Baaghi TV

گزشتہ 25 برسوں میں دہشتگردی کی نوعیت اور منظرنامہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے ،پاکستانی مندوب

un pak

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے افغان سرزمین سے ابھرنے والی دہشتگردی اور کالعدم تحریک طالبان پاکسان (ٹی ٹی پی )، کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی( بی ایل اے) سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف مؤثر بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

نیویارک میں پاکستان کے مستقل مندوب کے دفتر جاری اعلامیے کے مطابق اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں نائن الیون حملوں کے 25 سال مکمل ہونے پر سلامتی کونسل کی خصوصی بریفنگ کا انعقاد کیا گیا اس موقع پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کرتے ہوئے 9/11 کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جن میں 7 پاکستانی بھی شامل تھے۔

انہوں نے امریکی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یاد دلایا کہ دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں،اس صدی کے آغاز سے اب تک سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں سمیت 90 ہزار سے زیادہ پاکستانی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، جس کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔

عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ القاعدہ کے خلاف بین الاقوامی مہم میں سب سے نمایاں کامیابیاں پاکستان کی فعال انٹیلی جنس کوآرڈینیشن اور انسدادِ دہشتگردی کی کوششوں کے باعث ہی ممکن ہوئیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ گزشتہ 25 برسوں میں دہشتگردی کی نوعیت اور منظرنامہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے آج دنیا کو دائیں بازو کی انتہا پسندی، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں دہشتگردی کے تسلسل کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی، ڈارک ویب، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسی کے بڑھتے استعمال جیسے نئے اور سنگین خطرات کا سامنا ہے،مناسب ریگولیشن کی عدم موجودگی میں یہ خطرہ مزید کئی گنا بڑھ جائے گا۔

عاصم افتخار نے افغانستان سے ابھرنے والی دہشتگردی پر خصوصی اور شدید تشویش کا اظہار کیا انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ محض گزشتہ 3 برسوں کے دوران 4700 سے زیادہ پاکستانی دہشتگردی کے ان واقعات میں جان کی بازی ہار چکے ہیں جن کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں، انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ای ٹی آئی ایم اور داعش جیسی تنظیموں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرے۔

دہشتگردی کی بنیادی وجوہات پر بات کرتے ہوئے پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ انسدادِ گردی کی عالمی حکمت عملی کے تمام ستونوں پر متوازن عملدرآمد ناگزیر ہے انہوں نے واضح کیا کہ غیر ملکی قبضے کے تحت رہنے والے عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو دبانے والی غاصب قوتوں کا بھی ہر صورت احتساب ہونا چاہیے اور انہیں ریاستی جبر کی کھلی چھوٹ نہیں ملنی چاہیے۔

More posts