Baaghi TV

ہم چہروں سے ملتے ہیں، انسانوں سے نہیں،تحریر: زینب جہانزیب

صبح دفتر کا وقت ہو، کسی شادی کی تقریب ہو، یونیورسٹی کی راہداری ہو یا بازار کی کوئی مصروف گلی، سینکڑوں چہرے ہمارے سامنے سے گزرتے ہیں۔ ہم ان میں سے بہت سوں کو دیکھتے ہیں، کچھ سے ہاتھ بھی ملاتے ہیں، چند کے ساتھ مسکرا کر بات بھی کر لیتے ہیں۔ بظاہر یہ ملاقاتیں ہیں، مگر اگر ذرا غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم اکثر صرف چہروں سے ملتے ہیں، انسانوں سے نہیں۔

ہم نے لوگوں کو جاننے کا پیمانہ بہت جلدی بنا لیتے ہیں۔ کسی کے لباس سے اس کی شخصیت کا اندازہ لگا لیتے ہیں، کسی کی زبان سے اس کا معیار، کسی کے موبائل سے اس کی حیثیت، اور کسی کی خاموشی سے اس کا مزاج۔ چند لمحوں کی ملاقات میں ہم ایک پوری رائے قائم کر لیتے ہیں، حالانکہ انسان کسی تعارف، کسی لباس یا کسی تصویر سے مکمل نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ عادت صرف اجنبیوں کے ساتھ نہیں، اپنے لوگوں کے ساتھ بھی پیدا ہو چکی ہے۔ ہم روز ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، مگر یہ نہیں دیکھتے کہ سامنے والا بدل بھی رہا ہے۔ ایک مسکراتا ہوا چہرہ اندر سے بکھر بھی سکتا ہے، اور ایک خاموش انسان ضروری نہیں کہ ناراض ہو۔ لیکن ہمارے پاس اتنا وقت نہیں بچا کہ ہم چہرے کے پیچھے موجود کیفیت کو پڑھ سکیں۔

شاید اسی لیے غلط فہمیاں پہلے سے زیادہ پیدا ہوتی ہیں۔ ہم سوال کم کرتے ہیں، اندازے زیادہ لگاتے ہیں۔ ہم سننے سے پہلے فیصلہ کر لیتے ہیں، اور سمجھنے سے پہلے رائے قائم کر لیتے ہیں۔ یہ رویہ صرف تعلقات کو کمزور نہیں کرتا، بلکہ انسانوں کے درمیان اعتماد بھی آہستہ آہستہ ختم کر دیتا ہے۔
معاشرہ صرف قوانین سے نہیں، احساس سے بنتا ہے۔ اگر احساس کمزور ہو جائے تو فاصلے بڑھنے لگتے ہیں، چاہے لوگ ایک دوسرے کے کتنے ہی قریب کیوں نہ ہوں۔ ایک دفتر میں برسوں ساتھ کام کرنے والے لوگ بھی ایک دوسرے کی اصل پریشانی سے بے خبر رہ سکتے ہیں، اور ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد بھی ایک دوسرے کی خاموشی کا مطلب نہیں سمجھ پاتے۔

ہم نے تعارف کو تعلق سمجھ لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر سینکڑوں نام، فون میں لاتعداد نمبرز، اور تقریبات میں بے شمار ملاقاتیں… مگر ان سب کے باوجود ایسے لوگ کم ہوتے جا رہے ہیں جن کے سامنے انسان اپنے اصل احساسات کے ساتھ بیٹھ سکے۔
شاید انسان کو سمجھنے کے لیے زیادہ وقت نہیں، زیادہ توجہ چاہیے۔ کبھی کبھی ایک سوال، ایک خاموشی، یا چند منٹ کی بے غرض گفتگو برسوں کی رسمی ملاقاتوں سے زیادہ گہرا تعلق بنا دیتی ہے۔ انسان الفاظ سے کم، توجہ سے زیادہ پہچانا جاتا ہے۔
ہمارے دور کا ایک خاموش المیہ یہ بھی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی موجودگی تو محسوس کرتے ہیں، مگر ایک دوسرے کی کیفیت نہیں۔ ہم چہرے یاد رکھتے ہیں، نام یاد رکھتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر چہرے کے پیچھے ایک ایسی کہانی بھی ہوتی ہے جو شاید کبھی کسی نے پوری سنی ہی نہ ہو۔

شاید اسی لیے آج بھی دنیا کو نئے چہروں سے زیادہ ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو دوسرے انسان کو صرف دیکھیں نہیں، سمجھنے کی کوشش بھی کریں۔ کیونکہ ملاقات آنکھوں سے شروع ضرور ہوتی ہے، مگر دل تک پہنچے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔

More posts