Baaghi TV

صحت ہمارے ہاتھ میں ہے ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

ہم روزانہ اسپتالوں کے باہر لگی لمبی قطاریں، کلینکوں میں مریضوں کا ہجوم اور میڈیکل اسٹورز پر بکنے والی ادویات کے ڈھیر دیکھتے ہیں تو دل دہل کر رہ جاتا ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر اکثر یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید بیماری انسانی مقدر کا حصہ بن چکی ہے یا پھر ہمارا ماحول اس قدر آلودہ ہو گیا ہے کہ بچ نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ مگر ذرا ٹھہریے اور اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیے؛ کیا واقعی یہ سب محض قسمت کا کھیل ہے؟ یا پھر ان تمام مسائل کے ذمہ دار ہم خود ہیں؟ حقیقت یہی ہے کہ ہماری بیشتر بیماریوں کا تعلق کسی بیرونی وائرس سے زیادہ ہمارے اپنے روزمرہ کے رویوں، کوتاہیوں اور نام نہاد جدید طرزِ زندگی سے ہے۔ تندرستی کوئی ایسی نعمت نہیں جو بازار سے خریدی جا سکے، بلکہ یہ ایک ایسا قیمتی پودا ہے جس کی آبیاری انسان کو خود اپنے فیصلوں سے کرنی پڑتی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ صحت مند رہنا کسی اور کی نہیں، بلکہ مکمل طور پر ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔

ہم نے جدید کہلانے کے شوق میں اپنے باورچی خانوں اور دسترخوانوں کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ بازاری مرغن کھانے، تلی ہوئی اشیاء، ڈبے بند غذائیں اور مصنوعی میٹھے مشروبات اب ہماری زندگی کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔ ذائقے اور وقتی لذت کی ہوس میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو زہر ہم اپنے جسم میں اتار رہے ہیں، اس کا خمیازہ ہمارے دل، گردوں اور معدے کو بھگتنا پڑتا ہے۔ قدرت نے موسمی پھلوں، ہری سبزیوں، خالص دودھ اور سادہ دالوں میں جو شفا رکھی تھی، ہم نے اسے پسِ پشت ڈال دیا۔ دن بھر میں چند گلاس صاف پانی پینے کی زحمت تک گوارا نہیں کی جاتی، مگر بوتلیں اور غیر معیاری جوسز دھڑلے سے پیے جا رہے ہیں۔ اگر ہم آج بھی سادگی کی طرف لوٹ آئیں، پلیٹ میں تلے ہوئے کھانوں کی جگہ سلاد اور پھلوں کو جگہ دیں، تو آدھے سے زیادہ امراض تو وہیں دم توڑ دیں گے۔

غذا کے بگاڑ کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنے جسم کو بالکل بے جان اور جامد بنا دیا ہے۔ ٹیکنالوجی نے جہاں آسائشیں دیں، وہیں ہمیں حرکت سے بھی محروم کر دیا۔ ریموٹ کنٹرول، اسمارٹ فون اور گاڑیوں نے چلنے پھرنے کی عادت ہی چھین لی ہے۔ چند قدم کا فاصلہ طے کرنے کے لیے موٹر سائیکل یا گاڑی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ موٹاپا، بلڈ پریشر، جوڑوں کا درد اور ذیابیطس جیسی بلائیں ہر دوسرے گھر میں ڈیرے ڈال چکی ہیں۔ کسی بھی انسان کے پاس اتنا وقت تو ہوتا ہی ہے کہ وہ دن بھر کے چوبیس گھنٹوں میں سے محض پچیس یا تیس منٹ اپنے لیے نکال سکے۔ صبح کی تازہ ہوا میں تیز چہل قدمی یا ہلکی پھلکی ورزش دل کی دھڑکنوں کو ترتیب دیتی ہے، خون کی روانی کو بحال کرتی ہے اور انسان کو اندر سے تروتازہ بناتی ہے۔ اس سستی کو توڑنا صرف ایک پختہ ارادے کا محتاج ہے، جو ڈاکٹر کا کوئی نسخہ فراہم نہیں کر سکتا۔

جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون بھی تندرستی کی ایک بڑی بنیاد ہے، جسے ہم نے راتوں کو جاگنے کی عادت سے داؤ پر لگا دیا ہے۔ بستر پر لیٹ کر گھنٹوں نیلی روشنی بکھیرتی موبائل اسکرینز کو تکتے رہنا اب معمول بن چکا ہے۔ جب جسم کو سات سے آٹھ گھنٹے کی گہری اور پرسکون نیند نہیں ملتی، تو اعصاب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں، قوتِ مدافعت جواب دے جاتی ہے اور انسان چڑچڑے پن اور ڈپریشن کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ منفی سوچیں، غیر ضروری حسد اور مقابلہ بازی دل اور دماغ پر بوجھ بن جاتی ہیں۔ نیند کا وقت مقرر کرنا، اسکرین سے دوری اختیار کرنا اور چند لمحات قدرت کی خاموشی میں گزار کر ذہنی بوجھ کو ہلکا کرنا بھی تو ہمارے اپنے ہی اختیار میں ہے۔

تمباکو نوشی، چائے و کافی کی زیادتی اور ذرا سے سردرد پر خود ہی اینٹی بائیوٹکس یا درد کش گولیاں نگل لینے کا رواج ایک اور بڑا المیہ بن چکا ہے۔ ہم بیماری کو جڑ سے ختم کرنے کے بجائے اس پر عارضی پردہ ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ صحت مند رہنے کے لیے کسی جادوئی دوا یا دولت کے انبار کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ صرف شعور، اعتدال پسندی اور خود پر قابو پانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ فیصلہ اب ہمارے سامنے ہے کہ آیا ہم وقتی آسائشوں اور چٹخاروں کے غلام بنے رہیں اور بعد میں عمر بھر اسپتالوں اور دوائیوں کے محتاج رہیں، یا پھر آج ہی ایک صحت مند، سادہ اور متحرک طرزِ زندگی اپنا کر ایک شاداب زندگی گزاریں۔ کیونکہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس جسم اور جان کے اصل نگہبان آپ خود ہیں، اور تندرستی کا چراغ روشن رکھنا فقط آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

More posts