قومی کرکٹرز امام الحق اور محمد رضوان کے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دفتر میں پیش ہونے کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے دونوں کرکٹرز سے لیے گئے موبائل فونز تکنیکی تجزیے کے لیے فرانز ک لیب بھجوا دیے ہیں،تفتیشی ٹیم نے گزشتہ روز امام الحق اور محمد رضوان کے موبائل فونز ان لاک کروائے تھے، جس کے بعد دونوں موبائل فونز کو فرانز ک کے لیے بھیج دیا گیا۔
تحقیقات کا بنیادی مرکز دونوں کھلاڑیوں سے متعلق مالی معاملات اور مشتبہ لین دین ہے امام الحق اور محمد رضوان کے انگلینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز سے قبل اور بعد کے مالی معاملات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ دونوں کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی جانچ کے عمل میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق متعلقہ عرصے کے دوران دونوں کھلاڑیوں کے بینک اکاؤنٹس سے ہونے والی ٹرانزیکشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے اگر کسی مشتبہ لین دین کا پتا چلتا ہے تو اس رقم کے ذریعے اور اس کی منتقلی سے متعلق مزید تحقیقات کی جائیں گی، موبائل فونز کی فرانزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، تاہم این سی سی آئی اے نے تاحال دونوں کرکٹرز پر عائد کسی الزام کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔
واضح رہے کہ قومی کرکٹرز امام الحق اور محمد رضوان کو ڈریسنگ روم لیکس کیس سے متعلق تحقیقات کے لیے گزشتہ روز نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور کے دفتر طلب کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت مانگا تھا،امام الحق اور محمد رضوان سے ساڑ ھے 3 گھنٹے سے زائد تفتیش کی گئی تھی۔
