7 ستمبر کا دن ہمارے گھر میں کسی عید کے دن سے کم نہیں کبھی نہیں ہوا۔ وجہ یہ ہوتی تھی کہ میرے والد صاحب کو پاک فضائیہ کی جانب سے ایئر شو کے لیے دعوت نامہ ملتا تھا اور دعوت نامہ ملتے ہی ایئر شو پر جانے کی تیاری شروع کر دیتے ہم نے کونسے کپڑے پہنے ہیں۔ اوہ یہ بتانا تو بھول گئی کہ فضائیہ سے دعوت ملتی کیوں تھی تو حضور والا اس کی وجہ تھی میرے والد گرامی تاج محمد چیف وارنٹ آفیسر پاکستان ائیر فورس ستمبر 1965 کی جنگ کے غازی تھے۔ الحمدللہ
میرے والد صاحب چیف وارنٹ آفیسر تاج محمد صاحب بتاتے تھے کہ میں ستمبر 1965 کی جنگ میں بدین ایئر فورس بیس صوبہ سندھ میں اپنے فرائض منصبی سر انجام دے رہا تھا ۔ بقول ابو جی کے بدین ایئر بیس پاک فضائیہ نے 1962 میں اس علاقے کی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے بنایا تھا کہ یہ بھارت کی سرحد کے قریب ہو اور بھارت کی فوجی نقل و حمل پر نظر رکھی جا سکے۔ اور اس کا فائدہ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران پاک فضائیہ کو بہت ہوا۔ کیونکہ یہ ایک ہائی ٹیک ریڈار سسٹم تھا جس کی رینج کوئی 300 سے 400 کلومیٹر تھی اور دشمن وطن کی طرف سے ہونے ولے ممکنہ حملے جو کراچی بندرگاہ پاک نیوی اور عام عوام پر کیے جا سکتے تھے اس بیس سے ناکام بنائے گئے۔

اپنے ستمبر 1965 کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بتاتے تھے کہ مجھ سمیت کسی فوجی کو موت کا کوئی خوف نہیں تھا اور میں تو ہر وقت وضو میں رہنے کی کوشش کرتا کہ شہادت ہو تو اللہ تعالٰی کے سامنے حاضری باوضو حالت میں ہو یہ ان کی ذاتی خواہش تھی۔ ہم فوجی جنگ کے دنوں میں اپنے گھر والوں کے ساتھ( ان دنوں میرے والد صاحب شادی شدہ نہیں تھے) زیادہ بات تو نہیں کر سکتے تھے لیکن دو بار بات کی تھی ان کی والدہ محترمہ یعنی میری دادی ماں روتی کہ میرے بڑے بیٹے ہوں پاکستان بھی عزیز ہے اور تم بھی عزیز ہو بس تم دونوں سلامت رہو ( اللہ تعالٰی نے ان کی دعا قبول کی ) اور میں نور جہاں کے جنگی ترانے سن سن کر روتی ہوں ہر وقت ریڈیو لگا کر رکھتی ہوں کہ ساتھ ساتھ پتہ لگتا رہے ۔
بقول میرے ابو جی کے جب تک جنگ جاری رہی صرف دو بار بات کی اپنی والدہ سے کہ میرا اس وقت بنیادی مقصد پاکستان کا دفاع تھا۔ اور اس میں کو کوتاہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔

اب سوچتی ہوں کیا حوصلہ اور صبر تھا ان فوجی جوانوں کا۔
ویسے مجھے بھی بچپن سے اپنے والد صاحب کی طرح فوج جوائن کرنے کا شوق تھا پر صد افسوس کہ شوق پورا نہ ہوا۔ بہرحال جو اللہ کو منظور۔
ابو جی کو غازی ہونے کی وجہ سے ہر سال پاک فضائیہ کی 7 ستمبر کی مین تقریب میں دعوت نامہ ملتا اور ساتھ ہم بھی جا کر اپنا خون گرماتے۔
اس دن میں اپنے پدر گرامی کو جتنا خوش دیکھتی جو خوشی سے ان کے چہرے کا رنگ بدل جاتا تھا آج بھی یاد آتا ہے۔ تو آنکھوں سے خوشی کے آنسو جاری ہو جاتے۔ 7 ستمبر کو خصوصی طور پر شکرانے کے نوافل پڑھتے کہ میں ستمبر 1965 میں اللہ کی مدد سے ثابت قدم رہا۔ کیا جذبہ حب الوطنی تھا۔
آج بھی ہماری بہادر افواج دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے کھڑے ہیں۔
آج 5 ستمبر 2026 کے خصوصی پروگرام میں ابھی تھوڑی دیر پہلے پی ٹی وی گلوبل پر لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق شہید کی والدہ اور بیوی کا انٹرویو دیکھا۔ اور شہید کی والدہ محترمہ کا جذبہ اور حوصلہ دیکھ کر تسلی ہوئی کہ ہماری قوم میں ابھی بھی وہ ہی جذبہ حب الوطنی موجود ہے مطلب پاکستان کا مستقبل روشن ہے انشاءاللہ
لہو وطن کا ہے جن کے دلوں میں
موج بفوج فضا کی وسعتیں ان کے لیے ہیں
تخت و تاج و جن کی ضرب سے لرزاں تھی دھرتیِ اغیار
انہیں غازیوں، شہیدوں کو سلامِ عقیدت آج
