ہری پور میں ڈی پی او آفس کے اندر نجی سوشل میڈیا چینل کے اینکر اوصاف علی خان کے بال بنوانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے واقعے کا سخت نوٹس لے لیا۔ آئی جی نے معاملے کی شفاف انکوائری کا حکم دیتے ہوئے آر پی او ہزارہ کو تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں اینکر اوصاف علی خان کو ڈی پی او ہری پور کے دفتر میں موجود ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جہاں ایک شخص ان کے بال کاٹتے اور سیٹ کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد واقعے پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے، جس پر خیبرپختونخوا پولیس کے اعلیٰ حکام نے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کا فیصلہ کیا۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آر پی او ہزارہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے شفاف انکوائری کریں اور اپنی رپورٹ اعلیٰ حکام کو پیش کریں۔ انکوائری کے ذریعے یہ معلوم کیا جائے گا کہ ڈی پی او آفس کے اندر یہ واقعہ کن حالات میں پیش آیا اور دفتر میں نائی کو بلانے سمیت دیگر انتظامات کس کی ہدایت پر کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق جس وقت اینکر کے بال کاٹے جانے کی ویڈیو ریکارڈ کی گئی، اس وقت ڈی پی او ہری پور شفیع اللہ گنڈاپور اپنے دفتر میں موجود نہیں تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اینکر اوصاف علی خان 5 سالہ آیت نور کیس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سامنے آنے والے مبینہ ہولناک انکشافات کے بعد ڈی پی او ہری پور کا انٹرویو کرنے کے لیے ان کے دفتر پہنچے تھے۔
ذرائع کے مطابق انٹرویو کے دوران کیس سے متعلق بعض سخت اور چبھتے ہوئے سوالات کیے گئے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسی دوران مبینہ طور پر ڈی پی او شفیع اللہ گنڈاپور نے سوالات کا جواب دینے کے بجائے اینکر سے کہا کہ ’آپ کے بال ٹھیک نہیں ہیں، پہلے ان کو سیٹ کرواتے ہیں۔‘
ذرائع کے مطابق اس کے بعد مبینہ طور پر رستم نامی ایک نائی کو خصوصی طور پر گھر سے بلایا گیا، جس نے ڈی پی او کے دفتر میں ہی اینکر اوصاف علی خان کے بال کاٹے اور انہیں سیٹ کیا۔ تاہم، اس حوالے سے اصل صورتحال اور ذمہ داران کا تعین آئی جی کی ہدایت پر ہونے والی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔
واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جبکہ خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے انکوائری کے نتائج اور رپورٹ سامنے آنے کے بعد مزید حقائق واضح ہونے کا امکان ہے۔
