چینی ایرو اسپیس محققین نے زمین اور چاند کے درمیان موجود خلائی خطے میں مستقبل میں ممکنہ تنازعات کے منظرناموں کا جائزہ پیش کردیا ہے، جس میں خلائی جہازوں کے درمیان تعاقب، راستے میں رکاوٹ اور دفاعی نظام سے بچنے جیسے امکانات شامل ہیں۔
جرنل آف کمانڈ اینڈ کنٹرول میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے ایسے ممکنہ حالات کا تصور پیش کیا ہے جن میں مستقبل کے حریف خلائی جہاز ایک دوسرے کا تعاقب کرسکتے ہیں، ایک دوسرے سے بچنے کی کوشش کرسکتے ہیں، دفاعی نظاموں کو چکمہ دے سکتے ہیں اور اہم خلائی راستوں کو روکنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق چاند کے گرد موجود پیچیدہ کششِ ثقل کے ماحول کو استعمال کرتے ہوئے خلائی جہاز بعض مخصوص مقامات پر طویل عرصے تک اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ایسے مقامات سے انہیں زمین کے قریب موجود ممکنہ اہداف کے خلاف اچانک کارروائی کے لیے موزوں پوزیشن حاصل ہوسکتی ہے۔
چینی محققین نے تحقیق میں ’’چوک پوائنٹس‘‘ کی بھی نشاندہی کی ہے۔ یہ ایسے اہم مقامات ہیں جہاں خلائی راستے، بالخصوص کم ایندھن استعمال کرنے والے راستے، ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔ کسی ملک کی جانب سے ان مقامات پر اپنی موجودگی قائم کرنا حریف کے خلائی راستے میں رکاوٹ ڈالنے، اسے راستہ تبدیل کرنے یا اس کے مشن میں تاخیر کا سبب بننے کا ذریعہ بن سکتا ہے، حتیٰ کہ براہِ راست تصادم کے بغیر بھی۔
تحقیق میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مستقبل میں زمین اور چاند کے درمیان موجود خلائی خطے کی اہمیت صرف مخصوص خلائی جہازوں یا انفرادی راستوں کے کنٹرول تک محدود نہیں رہے گی۔
محققین کے مطابق آنے والے برسوں میں خلا تک رسائی اور اہم خلائی راستوں پر مجموعی کنٹرول ایک اہم تزویراتی معاملہ بن سکتا ہے، جس کے باعث زمین اور چاند کے درمیان خلائی خطہ مستقبل کے ممکنہ خلائی مقابلے اور تنازعات میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
