میری پیاری رکی ہوئی گھڑی!
سلامِ عقیدت!
آج تمہیں اپنی کلائی پر باندھتے ہوئے دل ایک بار پھر بائیس برس پیچھے چلا گیا ہے۔ وقت گزر گیا، موسم بدل گئے، زندگی نے کئی کروٹیں لیں، مگر تم آج بھی وہیں ہو، جہاں میری زندگی کی ایک خوبصورت یاد ٹھہر گئی تھی۔ تم میرے لیے محض ایک گھڑی نہیں، میرے ابو کی محبت، ان کی شفقت، ان کی یاد اور میری زندگی کے سب سے قیمتی لمحوں کی ایک ایسی نشانی ہو، جسے وقت بھی مجھ سے جدا نہیں کر سکا۔
مجھے آج بھی بائیس سال پہلے کا وہ دن یاد ہے، جب میں نے آٹھویں جماعت کے بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ وہ دن میری زندگی کے خوبصورت دنوں میں سے ایک تھا۔ کامیابی کی خوشی اپنی جگہ تھی، مگر اس خوشی کو میرے ابو کے ہاتھوں ملنے والے تمہارے تحفے نے اور بھی یادگار بنا دیا تھا۔
میرے ابو نے مجھے ایک خوبصورت، سرخ، چمکتی ہوئی گھڑی تحفے میں دی تھی۔ مجھے تم اس قدر پسند آئیں کہ میں نے تمہیں فوراً اپنی کلائی میں پہن لیا۔ شاید مجھے بورڈ میں پوزیشن لینے کی اتنی خوشی نہیں تھی، جتنی تمہیں اپنی کلائی میں دیکھ کر ہوئی تھی، کیونکہ تم ابو کا تحفہ تھیں۔ میرے لیے تمہاری قیمت تمہاری خوبصورتی میں نہیں، بلکہ اس محبت میں تھی جو تمہارے ساتھ میرے ابو نے میرے ہاتھ میں تھمائی تھی۔
اگلے دن جب میں اسکول گئی تو دوستوں کے سامنے تمہیں اس طرح دکھا رہی تھی، جیسے میرے پاس کوئی قیمتی خزانہ آگیا ہو۔ میں بڑے فخر سے سب سے کہہ رہی تھی، ’’یہ میری زندگی کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔‘‘ اس وقت شاید مجھے معلوم بھی نہیں تھا کہ ایک دن یہی گھڑی میری زندگی کی سب سے قیمتی یاد بن جائے گی، اور اس کی رکی ہوئی سوئیاں میرے لیے وقت کی سب سے بڑی گواہی بن جائیں گی۔
اس کے بعد زندگی میں بہت سے تحفے ملے، بہت سی خوشیاں آئیں، مگر تم جیسا قیمتی کوئی نہ تھا۔
پڑھائی کے کئی مرحلے گزرے، زندگی آگے بڑھتی رہی، شادی ہوئی، گھر بدلا، ذمہ داریاں بڑھیں، زندگی نے کئی رنگ بدلے، مگر تم کبھی میری کلائی سے جدا نہ ہوئیں۔ ایک ہاتھ کی چوڑیاں بدلتی رہیں، موسموں کے ساتھ لباس بدلتے رہے، زندگی کے انداز بدلتے رہے، مگر دوسری کلائی پر تم ہمیشہ اسی محبت سے موجود رہیں۔
تم میری زندگی کے کئی برسوں کی خاموش ساتھی رہیں۔ میری خوشیوں کو دیکھا، میری پریشانیوں کی گواہ بنیں، میری دعاؤں کے لمحے دیکھے اور میری زندگی کے کئی خوبصورت اور مشکل دنوں کو اپنی خاموش سوئیوں میں محفوظ کرتی رہیں۔
پھر وہ بائیس رمضان المبارک کا دن آیا، جس نے میری زندگی کا وقت ہی بدل دیا۔
تم صبح سے کبھی رک جاتیں اور کبھی خود ہی چل پڑتیں۔ میں بار بار تمہیں دیکھتی اور پریشان ہوتی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ تم کسی آنے والے لمحے کی خبر دے رہی ہو۔ عبادات کے دوران بھی ذہن تمہاری طرف ہی جاتا رہا۔ افطاری کے وقت بھی میں تمہیں دیکھتی رہی۔ دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی، مگر اس بے چینی کا سبب سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
پھر اسی پریشانی کے ساتھ سو گئی۔
رات کو اچانک میری آنکھ فون کی تیز آواز سے کھلی۔ دل عجیب بے چینی میں مبتلا تھا۔ میں نے گھڑی دیکھی تو وہ رک چکی تھی۔ شاید اس لمحے بھی میں یہ سمجھ نہیں پائی کہ تمہاری سوئیاں میری زندگی کے سب سے بڑے صدمے کو اپنے اندر محفوظ کر چکی ہیں۔
میں نے فون اٹھایا تو بھائی کی روتی ہوئی آواز سنائی دی:
’’ابو نہیں رہے، تم فوراً آجاؤ۔‘‘
یہ چند الفاظ تھے، مگر ان الفاظ نے میری پوری دنیا بدل دی۔ وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے بڑا صدمہ تھا۔ ابو ٹھیک تین بج کر پچاس منٹ پر دنیا سے رخصت ہوئے تھے، اور تم بھی اسی وقت رک گئی تھیں۔
اس لمحے سے میرے لیے وقت کی تعریف ہی بدل گئی۔ دنیا کے لیے گھڑی کی سوئیاں رک گئی تھیں، مگر میرے لیے ایک پورا زمانہ وہیں ٹھہر گیا تھا۔ ابو چلے گئے، مگر ان کی محبت، ان کی آواز، ان کی شفقت اور ان کی یادیں میرے اندر ہمیشہ کے لیے زندہ رہ گئیں۔ اور تم… تم اس آخری لمحے کی گواہ بن کر میری کلائی پر موجود رہیں۔
میں نے تمہیں اتار کر ایک سال تک سنبھال کر رکھا۔ شاید تمہیں دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی، شاید ہر بار تمہاری رکی ہوئی سوئیاں مجھے اس حقیقت کی طرف لے جاتی تھیں جسے قبول کرنا میرے لیے آسان نہیں تھا۔ مگر پھر ایک دن میں نے تمہیں دوبارہ اپنی کلائی میں باندھ لیا۔
اب جب کوئی پوچھتا ہے کہ تمہیں ٹھیک کیوں نہیں کرواتیں تو میں خاموش سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی ہوں:
’’یہ گھڑی میرے ابو کے جانے کے وقت رکی ہے، اسے ٹھیک کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ یہ سب قدرت کی طرف سے ہے۔‘‘
لوگوں کے لیے شاید ایک گھڑی کا رک جانا معمولی بات ہو، مگر میرے لیے یہ ایک یاد کا ٹھہر جانا ہے۔ میں تمہاری سوئیوں کو دوبارہ چلتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی، کیونکہ ان کا رک جانا میرے ابو کی آخری یاد سے جڑا ہوا ہے۔
اے میری پیاری رکی ہوئی گھڑی!
تم میرے لیے گزرے ہوئے وقت کی نشانی نہیں، بلکہ میرے ابو کی محبت کا آخری لمس ہو۔ تمہاری خاموشی میں مجھے ان کی آواز سنائی دیتی ہے، تمہاری رکی ہوئی سوئیوں میں ان کی یاد دھڑکتی محسوس ہوتی ہے اور تمہیں اپنی کلائی پر باندھ کر یوں لگتا ہے جیسے میرے ابو کی محبت آج بھی میرے ساتھ سفر کر رہی ہے۔
تم اسی طرح رکی ہوئی میری زندگی کے سفر کی ساتھی رہو گی۔ تمہاری سوئیاں شاید وقت کے ساتھ آگے نہ بڑھ سکیں، مگر تم سے جڑی یادیں میرے دل میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
وقت گزر جائے گا، سال بدل جائیں گے، میری زندگی کے سفر میں نہ جانے کتنے اور موسم آئیں گے، مگر تمہارے لیے میرے دل میں موجود محبت کبھی کم نہیں ہوگی۔ کیونکہ تم صرف ایک گھڑی نہیں، میرے ابو کی محبت کی وہ نشانی ہو جسے میں اپنی آخری سانس تک اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہوں۔
جب تک میری سانس جسم کا ساتھ نہ چھوڑ دے، تم اسی طرح رکی ہوئی میری زندگی کے سفر کی ساتھی رہو گی۔
تمہاری برسوں کی ساتھی
رکی ہوئی گھڑی کے نام خط،تحریر: ماہ جبین اظہر
