ہر ملک کی تاریخ میں کچھ سنہری دن ہوتے ہیں۔ جن کو قوم ہر سال جوش و خروش سے مناتی ہے۔ کوئی بھی دن منانے کا مطلب ہے کہ اس دن جو کچھ ہوا وہ آنے والی نسلوں کو بتایا جایا۔ ان میں جذبہ حب الوطنی ایسے ہی موجزن ہو جیسے اس وقت کے لوگوں میں موجود تھا۔تجدید عہد کا دن کہ اس وطن کی حفاظت، بقا، سالمیت اور اس کے پرچم کو سر بلند رکھنے کےلئے جیسے پہلے کسی نے بھی، کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا تھا۔بایسے ہی اب بھی کوئی، کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔
یوم دفاع پاکستان ، جب پاکستان کی عوام اپنے وطن کے ان شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ جنھوں نے 1965ء کی جنگ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا ۔79 سال پہلے پاکستان جب ایک نوزائیدہ مملکت تھا۔ اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کی جدوجہد میں مصروف تھا کہ ہمسایہ ملک نے عوام کی بےخبری اور تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شب خون مارا اور حملہ کردیا۔ اس وقت وسائل کی کمی تو تھی لیکن اتحاد اور جذبے کی کمی نہ تھی۔ بوڑھے، جوان،ببچے، ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد مسلح فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے تھے۔ جذبات سے لبریز ملی نغموں نے فوج کے حوصلے اور بلند کردیئے تھے۔پاک فوج نےکسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ماوں نے اپنے لال قربان کرکے کتنے ہی بچوں کو یتیمی سے بچایا، کتنی ہی بہنوں کا سہاگ سلامت رکھا اور کتنی ہی بہنوں کے آنچل دشمن کی گندی نظر سے بچائے۔ پاک فوج کے جیالوں نے دلیری اور ثابت قدمی سے ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کیا کہ دشمن کے قدم اکھڑ گئے۔ میجر عزیز بھٹی نے دشمن کو دھول چٹا کر جام شہادت نوش کر کے ” نشان حیدر ” کا تمغہ پایا تو وہاں سرگودھا کے محاذ سے ایم ایم عالم نے 1 منٹ میں بھارت کے 9 طیارے مار گرائے اور 2 کو نقصان پہنچا کر عالمی ریکارڈ قائم کر کے دنیا کو بتایا کہ فضائی فوج بھی پیچھے نہیں ہے اور نہ کسی سے کم ہے۔ دشمن کے ہوائی اڈوں پر حملے کرکے انھیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ دشمن کو ناکوں چنے چبوا کر انھیں شکست دے دی۔ جو اب تک یاد کی جاتی ہے تاکہ بتایا جا سکے کوئی وطن عزیز کو میلی آنکھ سے بھی نہ دیکھے ۔
افسوس صد افسوس کہ ہم نے دشمن سے بچانے کےلیے تو ملک کو ایٹمی پاور بنا دیا مگر اپنوں سے نہ بچا پائے جو اس کی جڑوں کو کھوکھلا کررہے ہیں ۔
اب تو دعا ہے کہ اے رب کائنات ہمیں آزاد ملک دیا ہے تو ہمیں ہمت دیں کہ ہم اس کو سنبھال سکیں ۔ یہ وطن ہماری شناخت ہے ۔ اس کو سدا سلامت و آ باد رکھ سکیں۔ آمین یا رب العا لمین
