Baaghi TV

عدمِ برداشت اور اس کے سماجی محرکات،تحریر: حماد باقر

خالقِ کائنات نے انسان کی فطرت میں خیر و شر، دونوں طرح کی صفات ودیعت فرمائیں۔ کبھی نیکی تو کبھی برائی، زندگی اسی کشمکش میں رہنے کا نام ہے۔ قرآنِ کریم و احادیثِ مبارکہ میں کئی ایسی مثالیں ملتی ہیں جن میں انسان کو راہِ اعتدال اختیار کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ بھلائی اور برائی کے معاملات میں اس حد تک نہ جائے کہ خیر و شر میں تمیز کی صلاحیت ہی کھو بیٹھے۔ خیر و شر کی اسی لڑی کی ایک اہم کڑی عدمِ برداشت کا رویہ ہے۔ عدمِ برداشت انسانی دماغ کی ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان کسی چیز، بات یا واقعے کو اپنے متعین کردہ زاویۂ نظر سے دیکھ کر اس کی مخالفت میں منفی رویے کا اظہار کرتا ہے۔ انسانی معاشرت کا حسن یہی ہے کہ اس میں نسلی، لسانی اور جغرافیائی اختلافات کے حامل لوگ اپنی زندگی اس انداز میں بسر کریں کہ سب یک جاں نظر آئیں۔ جب کوئی شخص عدمِ برداشت سے کام لیتا ہے تو اس سے نہ صرف وہ، بلکہ اس کے گرد و پیش میں بسنے والے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں، جو انسانی معاشرے کے فطری حسن پر باعثِ قدغن ہے۔ ہر فرد سے معاشرے کی خوبصورتی و دلکشی برقرار رہتی ہے۔ عدمِ برداشت کے مخفی محرکات میں اہلِ خانہ کا ایک دوسرے سے امتیازی رویہ، سیاست دانوں اور حکمران طبقے کا غریب افراد کو یکسر نظر انداز کرنا، ذرا سی لغزش پر کفر کے فتوے صادر کرنا اور سرکاری آسامیوں پر من پسند افراد کو ترجیح دینے کے علاوہ بھی کثیر اسباب و محرکات ہیں۔ عدمِ برداشت کے عمومی اسباب میں دینی تعلیم سے دوری، غربت، بے روزگاری اور ناانصافی وغیرہ بھی شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پر کثیر تعداد میں ایسے کالمز اور مضامین ملتے ہیں جن میں اس رویے کے کلیتاً خاتمے پر تجاویز پیش کی گئی ہیں، کیوں کہ اس رویے کو پاکستانی معاشرے کی کثیر تعداد اپنائے ہوئے ہے؛ اگر عمیق نظر سے دیکھا جائے تو برداشت اور عدمِ برداشت کے رویوں کا اظہار کہاں کیا جانا چاہیے اور کہاں نہیں، یہ چیز اہمیت کی حامل ہے، نہ کہ آپ عدمِ برداشت کے دن کو منانا شروع کر دیں اور اس کے خلاف باقاعدہ مختلف تحریکیں چلانے کا آغاز کر دیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایسے امور کو فخر سے اپنایا جاتا ہے جن کو تسلیم کرنا اسلامی تعلیمات تو کجا، انسانی فطرت بھی اس مقام پر انگشت بہ دنداں رہ جاتی ہے۔ نیز جن امور کو برداشت کرنا فطرت کا تقاضا ہے، وہاں قطعی برداشت سے کام نہیں لیا جاتا۔ معمولی سے معمولی بات کو بھی احاطۂ برداشت میں نہ لانے کی وجہ سے ایک فرد انسانوں کے بے جا قتل سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ جس طرح روح اور بدن کا آپس میں گہرا تعلق ہے، اسی طرح فرد اور معاشرے کا بھی تعلق ہے؛ اگر روح کو تن سے جدا کر لیا جائے تو جسم مردہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر فرد کو معاشرے سے جدا کر لیا جائے تو معاشرہ بھی اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پاتا، کیونکہ فرد معاشرے کی بنیادی اکائی ہے؛ اگر یہی سلامت نہ رہے تو پورا وجود کیسے برقرار رہ سکتا ہے؟ایک بچہ اپنے والدین کے زیرِ سایہ تربیت اور پرورش پاتا ہے۔ اسی وجہ سے جو صفات والدین میں ہوتی ہیں، بچہ بھی انہی صفات کا عکس ہوتا ہے۔ شوہر اپنی بیوی کو زیر کرنے کا ایسا کوئی موقع نہیں گنواتا جس سے اس کی مردانگی کو راحت پہنچے۔ بعض شوہر اپنی بقا بھی اسی میں خیال کرتے ہیں اور انہی دقیانوسی خیالات کو معاشرے میں بھی فروخت دیا جاتا ہے؛ اگر کوئی شوہر بیوی سے حسنِ سلوک سے پیش آتا ہے تو اس پر رَن مریدی کا ٹھپا لگا کر اسے حقارت بھری نظروں سے دیکھا جاتا ہے یہی شوہر جب باپ اور سسر کے درجے پر فائز ہوتا ہے تو اولاد پر من مرضی مسلط کرنے سے بھی باز نہیں آتا۔ بیٹے اور بہو کے باہمی معاملات میں بے جا مداخلت کرکے ان کے مابین ناچاقی پیدا کر دیتا ہے، حتیٰ کہ جبراً طلاق بھی دلوا دیتا ہے۔ مرد اگر بیوی اور بیٹی کو پردہ نہ کرنے پر مجبور کر دے تو اسے اوپن مائنڈڈ خیال کیا جاتا ہے۔ اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز میں لڑکوں اور لڑکیوں کے ناچنے پر فخر محسوس کیا جاتا ہے کہ واہ! ماشاءاللہ، کیا ہی خوب ناچتے ہیں۔ والدین اور اولاد ذرا سی باتوں پر ایک دوسرے سے اور خاندان سے قطعِ تعلق کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے لبوں پر یہ الاپ جاری رہتا ہے کہ ’بھئی! میری اپنی زندگی ہے، میں جیسے چاہوں جیوں، برائی کو اپناؤں یا اچھائی کو۔ دوسرا کون ہوتا ہے دخل اندازی کرنے والا؟ تعلیمی اداروں میں بھی موجود غیر تربیت یافتہ اشخاص مسندِ تدریس پر بیٹھے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ’یار! آج کل فارغ تھا تو سوچا پڑھانا ہی کیوں نہ شروع کر دوں؟ زیادہ نہ سہی، دو چار پیسے ہی ہاتھ میں آ جائیں گے۔ منبر و جائے امامت پر جو بھی منہ اٹھا کر آ جائے اور وعظ و تلقین کرنا شروع کر دے، کوئی بڑی بات ہی نہیں گردانی جاتی۔ چور، ڈاکو اور ظالم و جابر کو اسی وجہ سے حکمران تسلیم کر لیا جاتا ہے کہ وہ ہمارے معاشرے کا بڑا ہے یا پھر وہ طاقتور ہے۔ پھر کیا ہوا! اگر وہ زیادہ ظلم کرکے ذرا سی درد مندی کا مظاہرہ بھی کر دے۔ سیلاب جیسی آفات کے لیے مستقل حل نکالنے کے بجائے مختلف فنڈز جاری کر دیے جائیں۔ بیواؤں اور معذور افراد کو سالانہ یا ماہانہ چند ہزار دے کر خوش کر لیا جائے، اس پر طرۂ امتیاز یہ کہ پھر کہا جاتا ہے: یہ حکومت بڑی ہی اچھی ہے جو کمزور افراد کی مدد کر رہی ہے۔ ماشاءاللہ، پیر صاحب! کس قدر نیک دل انسان ہیں کہ ہماری عوام کو مختلف شعبدہ بازیوں سے ورغلا کر اپنے کاروبار کو قائم رکھنے اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے مختلف حربے آزماتے رہتے ہیں، چاہے وہ ٹھگ پیر صاحب کتنے ہی رذیل الاخلاق کیوں نہ ہوں۔

سرکاری افسران خواہ مذہب کے ٹھیکے دار ہوں یا پھر سیکولر و آزادیِ نسواں کے علم بردار، یا پھر کوئی بھی ہو، الغرض ہر فرد اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش میں ہے۔ یہاں تک کہ اسلامی تعلیمات کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ ایسی کتب، تقاریر اور سیمینارز کی بھرمار نظر آتی ہے جہاں اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں انفرادی اور اجتماعی مسائل کا حل پیش کیا جاتا ہے؛ اگر یہی تعلیمات خواہشات کی تکمیل میں آڑے آ جائیں تو پھر سیاست دانوں کے لیے سیکولرزم نہایت ہی بہتر ہے۔ خواتین اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے میرا جسم، میری مرضی کے نعرے بلند کرتی نظر آتی ہیں۔ مذکورہ تمام رویوں کو پاکستانی معاشرے میں بڑی فراخ دلی سے اپنایا جاتا ہے اور برداشت بھی کیا جاتا ہے، جو کہ بالکل بھی برداشت کے قابل نہیں۔ کسی بھی منصب پر فائز مخصوص افراد اگر اقدارِ صالحہ کو رائج کرنے پر آمادہ ہو ہی جائیں تو پورا معاشرہ یک جاں ہو کر ان اقدار کے فروغ دینے والے افراد کا جینا دوبھر کر دیتا ہے۔ حتیٰ کہ آئے روز ہی فتنہ پرور عناصر مختلف حیلے بہانوں سے ان کی کاوشوں میں رخنہ اندازی کرتے ہیں کہ انہوں نے آخر اچھائی اور انصاف کی بات کی ہی کیوں؟

برداشت اور عدمِ برداشت کے رویے بالکل بھی برے نہیں، لیکن اہمیت اس بات کی ہے کہ آیا ان رویوں کا اظہار انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہے بھی یا نہیں۔ اسی شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

More posts