Baaghi TV

دفاعِ وطن سے دفاعِ عقیدہ تک،تحریر:دانیال حسن چغتائی

ستمبر کا مہینہ پاکستان کی قومی اور اسلامی تاریخ میں خاص معنویت، وقار اور روحانی بالادستی کا حامل ہے۔ یہ وہ ایام ہیں جب اس قوم نے اپنی جغرافیائی حدود کی حفاظت کے لیے ناقابلِ فراموش قربانیاں دیں بلکہ اپنے نظریاتی اور دینی وجود کی حفاظت کے لیے بھی تاریخی پیش رفت کی۔ چھ ستمبر کو یومِ دفاعِ پاکستان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جبکہ سات ستمبر کا دن دوہری تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک طرف یہ یومِ فضائیہ ہے جو پاک فضائیہ کے شاہینوں کی شجاعت اور 1965ء کی جنگ میں ان کی بے مثال پیش قدمی کی یاد دلاتا ہے اور دوسری طرف یہ یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ہے کہ جب 1974ء میں قومی اسمبلی نے دوسری آئینی ترمیم کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر عقیدۂ ختمِ نبوت کی آئینی و قانون تحفظ کی بنیاد رکھی۔

یہ دونوں واقعات الظاہر مختلف میدانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک کا تعلق سرحدوں کے دفاع سے ہے اور دوسرے کا تعلق قوم کی روحانی اور نظریاتی سرحدوں سے ہے لیکن اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو ان دونوں کے درمیان ناقابلِ انقطاع ربط موجود ہے۔ دفاعِ وطن اور دفاعِ عقیدہ دراصل ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں: اور وہ جغرافیائی حدود کا تحفظ اور نظریاتی اساس کی پاسبانی ہے۔

پاکستان قطعہ زمین کا نام نہیں ہے بلکہ یہ نظریے، یعنی لا الٰہ الا اللہ کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے۔ اس نظریے کا مرکز و محور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ اور ان کی لائی ہوئی شریعت ہے۔ کسی بھی ریاست کو قائم رکھنے اور محفوظ بنانے کے لیے دو طرح کی سرحدوں کی حفاظت ضروری ہوتی ہے۔۔
جغرافیائی سرحدیں جن کی حفاظت افواجِ پاکستان، بالخصوص پاک فضائیہ کے شاہین کرتے ہیں۔ نظریاتی و عقائداتی سرحدیں۔جن کی حفاظت امتِ مسلمہ کا ایمان اور آئینی بیداری کرتی ہے۔اگر جغرافیائی سرحدیں کمزور ہوں تو ملک دشمن طاقتوں کے سامنے جھک جاتا ہے اور اگر نظریاتی بنیادیں متزلزل ہو جائیں تو قوم کی اندرونی روایات اور اس کا ملکی وجود بکھر جاتا ہے۔ سات ستمبر کا دن ہمیں ان دونوں سرحدوں کے یکجا تحفظ کا پیغام دیتا ہے۔

1965ء کی جنگ میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے جس شجاعت، مہارت اور ایمانی جذبے کا مظاہرہ کیا، وہ دنیا کی عسکری تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ ایم ایم عالم جیسے شجاع پائلٹ نے ایک منٹ میں دشمن کے پانچ طیارے تباہ کر کے جو عالمی ریکارڈ قائم کیا، اس کی بنیاد جدید جنگی سامان نہیں تھا، بلکہ وہ جذبہ ایمانی تھا جو ہر کلمہ گو کے دل میں موجزن ہوتا ہے۔پاک فضائیہ کے جوانوں نے فضائی حدود کی پاسبانی کرتے ہوئے ثابت کیا کہ جب تک قوم کا ایمان مضبوط ہے، عددی اور مادّی عدم توازن کے باوجود فتح و نصرت حق کے ساتھ ہوتی ہے۔ سات ستمبر کو یومِ فضائیہ کے طور پر منانا اس عزم کی تجدید ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود پر کوئی دشمن ناپاک نظر نہیں ڈال سکتا۔
اسی سات ستمبر کا دوسرا اور انتہائی اہم پہلو عقیدہ ختمِ نبوت کا تحفظ ہے۔ 1974ء میں پاکستان کی منتخب قومی اسمبلی نے تمام دینی و سیاسی جماعتوں کی متفقہ جدوجہد کے بعد آئین میں ترمیم کر کے یہ تاریخی فیصلہ سنایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس کے بعد 1984 میں جنرل ضیاء الحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کر کے اس فتنے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔

عقیدہ ختمِ نبوت اسلام کی عمارت کا بنیادی ستون ہے۔ جیسے پاک فضائیہ کا کام ملک کی فضائی حدود کو ہر قسم کی مداخلت سے پاک رکھنا ہے، بالکل اسی طرح ختمِ نبوت کا آئینی فیصلہ اسلام کے دائرے میں کسی بھی قسم کی تحریف اور غیر متعلقہ دعوے کو داخل ہونے سے روکنے کے لیے مضبوط فضائی و عقائداتی ڈھال بنا۔
پاک فضائیہ نے 1965ء میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو دھول چٹائی، تو اس کے پیچھے یہی عقیدہ کار فرما تھا کہ زندگی اور موت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کبھی باطل کے سامنے سر نہیں جھکا سکتی۔اسی طرح، 1974ء میں جب تحریکِ تحفظِ ختمِ نبوت اپنے عروج پر پہنچی تو عوام اور علمائے کرام نے تمام تر اختلافات کو بھلا کر ایک ہی نقطے پر اتحاد قائم کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے عوام اور اس کے ادارے جب بھی کسی ایمانی مقصد کے لیے متحد ہوتے ہیں، تو تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔
آج کے دور میں، ایک طرف جغرافیائی سرحدوں کو جدید جنگی حکمتِ عملیوں سے خطرات لاحق ہیں، وہاں ہماری نظریاتی سرحدوں پر بھی فکر اور عقیدے کے نام پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ جس طرح 1965ء میں عوام اور افواج ایک پیج پر تھے، آج بھی ملک کی ترقی اور سلامتی کے لیے اس رشتے کو مضبوط رکھنا ضروری ہے۔ نئی نسل کو بتانا ضروری ہے کہ 7 ستمبر 1974ء کا فیصلہ کیوں ضروری تھا اور عقیدہ ختمِ نبوت ہماری ملی وحدت کی بنیاد کیسے ہے۔ تمام تر سیاسی و فرقہ وارانہ اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی سلامتی اور اسلام کی حرمت کے لیے یک زبان ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
سات ستمبر کا دن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ پرواز اور عقیدہ جب ایک سمت میں ہوں تو کوئی قوت قوم کو شکست نہیں دے سکتی۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں کی شجاعت اور امتِ مسلمہ کا تحفظِ ختمِ نبوت کے لیے اتحاد، ایک ہی حقیقت کے مظاہر ہیں۔

ہمیں اپنے ان شہداء اور غازیوں کو بھی سلام پیش کرنا ہے جنہوں نے سرحدوں پر اپنے خون سے تاریخ لکھی اور ان جری لوگوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے آئینِ پاکستان کو عقیدۂ ختمِ نبوت کی روشنی سے منور کیا۔ پاکستان کی بقا اسی میں ہے کہ ہم اپنی جغرافیائی سرحدوں کی بھی پاسبانی کریں اور اپنی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ پر بھی کوئی سمجھوتا نہ کریں۔

More posts