رائیونڈ لاہور سے ادب کا وہ طالب علم ہوں جوعرصہ دس سال سے لکھنے کی کوشش میں مصروف عمل ہوں پہلا کالم ہی کتاب کالم پوائنٹ میں شائع تھا پھرپاکستان کے نامور اخبارات و میگزین میں کالم،فیچرز،مضمون اور نامور شخصیات کے کیے گئے انٹریوز شائع ہوتے رہے،میرا قلم انسانیت،مسلمانیت اور پاکستانیت،کا ترجمان ہے۔ہرتحریر ادب کے تناظر میں لکھتا ہوں جس کی خاصیت یہ ہے کہ وہ کبھی پرانی نہیں ہوتیں یعنی اپنے پڑھنے والوں کو خالی الذہن نہیں رہنے دیتا۔ دو کتابوں کے مصنف ہوں پہلی کتاب ظفریات اور دوسری کلیات ظفرہے۔ٖظفریات کتاب کی تین سو کاپیاں بغیر دنیاوی مفادات کے خدمت ادب اور ترویج اردو میں مفت تقسیم کیں۔
پہلی ظفریات پر پاکستان کے تاریخ ساز فلمی رائٹر جناب ناصر ادیب نے مسودہ پڑھنے کے بعد اس اظہار خیال نوازا۔
ظفر رہتا اس دور میں ہے مگر بات ہر دور کی کرتا ہے حلانکہ اکثر رائٹر اپنے آپ کو لکھتے ہیں مگر ظفر وہ لکھتا ہے جیسے محسوس کرتا ہے۔
ظفر سطح سمندر پر آنے والی مچھلیوں کو نہیں پکڑتا بلکہ چھلانگ لگا دیتا ہے سمندر میں اور اس کی گہرائیوں میں اتر کر وہاں سے ہیرے، موتی،جوہرات اپنے لفظوں کے جال میں سمیٹ کر لاتا ہے اور اسے ہمارے سامنے رکھ دیتاہے۔ ظفر وہ رائٹر ہے جس کے بارے میں،میں کہہ سکتا ہوں کہ اس کی کتاب وہ کتاب ہے جو ہر صاحب اولاد آدمی کے تکیے کے نیچے ہونی چاہیے۔
ریڈیو،ٹی وی پروگرام بھی بطور میزبان،ہوسٹ کیے۔ اصول قلم میں دنیاوی مفاد کو ترک کرنافرض سمجھتے ہوں تاکہ تحریروں میں تاثیرقائم رہے، جو الفاظ اثر سے خالی ہوں وہ الفاظ نہیں فقط سیاہی کے دبے ہیں۔
میں اپنے قلم و تحریر میں نکھارو تاثیر سے نوازنے والے استادوں اور کتابوں کا احسان مند ہوں


