Baaghi TV

6ستمبر، سفید چادر ،تحریر:سیدہ شبانہ رضوی

​مہرین نے ایک بار پھر الماری سے وہ سبز فلائنگ سسٹ نکالا اور اسے اپنے چہرے سے لگا کر گہرا سانس لیا۔ کپڑے میں اب بھی شاہ میر کے پرفیوم اور بارود کی مدہم سی بو بسی ہوئی تھی۔ ابھی تو صرف تین ماہ ہوئے تھے اس کی شادی کو… ابھی تو اس کے ہاتھوں پر لگی حنا کا رنگ بھی پوری طرح نہیں اترا تھا، لیکن اس کی زندگی کا ہر رنگ سفید چادر کی نذر ہو چکا تھا۔

​اکیس سال کی عمر، جو خواب دیکھنے اور زندگی جی لینے کی ہوتی ہے، اس عمر میں مہرین ایک ویران کمرے میں بیٹھی اپنی حسرتوں کا ماتم کر رہی تھی۔ وہ روز صبح اٹھتی، عادت کے مجبور ہاتھ شاہ میر کی وردی استری کرنے کے لیے استری بورڈ کی طرف بڑھتے، اور پھر دم بخود رہ جاتے۔ باورچی خانے میں چائے کا دوسرا کپ بناتے ہوئے اچانک یاد آتا کہ اب چائے کی پیالی سنبھالنے والا وہ شخص اس دنیا میں نہیں رہا جو پیالی تھامتے ہی اس کی پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کیا کرتا تھا۔

​”تم نے تو کہا تھا 6 ستمبر کو میں تمہارے سر کے اوپر سے طیارہ اڑا کر تمہیں سلامی دوں گا…” مہرین نے ہچکیوں کے درمیان فلائنگ سوٹ کو اپنے سینے سے بھیچتے ہوئے کہا، "تم نے سلامی تو دی شاہ میر، لیکن پرچم میں لپٹ کر… مجھے یوں زندہ درگور کر کے؟”

​شادی کے فوراً بعد جب سرحدوں پر کشیدگی بڑھی اور شاہ میر کو بلاوا آیا، تو مہرین نے روتے ہوئے اس کا پلّو پکڑا تھا: "مجھے ڈر لگتا ہے شاہ میر…”
شاہ میر نے اس کی کلائیوں میں چھنکتی چوڑیوں کو چوم کر مسکراتے ہوئے کہا تھا: "ایک پائلٹ کی بیوی کو بزدل نہیں ہونا چاہیے۔ میں واپس آؤں گا، تم سے کیے ہر وعدے کو پورا کرنے۔”

​لیکن 6ستمبر کی اس شومئی قسمت صبح، دشمن کی گولی نے شاہ میر کے طیارے کو ہٹ کیا۔ شاہ میر چاہتا تو بقیہ آبادی سے دور کود سکتا تھا، لیکن اس بہادر نو بہاتے جوان نے بستی کو بچانے کی دھن میں اپنے جہاز کو صحرا کی طرف موڑ دیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ شاہ میر کا جسدِ خاکی تو ملا، مگر مہرین کی پوری کائنات خاک میں مل گئی۔
​کمرے کے باہر سے لکڑی کی لاٹھی کی ‘ٹک ٹک’ کی آواز آئی۔ شاہ میر کے بوڑھے بابا، بادل خان، دھیرے دھیرے چلتے ہوئے کمرے کے دالان میں آ کر رک گئے۔ ان کے پیچھے ان کی بوڑھی بیوی فاطمہ کھڑی تھیں۔ ان دونوں بوڑھے ماں باپ کے لیے شاہ میر صرف ان کا اکلوتا بیٹا اور بڑھاپے کی واحد لاٹھی نہیں تھا، بلکہ ان کی عمر بھر کی تپسیا کا پھل تھا۔

​بادل خان نے جب مہرین کو فرش پر پڑے شاہمیر کے ہیلمٹ اور سسٹ سے لپٹ کر روتے دیکھا، تو ان کی اپنی ضبط کی دیواریں ڈھے گئیں۔ وہ شخص جو بیٹا دفناتے وقت بھی نہیں رویا تھا، آج اپنی جوان بیوہ بہو کی حسرتوں کو دیکھ کر گھٹنوں کے بل گر پڑے۔
​”بیٹی…” بادل خان کی لرزتی ہوئی آواز آئی، "ہمیں معاف کر دو مہرین… ہم تمہارے مجرم ہیں…”
​مہرین نے چونک کر سر اٹھایا۔ بوڑھے باپ کی آنکھوں سے بہتے آنسو ان کی سفید داڑھی کو بھگو رہے تھے۔
​”بابا! آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟” مہرین نے تڑپ کر انہیں سنبھالا۔

​”نہیں بیٹی!” بادل خان نے مہرین کے سر پر اپنے کانپتے ہاتھ رکھے، "تمہاری عمر ہی کیا ہے؟ تم نے ابھی دیکھا ہی کیا ہے؟ ہمارے اکلوتے بیٹے کی قربانی نے تو ہمیں شہید کا باپ بنا دیا، لیکن تمہیں اس عمر میں بیوہ بنا دیا۔ تمہاری ان اجڑی ہوئی چوڑیوں اور اس سفید چادر کا بوجھ ہمارے بوڑھے کاندھوں سے اٹھایا نہیں جاتا۔ ہماری زندگی تو ختم ہو چکی، مگر تمہاری حسرتیں، تمہارے ارمان… ان کا کیا حساب دیں ہم رب کو؟”
​فاطمہ نے بھی آگے بڑھ کر مہرین کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ دونوں بوڑھی ہستیاں اور وہ جوان بیوہ ایک دوسرے کو تھامے یوں بلک بلک کر روئیں کہ کمرے کی بے زبان دیواریں بھی کانپ اٹھیں۔

​باہر گلی میں 6 ستمبر کا جشن جاری تھا۔ سپیکر پر ملی نغمے گونج رہے تھے: "اے وطن کے سجیلے جوانو…”
لوگ شہیدوں کی شجاعت پر نعرے لگا رہے تھے، مگر اس چھوٹے سے گھر کے اندر، اکلوتے بیٹے کے بوڑھے ماں باپ اور ایک تین ماہ کی دلہن اپنی اجڑی ہوئی دنیائے حسرت کا ماتم کر رہے تھے۔ مہرین نے کھڑکی سے اوپر دیکھا، چودھویں کا چاند بادلوں کے پیچھے چھپ رہا تھا—بالکل اسی طرح جیسے اس کی زندگی کی تمام خوشیاں اور حسرتیں ہمیشہ کے لیے اندھیروں میں روپوش ہو چکی تھیں۔…..

More posts