7ستمبر 1974 کو آئین کے آرٹیکل 260 میں مندرجہ ذیل الفاظ کا اضافہ کیا گیا: "کوئی بھی شخص جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، نبوت کے کسی دعویدار کو یہ مانتا ہے کہ وہ نبوت کے دعویدار کو دوبارہ مسلمان نہیں سمجھا جائے گا۔ آئین یا قانون۔” یہ ایک متفقہ آئینی ترمیم تھی۔ مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہیں پڑا۔
اسی دن ملک کی قومی اسمبلی نے آئین میں دوسری ترمیم کے ذریعے احمدی/قادیانی کمیونٹی سے متعلق آئینی فیصلہ سنایا۔ تاہم اس تاریخی تناظر کے ساتھ ساتھ موجودہ دور میں پاکستان کی مذہبی اقلیتوں ، بالخصوص مسیحی اور ہندو برادری کو درپیش معاشرتی و قانونی چیلنجز پر بھی جامع جائزہ لینا وقت کی ضرورت ہے۔مئی 1974ء میں ربوہ ریلوے اسٹیشن کے واقعے کے بعد ملک بھر میں مذہبی و سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک تحریک کا آغاز ہوا، جس کے نتیجے میں معاملے کو آئینی و قانونی شکل میں حل کرنے کے لیے قومی اسمبلی کا رجوع کیا گیا۔وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں قائم حکومت نے اس معاملے کو پارلیمنٹ کے سپرد کیا۔ 30 جون 1974ء کو قومی اسمبلی کو ایک خصوصی کمیٹی (Committee of the Whole House) میں تبدیل کر دیا گیا۔اگست 1974ء کے دوران قادیانی اور لاہوری گروپ دونوں کے رہنماؤں کو پارلیمنٹ کے سامنے اپنے عقائد و نظریات پیش کرنے اور سوالات کے جوابات دینے کا موقع دیا گیا۔7 ستمبر 1974ء کو جب دوسری آئینی ترمیم پیش کی گئی تو اس کی منظوری کے لیے اقلیتی اراکین (جن میں مسیحی اراکین سی ایل سندر، جارج لوئس، جمی ڈیوڈ اور ہندو اراکین رانا چندر سنگھ، پوکر داس اور پریتم داس شامل تھے) نے بھی آئینی کارروائی کا حصہ بنتے ہوئے اس ترمیم کی حمایت میں ووٹ دیا۔
پاکستانی معاشرے میں اقلیتوں کا موجودہ مقام اور چیلنجز
قیامِ پاکستان کے وقت بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947ء کی اپنی تاریخی تقریر میں تمام شہریوں کو مکمل مذہبی آزادی کا یقین دلایا تھا:
اگرچہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 20 تمام شہریوں کو اپنے مذہب کی پیروی اور اس کی ترویج کی مکمل آزادی کی ضمانت دیتا ہے، تاہم معاصر دور میں اقلیتی برادریوں کو مختلف قسم کے معروضی اور ساخت جاتی (structural) مسائل کا سامنا ہے:جبری مذہب تبدیلی اور کمسن بچیوں کے مسائل ،سندھ اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں ہندو اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی کم سن لڑکیوں کے جبری تبادلۂ مذہب اور کم عمری کی شادیوں کے واقعات اکثر انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس میں سامنے آتے ہیں۔ قانونی اداروں میں اس حوالے سے مؤثر قانون سازی کی کوششیں جاری ہیں، لیکن نچلی سطح پر نفاذ کا فقدان ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
توہینِ مذہب کے قوانین کا سوءِ استعمال
تھانوں اور مقامی عدالتوں کی سطح پر توہینِ مذہب کے قوانین (Blasphemy Laws) کے مبینہ غلط استعمال سے اقلیتی برادری شدید خوف و ہراس کا شکار ہوتی ہے۔ اکثر ذاتی نوعیت کے تنازعات، زمین کے جھگڑوں یا معاشی رقابتوں کو مذہبی رنگ دے کر اقلیتی افراد کے خلاف مقدمات درج کرائے جاتے ہیں۔
پرتشدد ہجوم اور بستیوں پر حملے گوجرہ ،شمع و شہزاد، سرگودھا کے نزیر مسیح،جوزف کالونی (لاہور) اور جڑانوالہ جیسے پرتشدد واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کس طرح محض افواہوں کی بنیاد پر مشتعل ہجوم اقلیتی بستیوں، گھروں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بناتا ہے۔ ایسے واقعات سے نہ صرف اقلیتوں کا تحفظ مجروح ہوتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کا امیج بھی متاثر ہوتا ہے۔
پاکستان کو ایک پرامن، روادار اور مساوی حقوق کا حامل معاشرہ بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات انتہائی ضروری ہیں:حکمرانوں توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال اور خود ساختہ انصاف (Vigilantism) کرنے والے عناصر کے خلاف بلا تفریق سخت قانونی کارروائی کی اشد ضرورت ہے۔جبری تبادلۂ مذہب کی روک تھام کے لیے شفاف اور مؤثر قانون سازی کی جائے تاکہ کم سن بچوں اور لڑکیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ تعلیمی نصاب، میڈیا اور منبر و محراب کے ذریعے معاشرے میں رواداری، احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ترویج کی جائے جس میں قیام پاکستان سے لیکر 1965 کی جنگ اور 1974 میں عقیدہ ختم نبوت میں اقلیتوں کے کردار کو واضع کیا جائے۔آئین کے دیے گئے حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے ریاست ہر شہری خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا اقلیت سے ہو، اس کی جان، مال اور آبرو کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور عدلیہ کا کردار مثالی دکھائی دے۔
