Baaghi TV

معاشرتی رویے: زوالِ اخلاق اور احساس کی بازیافت،تحریر: طاہر محمود

۱۔ خاموش دریا اور بدلتے منظر نامے
زندگی ایک خاموش دریا کی مانند ہے جس کی روانی میں ان گنت رنگ، تہہ در تہہ لہریں اور وقت کے گہرے نقوش چھپے ہوتے ہیں۔ انسان اس بحرِ رواں کا وہ مسافر ہے جو تنہا نہیں بلکہ ایک وسیع ہجوم کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ اس ہجوم میں جب ایک انسان دوسرے انسان سے ملتا ہے، تو جو عکس ابھرتا ہے، اسے ہم معاشرتی رویے کہتے ہیں۔ یہ رویے کبھی بہار کے نرم پھول کی طرح دل و جاں کو معطر کر دیتے ہیں اور کبھی خزاں کی تیز ہوا بن کر روح کو گھائل کر جاتے۔

آج کے اس مشینی اور پرآسائش دور میں، جہاں انسان نے سائنسی ترقی کے بل بوتے پر فاصلوں کے طلسم کو تو توڑ ڈالا ہے، وہیں دلوں کے درمیان ہزاروں میل کی سرد دیواریں کھڑی کر دی ہیں۔ وہ معاشرہ جہاں ایک دوسرے کا دکھ مشترکہ میراث سمجھا جاتا تھا، جہاں پڑوسی کی بھوک پورے محلے کا درد بنتی تھی، اور جہاں رشتوں میں تقدس اور بے لوث خلوص کی چاشنی گھلی رہتی تھی، اب وقت کی بے رحم دھوپ میں ماند پڑ چکا ہے۔ اب ہم ایک ہی چھت کے نیچے یا ایک ہی محفل میں بیٹھ کر بھی ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں۔ ڈیجیٹل اسکرینوں کی غلافت نے آنکھوں کی سچی چمک، مکالمے کی گرمی اور مسکراہٹوں کے اصل روپ کو چھین لیا ہے۔

۲. مفادات کا ترازو اور اخلاقیات کا زوال
ہمارے اجتماعی رویوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے احساسات اور ہمدردی کو بھی مفادات کے نفع نقصان والے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ اب ہر رشتے کے پسِ پردہ کوئی نہ کوئی ان کہی غرض کا سایہ ضرور منڈلاتا ہے۔ خوشیوں کی تقریبات ہوں یا غم کے سانحے، شرکت کے پیمانے بھی اب دکھاوے، نمائش اور شان و شوکت کے محتاج ہو گئے ہیں۔
جو انسان جتنا متمول اور کامیاب ہے، اس کے غلط رویے بھی معاشرے کی نظر میں قابلِ قبول ٹھہرتے ہیں، اور معاشی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والا انسان اس بے رحم تماشے میں اکیلا تنہا کھڑا نظر آتا ہے۔ ہم نے اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال کر صرف ظاہری چمک دمک کو ہی زندگی کا اصل معيار مان لیا ہے، جس نے انسانی رشتوں کی روح کو زخمی کر کے رکھ دیا ہے۔

۳. زندہ رشتوں کا احساس اور روشنی کی تلاش
ہمیں یہ تلخ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ معاشرہ کوئی بے جان اینٹ پتھر کی عمارت نہیں، بلکہ یہ انسانوں کے دھڑکتے دلوں، سلگتے احساسات اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے جذبوں سے بنا ہوا زندہ تانا بانا ہے۔ ایک چھوٹی سی نرم اور محبت بھری بات، کسی بے سہارا کی ڈھارس بندھانا، کسی کے آنسوؤں کو پونچھنا یا محض راہ چلتے خلوص بھری مسکراہٹ سے پیش آنا، وہ چھوٹے چھوٹے چراغ ہیں جو سماجی تاریکیوں کو مات دیتے ہیں۔ ہمارے رویے اگر رواداری، ایثار اور درگزر کی خوشبو سے مہکنے لگیں، تو یہ دھرتی ایک بار پھر امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ذات کے تنگ و تاریک خول سے باہر نکلیں۔ اپنے گریبان میں جھانک کر یہ محاسبہ کریں کہ کہیں ہمارے رویے کسی کے لیے تازیانہ تو نہیں بن رہے۔ آئیں، اس دوڑتی بھاگتی بے سکون دنیا میں کچھ لمحے ٹھہر کر اپنے اندر کے سوئے ہوئے انسان کو جگائیں، رشتوں میں خلوص کی وہ پرانی اور سچی خوشبو واپس لائیں اور معاشرتی بے حسی کے اندھیروں کو اپنائیت اور محبت کے اجالوں سے ختم کر دیں۔ کیونکہ معاشرہ کوئی الگ وجود نہیں، معاشرہ ہم خود ہیں۔

More posts