Baaghi TV

پاکستان بزنس فورم کا نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کا اعلان

پاکستان بزنس فورم نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامی یونٹس میں اضافے سے ملکی گورننس ماڈل کو بہتر اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی زیادہ مؤثر بنائی جاسکتی ہے، تاہم نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ باہمی مشاورت اور وسیع تر قومی اتفاقِ رائے سے کیا جانا چاہیے۔

پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر احمد جواد نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ کا شکار ہے، جس کے باعث عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انتظامی امور کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے موجودہ نظام پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبادی کے تناسب سے پاکستان میں مزید 10 نئے صوبوں کی گنجائش موجود ہے، تاہم صوبوں کی تشکیل محض سیاسی بنیادوں پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے لیے انتظامی ضروریات، آبادی، دستیاب وسائل، معاشی استعداد اور عوامی سہولیات جیسے عوامل کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔

احمد جواد کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ صوبائی فنانس کمیشن پر مؤثر عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہوگا تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوسکے اور اختیارات و مالی وسائل صوبائی سطح سے ضلعی اور مقامی سطح تک منتقل کیے جاسکیں۔

انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات اور وسائل کے حوالے سے نمایاں مضبوطی حاصل ہوئی، تاہم ان اختیارات اور وسائل کے ثمرات ضلعی اور مقامی سطح تک مطلوبہ انداز میں منتقل نہیں ہوسکے۔ ان کے مطابق انتظامی نظام کو عوام کے قریب لانے کے لیے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ناگزیر ہے۔

چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ بلدیاتی نظام کو بھی مضبوط، فعال اور بااختیار بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق میئر کا انتخاب براہِ راست عوام کے ووٹ سے ہونا چاہیے تاکہ مقامی حکومتیں حقیقی عوامی نمائندگی کی بنیاد پر کام کرسکیں اور شہریوں کو اپنے منتخب نمائندوں سے براہِ راست رابطے کا مؤثر ذریعہ میسر آئے۔

احمد جواد نے بلدیاتی نظام میں مؤثر احتساب کے نظام کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ میئر اور مقامی حکومتوں کو براہِ راست عوام کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔ شہریوں کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں سے مقامی مسائل اور حکومتی کارکردگی کے بارے میں سوال کرسکیں۔

پاکستان بزنس فورم کے مطابق پاکستان کی تقریباً 26 کروڑ آبادی کے لیے صرف 1170 سرکاری دفاتر موجود ہیں، جو بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ فورم کا مؤقف ہے کہ انتظامی یونٹس میں اضافہ کرکے سرکاری اداروں اور عوام کے درمیان فاصلہ کم کیا جاسکتا ہے جبکہ صحت، تعلیم، شہری سہولیات اور دیگر بنیادی خدمات کی فراہمی بھی زیادہ مؤثر بنائی جاسکتی ہے۔

پاکستان بزنس فورم نے زور دیا کہ نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی کشمکش یا جماعتی مفادات کے بجائے قومی مفاد، انتظامی ضرورت، معاشی استعداد اور عوامی سہولت کی بنیاد پر زیر بحث آنا چاہیے۔ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں، صوبوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔

دوسری جانب ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی تشکیل سے متعلق بحث کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں بھی بڑی تبدیلی کی تیاری کی جا رہی ہے۔

اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی نے اسلام آباد کے لیے مجوزہ نئے گورننس ماڈل کا ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کردیا ہے، جس پر حتمی فیصلہ وزیراعظم کی جانب سے کیا جائے گا۔

مجوزہ گورننس ماڈل کے تحت اسلام آباد کے شہریوں کو اپنی منتخب اسمبلی اور منتخب چیف ایگزیکٹو دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ کمیٹی نے وفاقی دارالحکومت کے لیے 27 رکنی اسمبلی قائم کرنے کی تجویز دی ہے، جس میں 21 ارکان براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں گے، جبکہ خواتین کے لیے 5 مخصوص نشستیں اور اقلیتوں کے لیے ایک نشست مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

نئے انتظامی ماڈل کے تحت اسلام آباد کا اپنا منتخب چیف ایگزیکٹو بھی ہوگا۔ اس عہدے کو چیف منسٹر یا میئر کا نام دینے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ منتخب چیف ایگزیکٹو اپنی اسمبلی کے سامنے جواب دہ ہوگا۔

مجوزہ انتظامی ڈھانچے میں اسلام آباد حکومت کے تحت 27 انتظامی محکمے قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ صحت، تعلیم، ماحولیات اور شہری سہولیات سمیت مختلف شعبوں کو مقامی حکومت کے دائرہ اختیار میں لانے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس مجوزہ نظام کا مقصد اسلام آباد میں انتظامی اختیارات کو زیادہ مؤثر انداز میں منظم کرنا، مقامی سطح پر فیصلہ سازی کو فروغ دینا اور شہریوں کو براہِ راست منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومتی معاملات میں زیادہ مؤثر شرکت کا موقع فراہم کرنا ہے۔

More posts