Baaghi TV

خانپور تا چاچڑاں شریف ریلوے، ماضی کی یاد سے مستقبل کے سفر تک،تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ

خانپور تا چاچڑاں شریف ریلوے لائن صرف لوہے کی پٹڑی نہیں تھی بلکہ اس پورے خطے کی معاشی، زرعی، سماجی اور سفری زندگی کی ایک متحرک علامت تھی۔ اس تاریخی ریلوے لائن کا منصوبہ 1909ء میں منظور ہوا اور 1911ء میں اسے باقاعدہ کھول دیا گیا۔ یہ لائن سابق ریاست بہاولپور کے دربار کی مالی معاونت سے تعمیر ہوئی اور برطانوی دور کی نارتھ ویسٹرن ریلوے کے ذریعے اس کا انتظام و آپریشن کیا جاتا تھا۔ خانپور سے چاچڑاں شریف تک تقریباً 36 کلومیٹر طویل اس ریلوے لائن پر پانچ اہم اسٹیشن خانپور جنکشن، کوٹلہ پٹھان، ججہ عباسیاں، ظاہر پیر اور چاچڑاں شریف قائم تھے۔ برسوں تک اس پٹڑی پر چلنے والی ٹرین ہزاروں مسافروں کے لیے آسان، محفوظ اور نسبتاً سستا ذریعۂ آمدورفت تھی۔ کسان اپنی زرعی پیداوار منڈیوں تک پہنچاتے، کاروباری سرگرمیاں بڑھتیں اور دور دراز علاقوں کے درمیان رابطے مضبوط ہوتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ترقی کا پہیہ واقعی ریل کی پٹڑی پر دوڑ رہا ہو۔ افسوس کہ وقت کے ساتھ یہ تاریخی سلسلہ ماند پڑ گیا۔ دستیاب مختلف حوالوں میں مسافر سروس کی بندش کا سال مختلف بیان ہوا ہے؛ بعض حوالوں کے مطابق 1998ء تک یہاں مسافر ٹرین چلتی رہی، جبکہ مقامی طور پر اس سے پہلے بندش کا ذکر بھی ملتا ہے۔ بعد ازاں ٹریک بھی اکھاڑ دیا گیا اور ایک ایسا سفری و معاشی باب بند ہوگیا جس کی یاد آج بھی اس خطے کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں ریلوے کو صرف آمدورفت نہیں بلکہ سیاحت، خوشی، سہولت اور معاشی ترقی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، مگر ہمارے ہاں ایک تاریخی ریلوے راستہ وقت کی گرد میں گم ہوگیا۔ ریلوے کی قیمتی اراضی کے بعض حصوں پر تجاوزات اور قبضوں کے باعث گھر، دکانیں اور کھیت بن گئے، جس نے بحالی کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا۔ چاچڑاں شریف کی اپنی ایک منفرد روحانی اور تاریخی شناخت ہے۔ یہی وہ خطہ ہے جسے حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی نسبت حاصل ہے اور دریائے سندھ کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے یہاں مذہبی، تاریخی اور سیاحتی اہمیت بھی موجود ہے۔ اگر خانپور تا چاچڑاں شریف ریلوے لائن ازسرِنو تعمیر کی جائے تو یہ صرف ٹرین کی بحالی نہیں بلکہ زراعت، تجارت، سیاحت، روزگار اور علاقائی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔ آج خانپور، ظاہر پیر، ججہ عباسیاں، کوٹلہ پٹھان اور چاچڑاں شریف کے عوام کی آواز ایک ہی ہے کہ اس تاریخی ریلوے لائن کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ ماضی کی وہ پٹڑی جو کبھی خوشحالی کا راستہ تھی، اگر آج جدید تقاضوں کے مطابق دوبارہ بچھا دی جائے تو شاید دفن شدہ ماضی کا یہ شاندار باب ایک بار پھر روشن مستقبل کی بنیاد بن جائے۔

More posts