Baaghi TV

نظم ، ثروت کی تلاش ،شاعر : عرفان خانی

ساکت لمحوں میں ہلچل
ہوا کے تماچوں کا شور مسلسل کسی دہلیز کے سامنے سے دبے پاؤں گزر جاتا ہے
یہ جانتے ہوئے بھی کہ
اس دہلیز پر کبھی نہیں ابھی بھی کسی کے لمس کی خوشبو کے نشان باقی ہیں
عشق کے امتحان باقی ہیں
وہ ثروت بھری مسکراہٹ
ثروت کی تھی
ثروت کی ہی ہے
مگر ثروت کو یہ معلوم نہیں
کہ اب اس کی یہ مسکراہٹ
چار دیواروں میں بھٹکتی پھرتی ہے اور اس چار دیواری میں مقید راز ثروت
کی تلاش میں نجانے کتنی روحیں جھلملاتی پھرتی ہیں دل کے ویران آنگن میں
نئے پھول کھلاتی پھرتی ہیں
مگر ان نئے پھولوں کی خوشبو ثروت کے جیسی نہیں ہے نئی صبحوں کی روشنی بھی ثروت جیسی نہیں ہے اور شام تو بلکل ثروت جیسی نہیں ہے
شام تو ٹھہر ہی جاتی ہے
ثروت کے چھوڑے ہوئے آنگن میں مگر کب تک یہ شام ٹھرے گی کیوں ٹھرے گی
کب ٹھہرے گی کیسے ٹھرے گی تم ہی بتاؤ ثروت جب
ثروت جیسے لمحات ہی نہ ہوں تو
صبح
دن
شام
رات
ساون
کیسے ثروت کے لمحات لے کر آئیں گے
ویرانے میں مسکرائیں گے
ویرانہ ویرانہ ہے خانی
ثروت ملتی نہیں ہر کسی کو
جو ملی تو بچھڑ گئی
بچھڑی ہوئی ثروتوں کی
تلاش میں زیست بیتانی ہے
بس یہ ثروت کی کہانی ہے

More posts