6ستمبر کو جی۔سی۔سرگودھا کے ریڈنگ روم، میں سجاد نقوی صاحب نے آ کر بہ آواز بلند بتلا یا کہ بغیر اعلان جنگ کے بھارت نے لاھور پر،ٹینکوں،توپوں سے چڑھائی کر دی ھے،اس لئیے آپ سب اپنے اپنے گھروں میں چلے جائیں۔
کالج کے آگے سے چک49 کی طرف سے آتے ھوئے،جو ٹانگے گزر رھےتھے، ان کے کو چوان نے کمپنی باغ تک کا کرایہ دو آنے بھی نھیں لیا۔راستے میں پاک فوج زندہ باد،پاکستان زندہ باد کے نعرے ھم سب بڑے جوش و خروش سے لگاتے رھے۔
6۔ستمبر کی وہ شب اھل وطن مت بھولنا
آندھیوں میں گھر گیا تھا
یہ چمن،مت بھولنا
گھر پہنچ کر،ریڈیو پر سنا کہ بھارتی فوج نے رات کی تاریکی میں لاھور پر تینوں اطراف سے شدید حملے کئیے ،جن کا دفاع ھماری بہادر فوج نے بڑی دلیری سے کر کے، جمخانہ میں جشن فتح منانے کا، بھارتی فوج کا پروگرام ناکام بنادیا۔
ھماری طرف سے اکیلے میجر جنرل سرفراز کے مقابلے میں 3 بھارتی جرنیل تھے۔ادھر 11 بریگیڈ تھے اور ھمارے صرف3 بریگیڈ تھے،جن کی سخت مزاحمت کے باعث 9ستمبر کی صبح کو آگرہ سے 50 بیرا بریگیڈ بھی لایا گیا،جس کے ساتھ ساتھ 23 مونٹین ڈویژن بھی پیچھے موجود تھا۔
7اور 8ستمبر کی درمیانی رات کو ھمارے جوانوں نے،جن کی پشت پناہی کے لئیے ٹینک تھے، نہر عبور کر کے،جوابی حملہ کیا،میجر جنرل نرنجن پرشاد اپنی وہ جیپ چھوڑ کر بھاگ نکلا،جس میں،اس کی ڈائری اور قیمتی کاغذات بھی تھے،جو ھماری فوج کے بہت کام آئے۔۔ بریگیڈئیر آفتاب نے بھیسن کے علاقے پر اس سرعت سے حملہ کیا کہ دشمن کی ساری توجہ اس طرف مبذول ھو گئی اور بریگیڈیئر قیوم بھیسن پہنچ گئے۔اس طرح واھگہ میں 15 میل تک کا علاقہ بھارتیوں سے صاف ھو گیا۔ادھر بریگیڈیئر آفتاب،راوی سائیفن سے حملہ کرتے ھوئے،11میل اندر تک چلے گئے۔
میجر عزیز بھٹی برکی سیکٹر پنجاب رجمنٹ کی ایک کمپنی کی کمان کر رھے تھے۔9/10ستمبر کی درمیانی رات کو اس سیکٹر میں بھرپور حملے کے لئے انڈیا نے پوری بٹالئین جھونک دی۔ B.R.Bنہر کے کنارے پر, میجر بھٹی دشمن کے شدید دباوء کا سامنا کر رھے تھے اور فائرنگ کروا رھے تھے کہ ٹینک کا گولہ ان کے سینے پر لگا،جس وہ شھید ھو گئے۔انھیں فوج کاسب سے بڑا اعزاز”نشان حیدر” دیا گیا۔
لاھور محاذ پر دوسرا نازک ترین لمحہ 21 ستمبر کو آیا،جب بھارت سیز فائر کے لئیے چیخ رھا تھا اور چھاگلہ نے توسلامتی کونسل میں،یہاں تک کہہ دیا تھاکہ ھم اب اور اسی وقت،جنگ بندی کے لئیے تیار ھیں۔دوسری طرف بھارتی فوج اس کوشش میں تھی کہ اس آخری لمحے میں نہر پار کر لی جائے اور شالا مار باغ تک پہنچ جائیں،تاکہ بھارتی عوام کو یہ احساس دلایا جائے کہ ھم لاھور پر قابض ھیں۔اس سے پاکستانی عوام بد دل ھو جائیں گے اور اس بنیاد پر U.N.Oمیںپاکستان سے اپنی شرطیں منوائی جا سکیں گی۔لیکن اس اخری معرکے میں انڈیا
کو جو ھزیمت اٹھانی پڑی،
اسے بھارتی نشریاتی ذرائع نے ایک عرصے تک چھپائے رکھا۔لیکن 3 برس بعد بھارتی دفاعی کونسل کے ایک رکن اور بھارتی پارلیمنٹ کے میمبر،فرٹیک انتھونی کی رپورٹ نے اصل حقائق کو طشت از بام کر دیا۔” رپورٹ میں کہا گیا کہ ،ھماری گیارھویں کور کے بریگیڈئیرز نااہل اور بزدل ثابت ھوئے اور اس کور کی 9 پلٹنیں،ناکارہ نکلیں۔چند ایک ڈویژنل کمانڈر(میجر جنرل) بھی میدان جنگ میں نالائق نکلے،ان میں جنگی صلاحیت نام کو بھی نھیں تھی۔ھمارے کمانڈر جنگی چالوں اور پلان بنانے کی اہلیت سے عاری تھے۔ھماری پروپیگنڈہ مشینری ڈوگرائی میں بھارتی فوج کی بہادری کی داستانیں نشر کرتی رھی، جبکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق،اس محاذ پر لڑنے والے ایک سینئیر افسر کا کورٹ مارشل کیا گیا۔اس پر بزدلی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔جس کے جواب میں اس نے کہا کہ ھمارے بریگیڈیئر جیسابزدل شائید ھی کسی نے دیکھا ھو۔اس کی کمان میں 3 پلٹنیں لڑ رھی تھیں جن میں سے دو اس لئیے بھاگ اٹھیں کہ یہ بریگیڈیئر خود اٹھ بھاگا تھا۔”اس رپورٹ میں یہ اعتراف بھی کیا گیاکہ لاھور کے واھگہ والے دروازے پر انڈین آرمی کے دس ھزار سپاہی اور 4 سو فوجی افسر مارے گئے۔لاھور فتح نہ کر سکنے کے جرم میں 3 جرنیلوں 10 بریگیڈیئرز اور25کرنیلوں کا کورٹ مارشل کر کے انھیں ڈسمس کیا گیا۔
21ستمبر کو بھارتی آرٹلری نے اتنی شدید گولہ باری کی کہ گردو غبار سے کچھ بھی دکھائی نھیں دے رھا تھا۔ھماری ناکافی آرٹلری ھو نے کی بنا پر جنرل سرفراز نے پاک فضائیہ سے مدد مانگی ۔ ھمارے دلیر پائلیٹس نے کثیف دھوئیں میں نیچے غوطے مار مار کر ایسے ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے کہ دشمن نقصان سے بوکھلا اٹھا۔
22ستمبر کی رات بھارتی توپوں نے شدید گولہ باری سوا 3 بجے تک جاری رکھی تاکہ نہر پار کرکے لاھور کے کچھ حصے پر قبضہ کر لیں۔
(سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق فائیر بندی 3 بجے ھونا تھی)
وہ جو لاھور لینے کو چلے تھے
کھلی جو آنکھ،دلی میں پڑے تھے
6ستمبر کو اچانک حملے کی بدولت کھیم کرن سے پاکستان میں ڈھائی میل اندر تک بھارتی فوج گھس آئی۔6گنا فوج کو 4 دن بعد،ان کے علاقے میں دھکیل کر11 ستمبر کو کھیم کرن پر ھماری بہادر فوج نے قبضہ کر لیا۔انجنئیر کور کے بریگیڈیئر طارق محمود مترجم ،رائٹر بھارتی فوج کی نا اہلی اور بزدلی کے واقعات ،سنایا کرتے تھے۔
12ستمبرکو چو نڈہ (سیالکوٹ)کے مقام پر بھارت نے50 ھزار کی فوج ، بکتر بند ڈویژن اور 6سو ٹینکوں سے حملہ کردیا۔ 36 گھنٹے یہ خون ریز معرکہ جاری رھا۔پاک فوج کے جوانوں نے دلیری و شجاعت کی نئی داستان اپنے خون سے رقم کی۔
پاک فضائیہ نے بھی دشمنوں کی صفوں کو تتر بتر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔با ھمت پائلیٹس جان کی پروا کئے بغیر ٹینکوں کو تہس نہس کرتے رھے۔
کراچی پر بمباری کرنے میں،بھارتی بحری اڈے دوارکا کی راہنمائی کا بڑا ھاتھ تھا۔کراچی کی بندر گاہ کو دشمن کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لئیے 8 ستمبر کو پاک بحریہ نے دوارکا،کے بحری اڈے کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔پھر ھماری سمندری حدود میں آنے کی،بھارتی بحریہ کبھی جراءت نہ کر سکی۔ پاک بحریہ نے ثابت کردیا کہ ع
دشت تو دشت ھیں،دریا بھی نہ چھوڑے ھم نے
برادر اسلامی ملکوں کے علاوہ چین نے بھی پاکستان کی حمایت کی جبکہ امریکہ نے 7ستمبر 65ء کو پاکستان کی فوجی امداد بند کردی اور جنگی پرزہ جات کی فراہمی بھی روک دی ۔حبیب جالب کی یہ نظم تب بھت سراھی گئی ۔
زندہ باد اے چین و انڈو نیشیا
تجھے سے پائیندہ ھے امن ایشیا
جان ودل سے تم ھمارے ساتھ ھو
سچ تو یہ ھے تم ھمارے ھاتھ ھو
راجھستان سیکٹر میں، مونا باؤ ریلوے سٹیشن بھارتی سرحد کا آخری سٹیشن ھے ۔13 ستمبر کو 8 میل کا پیدل سفر طے کر کے میجر جنرل ممتاز علی کی قیادت میں،ھماری فوج نے اس پر قبضہ کر لیا۔دشمن کافی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود کے علاوہ ریلوے کا بہت سا سازو و سازو سامان بھی چھوڑ کر بھاگ نکلا ۔
17 ستمبر کو عرب ممالک کے سر براھوں نے کاسا بلانکا میں کشمیری عوام کے حق خود اختیاری کی حمایت کا اعلان کرتے ھوئے دونوں ملکوں سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی۔
مسئلہ کشمیر کا فیصلہ استصواب رائے عامہ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق طے کرنے پر زور دیا۔اس طرح عرب سربرا ھوں نے پاکستان کے مؤقف کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ بھارت کا یہ دعویٰ غلط ھے کہ ریاست جموں و کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ھے۔ایران کے بھرپور تعاون کی ائر مارشل اصغر خان سے اکثر تعریف سنی۔
پاک بھارت جنگ میں 1033پاکستانی شھید اور 9500 بھارتی مارے گئے۔
2171پاکستانی اور11 ھزار بھارتی فوجی زخمی ھوئے۔
ھمارے 630 اور17 سو بھارتی فوجی لا پتہ ھوئے۔
ھمارے 165ٹینک اور516بھارتی ٹینک تباہ ھوئے۔
ھمارے14طیارے،110بھارتی طیارے تباہ ھوئے۔ھمارا450 مربع میل انڈیا کے قبضے میں گیا۔جبکہ انڈیا کا 1617مربع میل علاقہ پاکستان کے قبضے میں آیا۔یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے نوید
مرزا کے یہ اشعار توجہ طلب ھیں:
یوم دفاع ملک منانے کے واسطے
پر چم کو رفعتوں پہ اڑانے کے واسطے
پھولوں میں اتحاد کی خوشبو ھے لازمی
گلشن کی آ برو کو،بچانے
کے واسطے
روحیں یہ کہہ رھی ھیں شھیدان قوم کی
ھو جاوء ایک،خود کو بچانے کے واسطے
جراءت کو پاک فوج کی ھم سب کریں سلام
ا خلاص کا شعور،دکھانے
کے واسطے
فخر سرگودھا ڈاکٹر ھارون الرشید تبسم کی نظم کے یہ اشعار ھم سب پاکستانیوں کے دلی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں:
چھ ستمبر،مہر استقلال کی تنویر تھا
6ستمبر،اک سہانے خواب کی تعبیر تھا
6ستمبر ھے میری تاریخ کا باب حسیں
6ستمبر فتح ونصرت کی شراب عنبریں
اک سہانی یاد کی شبنم میں ھے ڈوبا ھوا
6ستمبر،میرے گلشن کا گلاب احمریں
آ ج کے دن ھر جوان وپیر،
اک شمشیر تھا
6ستمبر،اک سہانے خواب کی تعبیر تھا
6ستمبر،جب حصار موت میں گلزارِ تھا
گوشہ گوشہ،سر زمین پاک کابیدار تھا
جب سروں کی فصل کاٹی تھی بھڑکتی آگ نے
جسم سےبم باندھنے کو ہر جواں،تیار تھا
ھر مجاھد،عزم وھمت کی حسیں تصویر تھا
6ستمبر،اک سہانے خواب کی تعبیر تھا
آج کے دن کفر کاھر وار
بے تاثیر تھا
6۔ستمبر،اک سہانے خواب کی تعبیر تھا
