پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کی نصف سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ لیکن اس نوجوان آبادی میں خاص طبقہ ایسا ہے جو باقی نسلوں سے بنیادی طور پر مختلف ہےاور وہ جین زی ہے یعنی 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جس نے آنکھ کھولتے ہی ہاتھ میں اسمارٹ فون اور سامنے انٹرنیٹ کا اسکرین دیکھا۔ پاکستان کی جین زی بدلتی ہوئی فکر، اجتماعی سماجی شعور اور غیر روایتی انقلاب کا نام ہے۔
پاکستان میں جین زی کی پرورش منفرد اور پہلو دار ماحول میں ہوئی ہے۔ ایک طرف تو ان کا واسطہ پاکستان کے روایتی، مذہبی اور سماجی اقدار سے ہے تو دوسری طرف ٹک ٹاک، انسٹاگرام، ایکس اور یوٹیوب جیسے عالمی پلیٹ فارمز نے انہیں پوری دنیا کی معلومات اور رجحانات سے جوڑ دیا ہے۔ اس نسل نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ، سیاسی عدم استحکام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی باقیات دیکھی ہیں، جس نے انہیں وقت سے پہلے سمجھدار اور حقیقت پسند بنا دیا ہے۔
بزرگوں اور سابقہ نسلوں کے برعکس، پاکستان کی جین زی کسی ایک بیانیے پر اندھا دھند یقین نہیں رکھتی۔ یہ سوال پوچھنے والی نسل ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اگر کوئی کام ایک خاص طریقے سے ہوتا آیا ہے تو کیوں ہوتا آیا ہے؟ وہ روایتی نوکریوں، فرسودہ تعلیمی نظام اور غیر منطقی پابندیوں کو چیلنج کر رہے ہیں۔
پاکستانی جین زی نے سیاست کا ایک نیا چہرہ دیکھا ہے۔ وہ پارلیمانی تقریروں کی بجائے میمز، مختصر ویڈیوز اور ٹرینڈنگ ہیش ٹیگز کے ذریعے اپنا موقف بیان کرتے ہیں۔ یہ نسل روایتی سیاست دانوں کے نعروں سے متاثر ہونے کی بجائے شفافیت، انسانی حقوق، آزادیِ اظہار اور معاشی انصاف کی بات کرتی ہے۔
حالیہ سالوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی ملک میں آزادیِ اظہار یا انٹرنیٹ سروسز پر پابندیاں لگائی گئیں، اسی جین زی نے وی پی این اور ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال کر کے اپنی آواز کو دنیا تک پہنچایا۔ وہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وفاداری نبھانے کے بجائے بنیادی حقوق اور اپنے مستقبل کی بہتری کے لیے زیادہ فکر مند دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان کی جین زی کو معاشی طور پر انتہائی سخت دور کا سامنا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی صورتحال نے انہیں روایتی نو سے پانچ نوکریوں کے آسرا چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ مگر اس کے نتیجے میں مثبت تبدیلی بھی سامنے آئی ہے۔ پاکستان اس وقت دنیا کا چوتھا بڑا فری لانسنگ حب بن چکا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہی جین زی ہے۔
پاکستان کے نوجوان گرافک ڈیزائننگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مواد نگاری اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے غیر ملکی زرِ مبادلہ ملک میں لا رہے ہیں۔ ٹک ٹاک اور یوٹیوب نے گاؤں دیہات کے نوجوانوں کو بھی اپنے اندر کا ہنر دکھانے اور معاشی طور پر خود مختار ہونے کا موقع دیا ہے۔ یہ نسل صرف ملازمت کی تلاش میں نہیں ہے بلکہ کام فراہم کرنے والی بننا چاہتی ہے۔ ٹیکنالوجی، ای کامرس اور سروسز کے شعبے میں نئے خیالات لانے میں جین زی سب سے آگے ہے۔
ایک دور تھا جب پاکستان میں ذہنی صحت یا افسردگی پر بات کرنا گناہ يا مذاق سمجھا جاتا تھا۔ جین زی نے اس سوچ کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ وہ کھل کر تھراپی، ذہنی دباؤ اور جذباتی صحت پر بات کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وہ ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں اور ایسے موضوعات کو عام کر رہے ہیں جن پر بات کرنا پہلے ممنوع سمجھا جاتا تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ، یہ نسل صنفی مساوات، اقلیتوں کے حقوق اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے عالمی موضوعات پر بھی انتہائی حساس ہے۔ کلائمیٹ چینج کے خلاف پاکستان کے نوجوانوں نے جس طرح آواز اٹھائی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے مستقبل اور زمین کی حفاظت کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔
اگرچہ پاکستان کی جین زی بے پناہ صلاحیتوں کی مالک ہے، لیکن اسے چند سنگین چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ شہروں کے باوسائل نوجوانوں اور دیہات یا پس ماندہ علاقوں کے نوجوانوں میں ایک بڑا خلیج ہے۔ ہر ایک کے پاس تیز رفتار انٹرنیٹ اور جدید تعلیم تک رسائی نہیں ہے۔ ملکی معاشی ابتری اور مواقع کی کمی کے باعث اس نسل کا ایک بڑا حصہ ملک چھوڑ کر باہر جانے کے لیے بے تاب ہے۔ بہترین دماغوں کا ملک سے جانا پاکستان کے مستقبل کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا میں ہر وقت جڑے رہنے کی وجہ سے اس نسل میں بے چینی، موازنہ کرنے کی عادت اور تنہائی کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔
ہمارا کاغذی اور کاہل بیرو کریٹک نظام، پرانا تعلیمی نصاب اور روایتی سوچ رکھنے والے ادارے اس جدید ڈیجیٹل نسل کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر پا رہے، جس سے نوجوانوں میں فرسٹریشن جنم لے رہی ہے۔
پاکستان کی جین زی کو سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے والی نسل سمجھنا بہت بڑی غلط فہمی ہوگی۔ یہ وہ نسل ہے جو پاکستان کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر ریاست اور معاشرہ اس نسل کو صحیح سمت دے، جدید تعلیم اور تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرے اور انہیں فیصلوں میں شامل کرے، تو یہ نسل پاکستان کو جدید، ترقی یافتہ اور خوددار ملک بنا سکتی ہے۔
حکومت اور اداروں کو چاہیے کہ وہ انٹرنیٹ پر پابندیاں لگانے کی بجائے تیز رفتار اور سستا انٹرنیٹ فراہم کریں، تعلیمی نصاب کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور جدید علوم کے مطابق ڈھالیں اور فری لانسرز کے لیے ادائیگیوں کے نظام کو آسان بنائیں۔
پاکستان کی جین زی روشن، نڈر اور بے باک نسل ہے۔ وہ روایت کی زنجیروں میں جکڑے رہنے کی بجائے اپنے لیے نیا راستہ خود تراش رہی ہے۔ ان کے پاس علم کی طاقت ہے، تکنیک کی مہارت ہے اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اس نسل کو سنیں، سمجھیں اور ان کا ہاتھ پکڑ کر نئے اور روشن پاکستان کی بنیاد رکھیں۔
