امریکا کی ریاست نارتھ ڈکوٹا میں 66.5 ملین سال پرانے چار بڑے ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات دریافت ہوئے ہیں، جنہیں ماہرین ممکنہ طور پر بالغ ٹائرانوسارس ریکس (T. rex) کے قدموں کے نشانات قرار دے رہے ہیں۔ اگر اس شناخت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ دنیا میں بالغ ٹی ریکس کے قدموں کے نشانات پر مشتمل پہلا مکمل ٹریک وے ہوگا۔
یہ حیران کن دریافت ہیل کریک فارمیشن کے علاقے میں ہوئی، جہاں چار بڑے قدموں کے نشانات تقریباً سات میٹر (23 فٹ) کے حصے پر موجود ہیں۔ ہر نشان تقریباً ایک میٹر لمبا ہے اور ان میں تین انگلیوں جیسی نمایاں ساخت دکھائی دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق قدموں کے نشانات کا حجم، شکل اور تین انگلیوں کی ساخت بالغ ٹی ریکس کے پاؤں سے مطابقت رکھتی ہے، جبکہ اردگرد کے علاقے میں ٹی ریکس کے فوسلز کی بھی بڑی تعداد دریافت ہو چکی ہے۔
دنیا بھر میں اس سے قبل بالغ ٹی ریکس کے صرف دو الگ الگ قدموں کے نشانات دریافت ہوئے تھے، جن میں سے ایک مونٹانا اور دوسرا نیو میکسیکو میں ملا تھا۔ تاہم، انفرادی نشان کے بجائے مسلسل کئی قدموں پر مشتمل ٹریک وے پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے، جس سے اس دریافت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
یہ ٹریک وے 2025 میں نارتھ ڈکوٹا کے علاقے مارمارتھ میں وفاقی زمین پر نارتھ گلین ہائی اسکول کے استاد کینٹ ایم ہپس نے دریافت کیا تھا۔ ایک سال بعد وہ اس دریافت کی تفصیل بیان کرنے والے تحقیقی مقالے کے شریک مصنف بھی بن گئے۔
کینٹ ہپس نے کہا کہ وہ اپنے طلبہ کو ہمیشہ بتاتے ہیں کہ سائنس کا آغاز تجسس، جذبے اور محتاط مشاہدے سے ہوتا ہے، تاہم انہوں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ یہی چیز انہیں ایسی غیر معمولی دریافت تک پہنچا دے گی۔
ماہرین کے مطابق ڈائنوسار کی ہڈیوں سے ان کی جسامت اور جسمانی ساخت کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل ہوتی ہیں، لیکن قدموں کے نشانات ان کے رویے اور حرکت کے بارے میں بھی اہم اشارے فراہم کرتے ہیں۔ ڈینور میوزیم آف نیچر اینڈ سائنس کے ماہر اور تحقیقی مقالے کے شریک مصنف ٹائلر لائسن کا کہنا ہے کہ ٹریک وے کی مدد سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جانور کسی علاقے میں کس طرح حرکت کر رہا تھا، جبکہ ٹی ریکس کے معاملے میں اس نوعیت کے شواہد انتہائی نایاب ہیں۔
ہائی ریزولوشن تھری ڈی سطحی اسکیننگ کے ذریعے کیے گئے تجزیے سے معلوم ہوا کہ چاروں نشانات میں دو بائیں اور دو دائیں پاؤں کے نشانات شامل ہیں۔ مخصوص نوعیت کی ریتلے پتھروں پر مشتمل چٹانوں نے بھی ان نشانات کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ ان میں معدنیات کے کرسٹل بننے اور جمع ہونے کے باعث قدموں کے نشانات طویل عرصے تک محفوظ رہے۔
نشانات سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ ٹی ریکس کے کولہے زمین سے تقریباً چار میٹر (13 فٹ) بلند تھے، جبکہ اس کے ایک قدم سے دوسرے قدم کے درمیان فاصلہ بھی تقریباً چار میٹر تھا۔ ماہرین کے حساب کے مطابق یہ دیوہیکل جانور اس وقت تقریباً 1.5 سے 2 میٹر فی سیکنڈ، یعنی تقریباً 3.5 سے 4.5 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا تھا، یا ممکنہ طور پر اس سے بھی آہستہ۔
محققین کا کہنا ہے کہ موجودہ شواہد سے ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ دریافت ٹی ریکس کے پنجوں کے اگلے حصے پر چلنے یا ’’ٹِپی ٹوز‘‘ کے تصور کے بارے میں مزید کیا معلومات فراہم کر سکتی ہے۔
اس دریافت سے قبل دنیا کا سب سے طویل ڈائنوسار ٹریک وے موجودہ کولوراڈو میں دریافت کیا گیا تھا، جو 96.3 میٹر (316 فٹ) تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں آخری جراسک دور سے تعلق رکھنے والے 134 مسلسل ڈائنوسار قدموں کے نشانات شامل ہیں۔
بالغ ٹی ریکس کے اس ممکنہ پہلے مکمل ٹریک وے پر تحقیق جرنل آف ورٹی بریٹ پیلیونٹولوجی میں شائع کی گئی ہے۔
