کمرے میں گہری خاموشی اور اداسی کے بادل آپس میں آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ اداسی نے اسطرح ڈیرے ڈالے تھے جیسے میری آخری داستان اس خاموشی کی نظر ہو جائے اور اسی اداسی میں میری چیخیں بند ہو جائیں۔ دیوار پر لگی گھڑی رات کے پچھلے پہر کی ٹک ٹک کا ڈھول پیٹ رہی تھی۔ جس کی ضرب میرے وجود اور دل کی دھڑکن سے ہم آہنگ ہو چکی تھی۔ میرے سائیڈ میز پر رکھی پرانی کتب کی دھول اداسی کی کئی خاموش کہانیاں بیان کر رہی تھیں اور سفید کاغذ مجھے یوں گھور رہا تھا جیسے کوئی جلاد پھانسی دینے والے کو آخری نظر گھور کر دیکھتا ہے۔ میرا قلم آج میری روح کے سفر کا فیصلہ کرنے والا تھا۔ اداسی کی گھٹن میں میں نے اپنے قلم اور کاغذ کو گود میں لیتے ہوئے پہلا لفظ لکھا سوسائیڈ نوٹ۔ اس حرف کو لکھتے ہی میرا وجود کانپ اٹھا شاید وجود تھا یا پھر میرا قلم مجھے ملامت کر رہا تھا ۔میں نے کاغذ کے کینوس پر ابھی لکھا ہی تھا کہ زندگی کے گھٹن حالات سے ہار گیا ہوںں۔اس زندگی سے اکتا گیا ہوں۔ ابھی میرے الفاظ ادھورے تھے میں نے تمہید باندھنے کی ابھی کوشش ہی کی تھی کہ کمرے کی کھڑکی نے بے دھڑک آواز کی اور اس آواز کے ساتھ ٹھنڈی ہوا اور ایک مدھم سی خوشبو کمرے میں داخل ہوئی جیسے کسی نے خاموشی کا دروازہ اندر سے کھول دیا ہو۔
ٹھنڈی ہوا اور خوشبو کمرے میں پھیل گئی میری انکھیں دھندلی سی ہونے لگی شاید رات بھر جاگنے پر کوئی وہم ہو یا پھر میرے تخیل کا کوئی وجود ہو۔ ابھی کشمکش کے عالم میں تھا کہ خوشبو اور دھند اس حد تک پھیل گئی جس میں کسی دوسرے کا عکس دکھائی دینے لگا ہو۔ آہستہ آہستہ دھندلی روشنی مدہم ہوگی اور ایک روشن چہرہ میرے روبرو تھا۔ میں ابھی فیصلہ کر ہی نہ پایا کہ یہ میرے تخیل کا کونسا وجود ھے۔ یہ وجود عکس اب صاف دکھائی دے رہا تھا۔ دھندلی روشنی میں خوشبو سے لپٹی سفید ساڑھی میں براجمان میرے تخیل کا کوئی فریب ہے یا کوئی خاص روپ یا پھر حقیقت کا کوئی نرم سا لمس ہے۔ کمرے کی فضا میں چاندنی آہستہ آہستہ سانس لینے لگی اور میرے تخیل کا وجود میرے سامنے صاف دکھائی دے رہا تھا۔
جس کا روشن چہرہ سفید موتی والی ساڑھی اس کے بدن پر ستاروں کی طرح ٹمٹما رہی تھی۔ حسن کی دیوی کی طرح میرے روبرو براجمان ایک ایسی شہزادی کا سحر انگیز پیکر تھا جس کے سامنے وقت بھی ٹھہر جائے مگر جس کے چہرے کے آثار درد کی کئی کہانیاں اپنے اندر سموئے ہوئے تھے۔ جیسے مسکراہٹ کے پیچھے صدیوں کی خاموش اذیت سانس لے رہی ہو۔
میں ابھی کشمکش کے عالم میں تھا کہ یہ میرے تحیل کا کونسا وجود ہو سکتا ہے۔ شاید روحانییت تصوف یا پھر کوئی اور وجود جس کی تلاش میں صدیوں سے بھٹک رہا ہوں انہی بے شمار سوالوں میں مگن تھا کہ اس عکس نے اپنے لبوں کو چنبش دی اور بولی کیا ہوا ہے تمہیں اتنے اداس کیوں ہو۔
میں اداس۔۔ حرف ساتھ نہ دے رہے تھے میرے لب کپکپا رہے تھے کہ وہ پھر سے بولی:
میں تمہاری امرتا دیوی ہوں تمہارے تخیل کا ایک خاص وجود ایک عکس مجھ سے کیوں ڈرتے ہوں۔
میں جو ابھی سوسائیڈ نوٹ لکھنے والا تھا اس وجود سے اس حد تک ڈر رہا تھا کیا خاک ہی موت کو گلے لگا سکوں گا۔ اس وجود سے ڈر رہا ہوں جس کا خیال میرے اندر بستہ ہے امرتا کا امرتا عشق کی دیوی کا جو آج میری روبرو براجمان ہے۔میں ابھی کئی سوالات لیے سکتے کے عالم میں تھا۔ وہ پھر سے بولی میں پوچھتی ہوں کیا ہوا کیوں اداس ہو۔
میں ہار گیا ہوں۔ اس زندگی سے اکتا گیا ہوں۔ میرے ذہن کے دریچوں میں دن رات ایک ہی بات چلتی ہے۔
نہیں نہیں ایسے نہیں بولتے کیا بات ہے میں ہوں نہ سننے والی تمہاری امرتا دیوی۔
باتیں تو کئی ہیں لیکن میں اب تک اگر مگر شاید اور کاش میں اٹکا ہوا ہو۔
کاش۔۔۔ کاش پر میں نے زور دیا اور ہاں کاش۔۔۔
اتنی گہری باتیں کہاں سے سیکھ لی ہیں تم نے اور اتنے سنجیدہ کب سے رہنے لگے ہو۔ کیا دکھ ھے تمہیں۔
کیا بتاؤں زندگی جبر و مسلسل کی طرح کٹ رہی ھے۔
آج آپ کتنے عرصے بعد میرے روبرو ہو کر آن بیٹھی ہوں۔ تمہیں پتہ ھے میں سوسائیڈ نوٹ لکھنے بیٹھا تھا اور خودکشی کرنے ہی لگا تھا کہ تم آن روبرو ہوں۔
ارے کیا کرتے ہو دیکھو میں کتنی منزلیں طے کر کے تم تک پہنچی ہوں اور تم میری منزل کی طرف آنے لگے ہو موت کو گلے لگانے لگے ہو۔ تمہیں پتہ ھے موت کے بعد موت پھر قبر کی اندھیری رات برزخ کا مقام جنت دوزخ کا فیصلہ اچھے برے اعمال کے سوال پر جزا و سزا یہ سب منزلیں طے کرنی پڑتی ہیں کیا تم پاگل ہو گئے ہو۔ ہاں بس پاگل سا ہو گیا ہوں۔ زندگی کے شور سے اکتا گیا ہوں۔
کیا دکھ ھے تمہیں آج بتاو۔
مجھ سے بھی زیادہ دکھ درد ہیں تمہاری زندگی میں دیکھو میری طرف ادھر میری روح کو نہیں میری آنکھ اور سوچ میں دیکھو جس نے اتنے دکھوں کا سامنا کیا ھے۔ میں جس نے اپنی ماں کا چہرہ ٹھیک سے نہ دیکھا ایک دکھ جس نے اس کی پکی روٹیوں کو ایک پیڑ میں دفن کیا اور پھر اس پیڑ کو مرتے ہوئے دوسری دفعہ ماں کا دکھ پھر شادی کا دکھ آزادی کا دکھ عشق و محبت کا دکھ ساحر و امروز کا دکھ اور ہجرت کا دکھ ہاں ہجرت کا دکھ یہ کہتے ہوئے امرتا رو پڑی۔
دیکھو مت روں میں ایک حساس دل کا مالک ہوں میں بھی رو دوں گا اور پھر ہم دونوں گھنٹے روتے رہے۔
تمہیں کیا دکھ ھے میں ہمیشہ دکھتی رہی ہوں تم تصوف اور روحانیت کی تلاش میں اپنا آپ بھی گنوا بیٹھے ہو اور جب تمہیں روحانیت ملی تو تم اس سے مرتکب ہوئے اسے تسلیم نہ کیا تم سے روحانیت برداشت نہ ہو سکی۔
میں نے بات کاٹ دی دیکھو ادھر میری طرف مجھے نہیں تھا علم کہ یہ وہ ہی روحانیت ھے جس کو میں درد دل سمجھتا رہا ایسا دردل جیسے میں موضوی مرض سمجھ بیٹھا تھا ۔ ہاں ٹھیک ھے اس کے بعد تم میری کھوج میں نکلے میں تو پہلے دن سے تمہارے روبرو تھی بس تم جان نہ سکے۔ دیکھو ان چہروں کی طرف جن کو تم سے اچھی امید ھے جنکے تم محبوب ہوں۔ کیا تم فیض کو جانتے۔ ہاں ہاں پڑھا ھے میں نے فیص کو اس نے کہا تھا اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راخت کے سوا۔۔ امرتا نے میری بات کاٹ اور کہا رکو بات سنو اس کا مطلب ھے تہمں محبت کے سوا کوئی اور گہرا دکھ بھی ھے۔
کونسا دکھ ھے وہ ہجرت کا وصل کا فراق کا کوئی ایک بتاؤ مجھے۔۔۔ سوسائیڈ نوٹ لکھنے سے اور اس مرتکب سے زندگی آسان نہیں ہوتی اور بھی گھٹن ہو جاتی ھے۔ صرف تم ہی نہیں ہو زمانے میں جسے دکھ درد ھے آو میرے ساتھ۔ لیکن کہا کس سمت میں نے سوالیہ نظروں سے پوچھا۔
میری روح کا لمس محسوس کرو یہ جیسے تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں ھے۔ ابھی میں نے اپنا ہاتھ برھایا ہی تھا کہ ہم کسی گمنام گاؤں میں جا پہنچے۔ ایک ایسے گاؤں میں جا پہنچے جہاں ایک نوجوان کا جنازہ اُٹھائے لوگ جا ریے تھے۔
امرتا جی مجھے وہیں چھوڑ کر نہ جانے کہاں غائب ہو گئی۔
میں کشمکش کے عالم میں ادھر اُدھر دیکھنے لگا تمام چہرے اجنبی تھے مگر عجیب بات یہ تھی کہ سب چہرے مانوس بھی لگ رہے تھے جیسے میں انہیں کبھی جانتا رہا ہوں۔ مرنے والے کا باپ میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا شاید یہ کوئی اتفاق تھا یا پھر میرا وہم تقریباً اسی پچاسی برس کا ایک نجیف بزرگ جو کبھی دائیں لڑکھڑاتا تو کبھی بائیں جھک جاتا مگر اس کے قدم جنازے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ جیسے اُس باپ کی سانسیں بھی اپنے بیٹے کی میت سے بندھی ہوں۔ ایک لمحے کو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اُس نے میرا دامن تھاما ہو یا شاید میں نے اُس کا یہ حقیقت تھی یا محض وہم میرے شعور نے کوئی جواب نہ دیا تھا۔
کوئی رشتہ تھا یا صرف اتفاق
میں دائیں مڑا پھر بائیں جانب پلٹ گیا مگر اس برگزیدہ شخص نے میرا دامن نہ چھوڑا۔ میں اس وقت اس باپ کی بے بسی کو بڑے قریب سے نہ صرف دیکھ رہا تھا بلکہ اس کا دکھ بھی محسوس کر رہا تھا۔
وہ بوڑھا شخص میرے قدموں کے ساتھ قدم ملا کر چلتا رہا جنازہ گاہ پہنچ کر اُس نے اپنے بیٹے کی نمازِ جنازہ پڑھی روتے ہوئے بیٹے کا آخری دیدار کیا آنسوؤں کی لڑی اُس کے رخساروں پر بہہ رہی تھی۔ جیسی مرجھائے ہوئے موتیوں کی لڑی ہو جس نے اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے اُس نے مٹھی بھر مٹی قبر پر ڈالی
اور خاموشی سے گھر لوٹ گیا یہ منظر ابھی جاری ہی تھا کہ پھر سے کہیں امرتا جی نمودار ہوئی۔
اُس نے میرا بازو پکڑ کر پوچھا:
کیا تم نے کچھ سیکھا؟
میں ابھی تک پریشانی کے عالم میں ڈوبا ہوا تھا وہ مجھے دوبارہ اُس گھر لے گئی جہاں سے میت کا جنازہ اُٹھا تھا ایک کمرے میں عورتیں بال کھولے چیختے ہوئے سینہ کوبی کر رہی تھیں۔ایک نوجوان اپنے بھائی کے غم میں نڈھال تھا ایک بیوی شوہر کے فراق میں ٹوٹ چکی تھی
ایک بہن اپنے بھائی کو پکار رہی تھی اور ننھی بچی روتے بلکتے ہوئے باپ کو صدائیں دے رہی تھی اور ایک باپ خاموش لب لیے ایک کنارے بیٹھا سوچوں میں مگن تھا۔ اُس کی خاموشی مجھے اندر سے توڑ رہی تھیں سب سے زیادہ چیخیں آہ پکار اس خاموش باپ کی مجھے محسوس ہو رہی تھیں۔
یہ سب دیکھتے ہوئے ہم پھر جنازہ گاہ پہنچے جہاں پر میت کی قبر پر آخری مٹھیاں مٹی ڈالی جارہی تھی
جب میری نظر قبر کی مٹی پر ٹھہری اور میت کی طرف نگاہ گئی تو میں دنگ رہ گیا۔ وہاں جو چہرہ تھا۔
وہ شاید میرے عکس کا تھا۔
یا شاید کسی اور کا ان سب میں وہ چہرہ بھی بہت دھندلا تھا جس کا فیصلہ میں نہ کر پایا۔ میں ابھی سکتے کے عالم میں مبتلا تھا کہ پھر سے امرتا جی نمودار ہوئی۔ میں نے سوالوں کے انبار لگا دیے۔ امرتا نے میرا ہاتھ تھامے مجھے پھر سے میرے کمرے میں لے آئی مگر اب کمرہ ویسا نہیں تھا خاموشی کی لہر ٹوٹ چکی تھی بس اداسی کے بادل منڈلا رہے تھے۔
امرتا نے خاموشی توڑی۔ تم نے کچھ سیکھا کچھ سمجھے؟ میں ابھی تو سمجھ نہیں پایا کون تھا وہ۔۔۔ وہ باپ وہ بیٹی وہ بہن اور وہ مرنے والا۔؟ دیکھو وہ بھی تمہارا ایک عکس تھا وجود کا ایک خاص عکس اس سے عبرت حاصل کرو نہ کہ سوسائیڈ کرو۔
وہ پھر بولی تم نے گیتا کو پڑھا ھے؟
زمانہ طالب علمی میں سرسری دیکھی تھی پھر دوبارہ اس عمر میں پڑھی جب میرے نزدیک گیتا کے تمام اشلوک زخمی یا شاید میری روح زخمی تھی۔
اچھا تو قرآن کو تو پڑھا ہی ہوگا۔
میں بڑے فخر سے جی جی میں نے پڑھا ھے قرآن کو۔
بس پڑھا ھے یا پھر کچھ سیکھا ھے؟
میں خاموش ہو گیا میرے پاس کوئی ٹھوس جواب نہ تھا۔
امرتا نے پھر خاموشی کو توڑا تم نے بدر اور احد کا واقعہ تو پڑھا ہوگا جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ھے۔
میں امرتا کے اس سوال پر چونکا اور جواب دیا ہاں ہاں میں نے مکمل پڑھ رکھا ھے۔
اگر مکمل پڑھا ھے تو تہمں تو خوشی کا غمی کا احساس بخوبی ہونا چاہئے تھا نہ کہ تم ایک غم کو لے کر بیٹھے ہو۔
دیکھو میری طرف میں وضاحت کرتی ہو بدر اور احد کی خوشی کی غمی کی۔ قرآن میں اس واقع کو اسطرح بیان کیا گیا ھے کہ تمہاری زندگی میں ایک دن بدر کا ہوگا ایک دن احد گا
یعنی ایک دن خوشی کا اور دوسرا دن جزن و ملال کا
خوشی والے دن شکر ادا کرنا اور غمی میں صبر کرنا۔
میری طرح صبر کرو جس نے ماں کا ہجرت کا اولاد کا ہمسفر کا سب دکھوں کا سامنا صبر سے کیا میں بھی صبر کر رہی ہوں تم بھی دعا اور صبر کرو۔
میرے ثبت کو مت آزمائو اتنی ملامت نہ کرو میں تو اپنی تخیل کے وجود سے ہم کلام ہونا چاہتا تھا اپنی تنہائی کو ایک روپ دینا چاہتا تھا۔ میں تھوڑی اس گناہ سے مرتکب ہوا ہوں اور اب اتنا گیان تمہاری طرف سے آ گیا ھے۔ اب تو میں تنہائی میں سوچو گا بھی نہیں بس تم گاہے بگاہے میرے روبرو آتی رہنا۔ نہیں ایسا ممکن نہیں ہے۔ لیکن کیوں۔۔ میں کئی منزلیں طے کر کے آئی ہوں صرف تمہارے وجود کے عکس سے ہمکلام ہونے اور تمہیں سیدھی سمت دکھانے۔ ابھی امرتا کے الفاظ ادھورے ہی تھے کہ معلم نے اللہ اکبر کی صدا دی۔
اس کی صدا میں ایک عجیب سی لرزش تھی جیسے وقت نے میرے کمرے کی دیواروں پر دستک دی ہو۔
روشنی مدھم ہونے لگی سایے لمبے ہو گئے اور اس کا وجود دھند میں تحلیل ہونے لگا جیسے واپسی کی تیاری میں کوئی مسافر آخری بار پلٹ کر دیکھتا ہے۔
میں نے گھبراہٹ میں کہا،
اب جان گیا ہوں اب نہیں لکھوں گا وہ نوٹ تم جو آ گئی ہو اس نے نگاہ بھر کر دیکھا اور بے بسی سے بولی اب تو میں جانے والی ہوں۔
کدھر کہاں کیوں؟
میں نے ایک ہی سانس میں سینکڑوں سوال کر دیے
میرے الفاظ بھی اس کے تخیل کے وجود کی طرح ٹوٹ کر اس کے گرد بکھر گئے۔
اب میری واپسی کا وقت ہے تم نے دیر کر دی۔ کیسی دیر میری بات سنو۔۔۔
میں نے ہاتھ بڑھایا، مگر میرا ہاتھ صرف ہوا میں اسکے تخیل کو چھو سکا۔
اتنی ہی دیر میں وہ دھندلکے ہوا اور خوشبو میں تحلیل کا ایک روشن جگنو بن کر اڑ گئی۔ اور میرے کمرے میں صرف اذان کی گونج باقی رہ گئی۔ میرا قلم دو حصوں میں ایک طرف جا گرا میں اسے یوں دیکھتا رہا تھا جیسے وہ میرے تخیل کا جنازہ ہو
اور میں خود اپنے الفاظ کا وارث بننے سے محروم ہو چکا ہوں۔
کھڑکی کے باہر صبح کی ہلکی روشنی نمودار ہو رہی تھی۔
اذان کی صدا اب چاروں طرف گونج رہی تھی۔۔
میں نے کاغذ کی طرف دیکھا۔
لفظ "سوسائیڈ نوٹ” ابھی تک میرے سامنے واضح تھا۔
میں نے قلم کے ٹوٹے ہوئے دونوں حصے اٹھائے وہ جیسے مجھ سے زیادہ زندہ ہوں میری بے وقوفی پر ملامت کرتے ہوئے مسکرا رہے تھے۔ معلم کی صدا اور اذان کی آواز تھم چکی تھیں اور ہلکی روشنی نمودار ہو رہی تھی اور میں نے پہلی بار خود کو دفن ہونے کی بجائے دوبارہ جنم لیتے دیکھا۔
