کوئی بھی معاشرہ ترقی کی شاہراہ پر اس وقت تک گامزن نہیں ہو سکتا جب تک مرد و عورت دونوں کو یکساں طور پر خود مختار نہیں مانتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کائنات کے سب رنگ عورت کی وجہ سے ہیں۔ عورت ہر روپ، ہر رشتے میں محبت اور عاجزی کے ساتھ رب کی بہترین تخلیق ہے۔ عورت معاشرے کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بے شک کما کر مرد ہی لاتا ہے مگر گھر ایک جنت تب بنتا ہے۔ جب عورت اسے سجاتی، سنوارتی اور اپنا سمجھتی ہے۔ کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے کہ ” ایک مرد کی تعلیم، ایک فرد کی تعلیم ہے اور ایک عورت کی تعلیم سمجھو ایک نسل کی تعلیم ہے۔” ماں کی گود کو بچے کی پہلی درسگاہ کہا جاتا ہے۔ اس نے جو بھی سیکھنا ہے ماں سے سیکھنا ہے اگر ماں اچھی تربیت کر رہی ہے تو مطلب وہ معاشرے کو ایک اچھی نسل دے رہی ہے۔ گھر کا ماحول بچے کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جو اپنے گھر میں والدین کو دوسروں کی عزت واحترام کرتا ہوا دیکھتا وہ خود بخود ویسا ہی کرتا ہے۔ بیٹا ہو یا بیٹی دونوں کی تربیت اچھی ہو تو وہ جہاں بھی جائیں گے۔ ایک واضح شناخت رکھیں گے لیکن اس کےلئے ضروری ہے کہ عورت تعلیم یافتہ ہو۔ تعلیم کا حصول بھی صرف ڈگری کا حصول یعنی کاغذی کاروائی نہ ہو۔ یہ حقیقت ہے کہ عورت کی تعلیم پوری نسل کی تعلیم ہو تی ہے۔
عورت چاہے تو نسلیں سنوار دے اور چاہے تو نسلیں اجاڑ دے۔ تعلیم شعور دیتی ہے۔ اچھے برے کی پہچان کرنا سکھاتی ہے۔ پڑھی لکھی با شعور ماں کو پتہ ہوگا کہ وہ زمانے کے لحاظ سے بچوں کی تربیت اچھے طریقے سے کیسے کر سکتی ہے۔ بدلتے زمانے کا ساتھ دینے کےلئے ضروری ہے کہ وہ پہلے خود کو وقت کے سانچے میں ڈھالے اور اس کےلئے لازمی ہے کہ عورت تعلیم یافتہ ہو۔ وہ زمانے کے بدلتے اطوار سیکھے گی تو اپنے بچوں کو سکھائے گی۔ بچوں میں ایمانداری، صداقت، ہمدردی، احترام، پاسداری عہد، صبر و تحمل، برداشت، درگزر، مذہبی اقدار، خود اعتمادی، رکھ رکھاو، سلیقہ، شائستگی، کفایت شعاری اور احساس کے جذبے کو پروان چڑھا کر معاشرے کو ایک ذمہ دار شہری دیتی ہے۔ جس عورت کو ان جذبات و احساسات کا خود کچھ علم نہ ہو اس نے دوسروں کو کیا سکھانا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تعلیم یافتہ عورت اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرکے ایک ذمہ دار شہری بنا کر معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
