ جرات)۔
ان افسران اور سپاہیوں کو ستارہِ جرات، تمغہِ جرات، تمغہِ بسالت اور دیگر جنگی تمغوں سے نوازا گیا۔ ان کی خدمات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج میں مذہبی تفریق نہیں بلکہ وطن پرستی بنیادی ہے۔ 1965ء کی جنگ میں اقلیتی برادری کے افراد نے ثابت کیا کہ وہ قوم کے حقیقی سپوت ہیں۔ ان کی قربانیاں اور کارنامے آج بھی یومِ دفاع پر یاد کیے جاتے ہیں۔
یہ تمام واقعات سرکاری اور معتبر عسکری ذرائع، آئی ایس پی آر کے ریکارڈ اور تاریخی مضامین پر مبنی ہیں۔ اقلیتی ہیروز کی یہ داستان پاکستان کی قومی یکجہتی کی روشن مثال ہے۔
لیکن یہ سوال اہم ہے، اور اس کے پیچھے تاریخی، سیاسی اور تعلیمی حقائق ہیں “ کہ پاکستان کے سرکاری نصاب (خصوصاً پاکستان اسٹڈیز، تاریخ، سوشل سٹڈیز اور اردو کی کتابوں) میں 1965ء کی جنگ کے ہیروز کا ذکر زیادہ تر مسلمان افسران جیسے میجر عزیز بھٹی، ایم ایم عالم، سرفراز رفیقی وغیرہ تک محدود رہتا ہے” ۔ اقلیتی (مسیحی، ہندو وغیرہ) افسران جیسے سیسل چودھری، نظیر لطیف، ایرک گورڈن ہال، پیٹر کرسٹی، ولیم ہارنی اور دیگر کا تفصیلی ذکر شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔ یومِ دفاع پر بعض اخباری مضامین، آئی ایس پی آر کی تقریبات یا خصوصی کتابوں میں ان کا تذکرہ ہوتا ہے، لیکن یہ منظم طور پر سکول/کالج کے نصاب کا حصہ نہیں۔کیوں نہیں شامل؟کئی آزاد مطالعات (جیسے ایس ڈی پی آئی کی “دی سبٹل سب ورشن”، یو ایس سی آئی آر ایف رپورٹس اور سیسل اینڈ آئرس چودھری فاؤنڈیشن کی حالیہ رپورٹس) اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ 1970 کی دہائی کے بعد (خصوصاً ضیاء الحق دور) نصاب کو “اسلامی نظریاتی” رخ دیا گیا۔ نصاب کا مقصد نوجوان نسل میں اسلامی جذبہ، جہادی روح اور قومی شناخت کو مضبوط کرنا تھا۔ جنگوں کو “جہاد” اور “مسلمان فوجیوں کی قربانی” کے طور پر پیش کیا گیا۔جبکہ اقلیتی کردار کو یا تو نظرانداز کیا گیا یا تاریخ میں انہیں ثانوی حیثیت دی گئی۔ نصاب میں اکثر غیر مسلموں کا ذکر دشمنی یا حاشیے پر ہوتا ہے، جبکہ مسلمان فاتحین اور ہیروز کو مرکز میں رکھا جاتا ہے۔نصاب کی جگہ محدود ہوتی ہے، اس لیے “مرکزی” بیانیہ (مسلمان اکثریتی قربانی) کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مذہبی جماعتوں کا سیاسی دباؤ بھی اس بیانیے کو مضبوط رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اقلیتی طلبہ خود کو قومی کہانی میں غیر مرئی محسوس کرتے ہیں، اور اکثریتی طلبہ میں اقلیتوں کے بارے میں تعصب پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
یہ “واضح تفریق” ہے اس معنی کے کہ نتیجہ اقلیتوں کی نمائندگی کی کمی اور قومی بیانیے کی یک طرفہ پیشکش ہے۔ تاہم، یہ ہمیشہ جان بوجھ کر نفرت پھیلانے کی پالیسی نہیں تھی بلکہ قومی شناخت کی تعمیر کے ایک مخصوص نظریاتی راستے کا نتیجہ ہے۔
کیوں شامل کرنا ضروری ہے؟ تاریخی درستگی، اقلیتی افسران نے واقعی بہادری دکھائی، تمغے حاصل کیے اور وطن کی حفاظت کی۔ ان کا ذکر نہ کرنا تاریخ کو نامکمل اور یک طرفہ بناتا ہے۔
قائداعظم کا ویژن مساوات پر مبنی تھا۔ پرچم کا سفید حصہ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ جب سکول کے بچے سنیں گے کہ سیسل چودھری نے دشمن کے طیارے مارے، ایرک ہال نے سی-130 کو بمبار بنایا، یا دیگر افسران نے محاذ پر لڑائی لڑی، تو وہ سمجھیں گے کہ وطن پرستی مذہب سے بالاتر قومی یکجہتی کا نتیجہ تھا اور ہے۔ مذہبی جماعتوں کی جانب سے مسیحیوں وغیرہ کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کا رجحان نصاب کی کمی سے مزید مضبوط ہوتا ہے۔ مثبت کرداروں کا ذکر اس شکوک کو کمزور کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ اقلیتیں بھی وطن کے لیے جان قربان کر سکتی ہیں۔ اور اس تاثر کو ابھارنے کے لیے سوشل میڈیا اور قومی خبروں کے ساتھ ساتھ نصاب میں ان کا زکر تعصب کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔آئین کے آرٹیکل 22، 25، 36 وغیرہ مساوات اور اقلیتی حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔ نصاب کو بھی ان اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ آئینی تقاضے بھی پورے ہوتے ہوئے دکھائی دیں۔ حالیہ برسوں میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے،پنجاب اور سندھ میں اقلیتی طلبہ کے لیے مذہبی تعلیم کی کتابیں منظور ہوئی ہیں، اور بعض کتابوں میں اقلیتی کرداروں کا ذکر بڑھانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ لیکن جنگ کے ہیروز کا منظم اندراج ابھی بھی کمزور ہے۔اگر نصاب میں ان ہیروز کو شامل کیا جائے تو نہ صرف اقلیتی طلبہ میں خوداعتمادی بڑھے گی بلکہ اکثریتی نوجوان بھی زیادہ متوازن اور روادار بنیں گے۔ یہ تفریق ختم کرنے، قومی یکجہتی مضبوط کرنے اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ایک عملی قدم ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج میں اقلیتوں کی خدمات ایک زندہ ثبوت ہیں کہ وفاداری اور قربانی مذہب کی قید سے آزاد ہیں۔ نصاب میں ان کا باقاعدہ ذکر اس حقیقت کو اگلی نسلوں تک پہنچانے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
