ہر سال آٹھ ستمبر کا دن وطنِ عزیز کی تاریخ میں ایک منفرد اور درخشاں مقام رکھتا ہے۔ یہ وہ مبارک دن ہے جب قوم اپنے ان بہادر بیٹوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے سمندر کے نیلگوں سینے پر جرات اور قربانی کی لازوال داستانیں رقم کیں۔ 1965 کی جنگ میں جب دشمن نے ارضِ پاک کی سلامتی کو پامال کرنے کی ناپاک جسارت کی، تو پاک بحریہ نے ‘آپریشن دوارکا’ کے ذریعے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا کر اس کی عددی برتری کے زعم کو پاش پاش کر دیا۔ وہ تاریخی معرکہ نہ صرف ہمارے اسلاف کے غیر متزلزل ایمان اور پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت تھا بلکہ اس نے ہمیشہ کے لیے یہ حقیقت واضح کر دی کہ جنگیں محض اسلحے کے انبار سے نہیں بلکہ فولادی عزم اور حب الوطنی کے جذبے سے جیتی جاتی ہیں۔ آج جب ہم آٹھ ستمبر کو یومِ بحریہ مناتے ہیں، تو ماضی کی ان درخشاں فتوحات کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ دور کے بدلتے ہوئے تقاضوں اور پاک بحریہ کے اسٹریٹجک کردار کا احاطہ کرنا بھی ازحد ضروری ہو جاتا ہے، جس میں سب سے نمایاں اور کلیدی سنگِ میل چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کے عظیم الشان منصوبے کی حفاظت ہے۔
دورِ حاضر میں دفاع کا مفہوم محض سرحدوں پر گشت کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ کسی بھی ملک کی معاشی بقا، تجارتی راستوں کی کشادگی اور خود مختاری کے تحفظ کے ساتھ گہرائی سے جڑ چکا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں سی پیک ایک ایسا انقلابی منصوبہ ہے جسے ملکی معیشت کی شہ رگ قرار دیا گیا ہے۔ خشکی سے لے کر بحیرہ عرب کے گہرے پانیوں تک پھیلا ہوا یہ تجارتی کوریڈور اس وقت تک مکمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا تھا جب تک کہ اس کے سمندری دہانے، یعنی گوادر پورٹ اور اس سے جڑے بین الاقوامی آبی راستوں کو مکمل تحفظ فراہم نہ کیا جاتا۔ پاک بحریہ نے اس قومی ذمے داری کی نزاکت کو بروقت بھانپا اور روزِ اول سے اس منصوبے کے گرد ایک ایسا ناقابلِ تسخیر دفاعی حصار قائم کیا جس نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اعتماد کی ایک نئی فضا پیدا کی۔
سی پیک کی سمندری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پاک بحریہ کا سب سے تاریخی اقدام خصوصی ‘ٹاسک فورس-88’ کی تشکیل تھی۔ یہ فورس جدید ترین جنگی جہازوں، تیز رفتار میزائل بوٹس، لانگ رینج میری ٹائم پیٹرولنگ طیاروں، ڈرونز اور جدید ریڈار نظام پر مشتمل ہے، جو چوبیس گھنٹے گوادر بندرگاہ اور اس کے گرد و نواح کی نگرانی پر مامور ہے۔ جب خطے میں موجود مخالف عناصر سی پیک کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم تھے، اس وقت پاک بحریہ کے جوانوں نے کھلے سمندر میں جاگ کر اس بات کو یقینی بنایا کہ تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت مکمل طور پر محفوظ رہے۔ اس مستقل نگرانی اور پیشہ ورانہ مستعدی کا ہی نتیجہ ہے کہ آج دنیا بھر کی بین الاقوامی جہاز ران کمپنیاں اور عالمی سرمایہ کار گوادر کے محفوظ بحری راستوں پر بھروسہ کر رہے ہیں اور پاکستان کے نیلگوں پانی عالمی تجارت کے لیے ایک پرامن اور قابلِ اعتماد گزرگاہ بن چکے ہیں۔
پاکستان اپنی صنعتی اور توانائی کی ضروریات کا ایک وسیع حصہ سمندر کے راستے ہی درآمد کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب سے گزرنے والی تیل کی سپلائی لائنز کا تحفظ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ پاک بحریہ نے ان سمندری راستوں کو دشمن کی کسی بھی امکانی ناکہ بندی، سمندری قزاقی یا تخریب کاری سے بچا کر دراصل ملک کے کارخانوں، بجلی گھروں اور ٹرانسپورٹ کے پہیے کو رواں دواں رکھنے کی ضمانت دی ہے۔ دوسری جانب اس منصوبے نے پاک چین دفاعی تعاون کو بھی ایک بے مثال بلندی عطا کی ہے۔ دونوں ممالک کے بحری بیڑوں کے مابین مشترکہ مشقیں، جدید گائیڈڈ میزائل فریگیٹس اور ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن سے لیس ہنگور کلاس آبدوزوں کی شمولیت نے پاکستان کی بحری قوت کو ایک ایسی تزویراتی برتری بخشی ہے جس کی موجودگی میں دشمن کسی بھی جارحیت سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور ہے۔
پاک بحریہ کا کردار صرف گولہ و بارود اور جنگی جہازوں تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اس نے سی پیک کے حقیقی ثمرات کو بلوچستان کی مقامی آبادی تک پہنچانے کے لیے بھی فلاحی اور سماجی میدان میں مثالی خدمات انجام دی ہیں۔ گوادر، پسنی اور اورماڑہ کی ساحلی پٹی پر پاک بحریہ کے زیرِ اہتمام جدید تعلیمی ادارے، بحریہ ماڈل اسکولز، کیڈٹ کالج اورماڑہ اور مفت طبی کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں مقامی نوجوانوں کو تکنیکی اور معیاری تعلیم دی جا رہی ہے تاکہ وہ سی پیک کے تحت پیدا ہونے والے معاشی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے علاوہ ملک میں ‘بلیو اکانومی’ کے شعور کو بیدار کر کے سمندری وسائل، ماہی گیری اور شپ بلڈنگ انڈسٹری کو ملکی معیشت کی ترقی کے لیے استعمال کرنے میں بھی بحریہ نے ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔
آج آٹھ ستمبر کا دن ہمیں اس حقیقت کا ازسرنو ادراک کرواتا ہے کہ اگر سی پیک پاکستان کے معاشی مستقبل کی روشن ضمانت اور شہ رگ ہے تو پاک بحریہ اس شہ رگ کی وہ مضبوط اور فولادی ڈھال ہے جس کے جوانوں نے سمندر کی تلاطم خیز لہروں کے سینے پر اپنے لہو سے وفا کی انمٹ داستان لکھی ہے۔ قومی دفاع کے اس مقدس دن پر قوم اپنے باوقار بحری محافظوں کے اس عزم کو سلام پیش کرتی ہے اور یہ یقین دلاتی ہے کہ جب تک بحریہ کے جانباز ہمارے پانیوں کے نگہبان ہیں، مادرِ وطن کی جغرافیائی اور معاشی سرحدیں ہمیشہ تابناک اور محفوظ رہیں گی۔
