جب حبس زدہ گرمی کے لمبے دن رخصت ہونے لگتے ہیں اور شام کے سائے میں ایک ہلکی سی خنکی گھلنے لگتی ہے، تو بظاہر فضا بڑی دلکش اور روح پرور محسوس ہوتی ہے۔ ستمبر کا اختتام اور اکتوبر کی ابتدا برصغیر میں وہ عبوری مرحلہ ہے جب سورج کی تپش کمزور پڑنے لگتی ہے اور پنکھے کی ہوا صبح کے وقت بوجھل لگتی ہے۔ فطرت کے کینوس پر یہ تبدیلی جتنی خاموشی سے رونما ہوتی ہے، انسانی جسم کے اندر اتنا ہی بڑا تلاطم برپا کرتی ہے۔ ہم میں سے بیشتر لوگ اس رومانوی خنکی کے سحر میں کھو کر یہ بھول جاتے ہیں کہ موسم کا یہ تغیر دراصل ہمارے مدافعتی نظام کے لیے ایک کڑا امتحان لے کر آتا ہے۔
طبی نقطہ نظر سے انسانی جسم ایک انتہائی منظم خودکار کارخانہ ہے، جو اندرونی درجۂ حرارت کو ایک خاص توازن پر رکھنے کا عادی ہوتا ہے۔ جب باہر کی ہوا میں نمی کم اور راتوں میں سردی بڑھنے لگتی ہے تو جسم کو بیرونی ماحول سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اضافی توانائی درکار ہوتی ہے۔ اگر ہمارا دفاعی نظام یا قوتِ مدافعت مضبوط نہ ہو تو یہ توازن بگڑ جاتا ہے اور ہوا میں معلق نادیدہ جراثیم، وائرس اور الرجی کے عوامل فوری طور پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ ایام ہوتے ہیں جب گلے میں ہلکی سی چبھن، صبح اٹھتے ہی چھینکوں کا طوفان، سر میں بھاری پن اور جوڑوں میں ہلکا سا کھنچاؤ عام ہو جاتا ہے۔ ہم اسے محض نزلہ زکام کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ درحقیقت یہ ہمارے جسم کی طرف سے بجائی جانے والی وہ الارم کی گھنٹی ہوتی ہے جو خبردار کرتی ہے کہ بیرونی سرحدوں کی حفاظت کرنے والی فوج نڈھال ہو رہی ہے۔
قوتِ مدافعت کی بحالی کے لیے سب سے پہلا قدم ہماری روزمرہ کی عادات میں فطری ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارا رہن سہن اب فطرت کے دائرے سے باہر نکل چکا ہے۔ ہم موسم بدل جانے کے بعد بھی فریج کے برفیلے پانی کو نہیں چھوڑتے، رات گئے تک تیز پنکھے یا اے سی کی سرد ہوا میں سوتے ہیں اور پھر علی الصبح بغیر کسی حفاظتی چادر کے باہر نکل آتے ہیں۔ پسینے میں شرابور جسم کو اچانک ٹھنڈی ہوا کا لگنا مساموں کو بند کر دیتا ہے اور حرارت اندر ہی دب کر بخار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس موسم میں نیم گرم پانی کو اپنا معمول بنا لینا گویا جسم کی اندرونی صفائی کا سب سے آسان نسخہ ہے۔ پانی جسم سے فاسد مادوں کو خارج کرتا ہے اور سانس کی نالیوں کی جھلیوں کو تر رکھ کر وائرس کے حملے کو بے اثر بناتا ہے۔
غذا کے انتخاب میں توازن اور مقامی پیداوار پر بھروسہ قوتِ مدافعت کو نئی زندگی بخشتا ہے۔ قدرت نے ہر موسم کے لیے جو پھل اور سبزیاں پیدا کی ہیں، ان میں اس موسم کے امراض کا قدرتی تریاق موجود ہے۔ مالٹا، مسمی اور امرود وٹامن سی کے وہ قدرتی خزانے ہیں جو خون کے سفید خلیات کو توانائی بخشتے ہیں۔ کچن کے مسالوں میں چھپی شفا کو اکثر ہم جدید ادویات کی چکا چوند میں فراموش کر دیتے ہیں۔ ادرک، دار چینی، ہلدی، لہسن اور لونگ محض کھانے کا ذائقہ بڑھانے کے اجزاء نہیں بلکہ یہ سوزش کو مٹانے اور مدافعتی قوت کو بڑھانے والے نایاب اینٹی آکسیڈنٹس ہیں۔ رات کو نیم گرم دودھ میں چٹکی بھر ہلدی ملا کر پینا یا دن کے وقت ادرک اور شہد کا ہلکا سا قہوہ استعمال کرنا پھیپھڑوں اور گلے کے لیے ایک قدرتی ڈھال ثابت ہوتا ہے۔ دیسی مرغ کی یخنی یا مٹن کا سوپ جسم کو وہ فوری پروٹین اور حرارت فراہم کرتا ہے جس کی کمی موسمِ سرما کی ابتدا میں سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ دوسری طرف، پروسیسڈ غذائیں، زیادہ چینی اور چکنائی والی تلی ہوئی اشیاء دفاعی نظام کی جنگی صلاحیت کو سست کر دیتی ہیں، اس لیے ان سے کنارہ کشی ہی عافیت ہے۔
غذا کے بعد نیند اور ذہنی سکون کا عمل دخل اس بحالی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جدید تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ گہری اور پرسکون نیند کے دوران جسم ایسے پروٹین تیار کرتا ہے جو انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب ہم راتوں کو جاگ کر اسکرینوں کی نیلی روشنی میں اپنی نیند کی قربانی دیتے ہیں تو مدافعتی نظام خود بخود زنگ آلود ہونے لگتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے کاموں کے دوران کھلی اور صاف ہوا میں تیس منٹ کی ہلکی چہل قدمی دورانِ خون کو تیز کرتی ہے اور پھیپھڑوں میں تازہ آکسیجن بھر کر سستی کا خاتمہ کرتی ہے۔ صبح کی نرم اور ہلکی دھوپ میں چند منٹ بیٹھنا وٹامن ڈی کے حصول کا وہ قدرتی ذریعہ ہے جو ہڈیوں کے ساتھ ساتھ مدافعتی توازن کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
اکتوبر کے بعد کی خنکی اور خشک ہوا اپنے ساتھ فضا میں دھول، مٹی اور سموگ کے خطرناک ذرات بھی لے کر آتی ہے۔ اگر اس مرحلے پر اپنی قوتِ مدافعت کو خوراک، نیند اور طرزِ زندگی کے ذریعے مضبوط نہ کیا جائے تو یہ چھوٹی چھوٹی موسمی تکالیف سنگین امراض کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ قدرت نے ہر انسان کے اندر خود شفا یابی کی ایک حیرت انگیز صلاحیت رکھی ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم مصنوعی سہولتوں اور بے اعتدالی کو ترک کر کے اس قدرتی نظام کو کام کرنے کا موقع دیں۔ بدلتے موسم کے تیور پہچاننا اور اس کے تقاضوں کے مطابق اپنے معمولات کو ڈھال لینا ہی وہ دانش مندی ہے جو ہمیں دواؤں کی محتاجی سے بچا کر ایک توانا اور پُرسکون زندگی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔
