اسکرین کی چمکتی دنیا بچوں کے بچپن پر ایک خاموش حملہ ہے آج کے دور میں موبائل فون ٹیبلیٹ ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل مواد بچوں کی معصومیت اور قدرتی نشوونما کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے یہ دلکش دائرہ تعلیم تفریح اور رابطے کا وعدہ تو کرتا ہے مگر اس کی روشنی کے نیچے بچوں کے دماغی جسمانی جذباتی اور سماجی بڑھوتری پر گہرا اثر پڑ رہا ہے والدین کی مصروفیات اور سوشل میڈیا کی لت نے بچوں کو حقیقی دنیا سے دور کر کے مصنوعی دائرے میں قید کر دیا ہے یہاں حرکت کی جگہ بے حرکتی اپنے تخیل کی جگہ تیار کردہ مواد اور حقیقی رشتوں کی جگہ مصنوعی رابطے غالب ہیں یہ محض عادت نہیں بلکہ بچوں کی صحت اور مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ابتدائی سالوں میں بچوں کا دماغ قدرتی تجربات حقیقی کھیل اور آمنے سامنے کی بات چیت سے بہتر بڑھتا ہے مگر اسکرینوں کا زیادہ استعمال اس عمل کو روک رہا ہے اور دماغ میں نشے جیسی لت پیدا کر رہا ہے
یہ مسئلہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو ویڈیو کالز کے علاوہ اسکرین استعمال نہیں کرنا چاہیے دو سے پانچ سال کے بچوں کے لیے ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے بڑے بچوں کے لیے تفریحی استعمال دو گھنٹوں تک محدود رکھیں مگر پاکستان میں شہروں اور دیہاتوں کے بچے اس حد سے کہیں زیادہ وقت اسکرینوں پر گزار رہے ہیں مطالعات بتاتے ہیں کہ سکول جانے والے بچے روزانہ چار سے سات گھنٹے یا اس سے زیادہ ڈیوائسز پر وقت صرف کرتے ہیں تعطیلات میں یہ تعداد اور بڑھ جاتی ہے کورونا وبا کے وقت آن لائن کلاسوں نے اس رجحان کو تیز کیا اب بہت سے گھروں میں اسکرین بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی بن چکی ہے اس وجہ سے بچے باہر کھیلنے دوڑنے اور حقیقی ماحول سے سیکھنے کے بجائے گھر کے اندر بیٹھے رہتے ہیں
جسمانی نقصان اس حملے کا سب سے واضح پہلو ہے انسانی جسم حرکت کے لیے بنایا گیا ہے مگر اسکرینوں کی وجہ سے بچے گھنٹوں ایک جگہ بیٹھے رہتے ہیں اس سے موٹاپے کا خطرہ بڑھتا ہے زیادہ بیٹھنے اور غیر ضروری کھانے سے وزن بڑھتا ہے دل کی بیماریوں کا امکان بڑھتا ہے اور جسم کمزور ہوتا ہے آنکھوں کی صحت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے قریب کی نظر خشک آنکھیں اور آنکھوں کی تھکاوٹ عام ہو گئی ہے بڑے شہروں کے ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ شہری بچوں میں قریب کی نظر تیزی سے بڑھ رہی ہے کیونکہ وہ قریبی فاصلے پر اسکرین دیکھتے رہتے ہیں اور کمرے میں روشنی مناسب نہیں ہوتی نیلی روشنی نیند کے ہارمون کو خراب کرتی ہے نتیجے میں بچے دیر سے سوتے ہیں نیند ٹوٹی پھوٹی رہتی ہے اور اگلے دن تھکاوٹ اور توجہ کی کمی ہوتی ہے ہاتھ پاؤں کی نشوونما جو دوڑنے چڑھنے اور حقیقی چیزوں سے کھیلنے سے ہوتی ہے اب کمزور پڑ رہی ہے بچوں کے ماہرین لکھائی میں مشکل توازن کی کمی اور ہم آہنگی کے مسائل والے بچوں کی تعداد میں اضافہ دیکھ رہے ہیں
علمی اور تعلیمی اثرات بھی فکر انگیز ہیں اگرچہ کچھ مواد تعلیمی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے مگر زیادہ تر مواد توجہ بکھیرتا ہے اور گہری سوچ کم کرتا ہے بچوں کی ایک کام پر دیر تک توجہ دینے کی صلاحیت کم ہو رہی ہے پڑھنے کی برداشت گھٹ رہی ہے اور تخلیقی صلاحیتیں محدود ہوتی جا رہی ہیں انسانی بات چیت دماغی رابطے مضبوط کرتی ہے مگر اسکرینوں کا غیر فعال مواد زبان سیکھنے میں تاخیر پیدا کرتا ہے چھوٹے بچوں میں الفاظ سیکھنے اور بات کرنے میں سست روی دیکھی جا رہی ہے تعلیم کے میدان میں بھی اسکرینوں نے فرق پیدا کر دیا ہے اساتذہ کہتے ہیں کہ کلاس میں بچوں کی توجہ کم ہو گئی ہے روایتی تعلیم کے ساتھ اسکرینوں کا زیادہ انحصار بچوں کو حقیقی سوچنے اور مسائل حل کرنے کی مشق سے دور کر رہا ہے
سماجی اور جذباتی نقصان سب سے گہرا ہے بچپن سماجی مہارتیں ہمدردی اور جذبات کنٹرول کرنے کا زمانہ ہوتا ہے آزادانہ کھیل بچوں کو بات چیت جھگڑا حل کرنے اور دوسروں کے ساتھ رہنے کی تربیت دیتا ہے مگر اسکرینوں نے ان مواقع کو کم کر دیا ہے سوشل میڈیا پر فلٹر والی تصاویر اور لائکس کی دوڑ بچوں میں موازنہ اور کم خود اعتمادی پیدا کر رہی ہے آن لائن دھمکیاں اور زہریلا مواد اضطراب اور اداسی بڑھا رہا ہے پاکستان میں ذہنی صحت کے ماہرین بتاتے ہیں کہ اسکرین کا زیادہ استعمال بچوں میں چڑچڑاپن الگ تھلگ رہنے اور جذباتی بے چینی بڑھا رہا ہے حقیقی دوستیاں کم ہو رہی ہیں جبکہ مجازی رابطوں نے ان کی جگہ لے لی ہے خاندانی وقت جیسے کھانے کی میز پر بات چیت بھی اسکرینوں کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے لڑکے گیمنگ کی طرف زیادہ جاتے ہیں یہ سب بچوں کی شخصیت کو کمزور بنا رہے ہیں اور انہیں زندگی کی حقیقی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں کر رہے
ثقافتی نقصان بھی بہت بڑا ہے پاکستان کی روایتی ثقافت میں بچپن پتنگ اڑانے گلیوں میں کرکٹ کھیلنے کہانیاں سننے اور گھریلو کاموں سے بھرا ہوتا تھا یہ سرگرمیاں تفریح کے ساتھ ساتھ اچھی اقدار اور برادری کا احساس بھی سکھاتی تھیں مگر اسکرینوں نے ان روایات کو کمزور کر دیا ہے بچے عالمی تیار کردہ مواد میں کھو جاتے ہیں جس سے مقامی زبان روایات اور اقدار متاثر ہو رہی ہیں بزرگوں کا احترام اور خاندانی رشتے کمزور پڑ رہے ہیں بچپن کی آزادانہ کھیلنے کی صلاحیت خطرے میں ہے اسکرینوں نے بچوں کو گھر کے اندر بند کر کے ان کی تخلیقی اور جسمانی طاقت محدود کر دی ہے
ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنیاں نشے جیسے فیچرز استعمال کرتی ہیں جیسے لامتناہی سکرولنگ اور خود بخود چلنے والا مواد یہ بچوں کی خود کنٹرول کی صلاحیت کم کرتے ہیں پاکستان میں قوانین موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد کمزور ہے آگاہی مہمات اور سخت قوانین کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کو برے مواد سے بچایا جا سکے
اس مسئلے کا حل ممکن ہے اگر سب مل کر کوشش کریں والدین سب سے اہم ہیں گھر میں اسکرین سے پاک وقت اور جگہیں بنائیں جیسے کھانے کی میز سونے کا وقت اور صبح کے پہلے گھنٹے والدین خود نمونہ بنیں اور بچوں کے ساتھ پارک جانا کتابیں پڑھنا گھر میں کھیلنا اور باہر نکلنا شامل کریں سکولوں میں باہر کی تعلیم فنون لطیفہ کھیل اور تخلیقی کاموں کو بڑھاوا دیں اساتذہ کو اسکرین کے اثرات کی تربیت دیں حکومت عوامی آگاہی مہمات چلائے مضبوط قوانین بنائے اور کمیونٹی پارکس پر سرمایہ کاری کرے برادریوں مساجد اور محلے والوں کو اسکرین سے پاک پروگرام کہانیوں کے حلقے اور کھیلوں کی ٹیمیں بنانی چاہییں تاکہ بچے حقیقی ماحول میں واپس آ سکیں
بچپن ایک مختصر دور ہے یہ حیرت تجسس اور خالص خوشی کا زمانہ ہے ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتا اسکرینوں کی چمک بچوں کو حقیقی دنیا سے دور کر رہی ہے جہاں وہ آزادانہ کھیل سکتے ہیں تجربات حاصل کر سکتے ہیں اور مضبوط بنیادوں پر بڑھ سکتے ہیں والدین معاشرہ اور حکومت کو مل کر اس خاموش حملے کا مقابلہ کرنا چاہیے ٹیکنالوجی کو صرف ایک محدود حیثیت دیں اور اسے بچوں کی زندگی کا حکمران نہ بننے دیں پاکستان کا مستقبل صحت مند ذمہ دار تخلیقی اور مضبوط نسل پر منحصر ہے جو حقیقی تجربات سے سیکھے یہ فیصلہ کا وقت ہے اگر آج سنجیدہ اقدامات کریں تو کل کا بچپن محفوظ رہے گا ورنہ آنے والی نسلیں اس خاموش چوری کا شکار رہیں گی آئیے سب مل کر حقیقی دنیا کی روشنی منتخب کریں جہاں بچے کھل کر جی سکیں اور معاشرے کا قیمتی سرمایہ بنیں
