Baaghi TV

کراچی؛ میر رضا علی کے قتل کا معمہ برقرار، عبوری چالان پیش، کوئی ملزم نامزد نہ ہوسکا

کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے پراسرار طور پر لاپتا ہونے والے 25 سالہ نوجوان میر رضا علی خان کے اغوا اور بعد ازاں قتل کے ہائی پروفائل مقدمے میں تفتیشی ٹیم نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 173 کے تحت عبوری چالان سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی ایسٹ کی عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔

چالان کے مطابق جدید تکنیکی وسائل کے استعمال، جیو فینسنگ اور 53 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرنے کے باوجود تفتیشی ٹیم تاحال اصل ملزمان اور قتل کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کرسکی۔ پولیس نے مقدمے کی تفتیش کو فی الحال التوا میں رکھتے ہوئے متعدد اہم ڈیجیٹل اور فارنزک رپورٹس کا انتظار شروع کردیا ہے، جن کے موصول ہونے کے بعد کیس کی تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

پولیس کے مطابق میر رضا علی خان رات تقریباً 3 بجے بہادر آباد میں واقع اپنی دکان ’وافلکس‘ سے گھر پہنچا۔ گھر پہنچنے کے بعد اس نے اپنی والدہ کو بتایا کہ وہ صرف 10 منٹ کے لیے نیچے جارہا ہے اور جلد واپس آجائے گا، تاہم اس کے بعد وہ پراسرار طور پر لاپتا ہوگیا۔

چالان میں درج تفصیلات کے مطابق مقتول کی منگیتر سلوائے نے رات تقریباً 3 بجے یہ بات نوٹ کی کہ میر رضا علی خان کے انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، فیس بک اور لنکڈ اِن سمیت تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ یا ڈی ایکٹیویٹ ہوچکے تھے۔

پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی ریکارڈنگ میں میر رضا علی خان کو رات 3 بج کر 43 منٹ پر اپنی دکان کے دراز سے سیکیورٹی گارڈ مظہر علی کا پستول نکال کر اپنی گاڑی میں رکھتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس کے بعد وہ رات 3 بج کر 57 منٹ پر آن لائن بائیکیا ٹیکسی ڈرائیور احسان اللہ کے ذریعے گھر پہنچا۔

چالان کے مطابق رات تقریباً 4 بج کر 30 منٹ پر میر رضا علی خان کو منظور اسٹریٹ اور گلستانِ جوہر سروس روڈ کی سمت اکیلے پیدل جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس کے بعد اس کا کوئی واضح سراغ نہیں مل سکا۔

چالان کے مطابق اسی روز دوپہر تقریباً 11 بج کر 45 منٹ پر طفیل نرسری، عقب مسجد خضر، بلاک 1 گلستانِ جوہر کے ملازم یاسر علی کو پودوں کو پانی دیتے ہوئے میر رضا علی خان کی لاش ملی۔

لاش ملنے کی اطلاع پر پولیس اور ایدھی کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ لاش کی برآمدگی کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کردی گئیں اور واقعے کی تفتیش کو مزید وسیع کردیا گیا۔

چالان کے مطابق کیس کی حساسیت کے پیش نظر آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کیں۔

مدعی مقدمہ کی درخواست اور عدالت کے حکم پر 8 اگست 2026 کو میڈیکل بورڈ کی موجودگی میں میر رضا علی خان کی قبر کشائی بھی کی گئی۔ چالان کے مطابق جدید پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مندرجات میں تضاد سامنے آیا، جس کے بعد مزید طبی اور فارنزک شواہد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

چالان میں 13 اہم اشیا کو مالِ مقدمہ کے طور پر تحویل میں لینے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اشیا مزید تجزیے کے لیے پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی لاہور ارسال کی گئی ہیں۔

چالان کے مطابق ’وافلکس‘ دکان کے سیکیورٹی گارڈ مظہر علی نے اپنا پسٹل کور شناخت کرتے ہوئے اسے اپنا ہونے کی تصدیق کی۔ جائے وقوعہ سے گولی کا ایک خول بھی برآمد ہوا، جسے ڈی این اے اور کیمیکل تجزیے کے لیے قبضے میں لیا گیا۔

اس کے علاوہ جائے وقوعہ اور نرسری کے قریب سے سگریٹ کا پیکٹ، لائٹر اور بلیچ کی دو بوتلیں بھی برآمد ہوئیں۔ پولیس نے مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کی ہیں، جن کا تفتیش کے دوران جائزہ لیا جارہا ہے۔

چالان کے مطابق مقدمے کی تفتیش کے دوران مجموعی طور پر 53 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان میں مقتول کی والدہ مریم، ہمشیرہ علیشبہ، منگیتر سلوائے اور خالہ مہرین شامل ہیں۔

مقتول کے شریکِ کار محمد احمد اور عبداللہ کو بھی شاملِ تفتیش کیا گیا ہے، جبکہ دونوں نے عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔

اہم گواہوں میں بائیکیا ڈرائیور احسان اللہ، نرسری کے ملازمین اور نائٹ ڈیوٹی پر تعینات چوکیدار محمد یوسف شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید، ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈاکٹر نسیم احمد، جناح اسپتال کے میڈیکو لیگل افسر اور سی پی ایل سی کے فارنزک ماہرین کو بھی گواہوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

چالان کے مطابق تفتیشی ٹیم نے مقتول کی آئی کلاؤڈ آئی ڈی، گزشتہ 90 روز کا ڈیٹا اور ایپل اکاؤنٹس کی بحالی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے عدالت کے ذریعے ایپل کمپنی کو باضابطہ ای میلز ارسال کی ہیں۔

مقتول کے کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس اور مالی لین دین کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو بھی خط جاری کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ’وافلکس‘ اور مقتول کی گزشتہ تین ماہ کی بینک ٹرانزیکشنز کا فارنزک جائزہ بھی لیا جارہا ہے، تاکہ مالی معاملات، ممکنہ روابط اور کیس سے متعلق کسی بھی اہم پہلو کا سراغ لگایا جاسکے۔

تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج الدین لاشاری نے چالان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام تر کوششوں اور جدید تکنیکی ذرائع کے استعمال کے باوجود مقدمے کا حتمی ڈراپ سین تاحال نہیں ہوسکا۔

چالان کے مطابق پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی لاہور، ایپل کمپنی اور بائنانس سے موصول ہونے والی متعدد اہم تکنیکی اور فارنزک رپورٹس ابھی التوا میں ہیں۔ ان رپورٹس کے نتائج تفتیش میں اہم پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔

تفتیشی افسر کے مطابق انہی وجوہات کی بنا پر مقدمے کی تفتیش کو فی الحال التوا میں رکھتے ہوئے عبوری رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ہے۔ زیرِ التوا رپورٹس موصول ہونے کے بعد ان کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور دستیاب شواہد کی روشنی میں اصل ملزمان کا تعین کرکے ان کی گرفتاری کے لیے مزید کارروائی کی جائے گی۔

More posts