Baaghi TV

بھارت کی جانب سے آبی بہاؤ کا ڈیٹا شیئر نہ کرنا ایک سنگین مسئلہ ہے،شیری رحمان

sheri rehman

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کے اجلاس میں موسمیاتی خطرات، ترقیاتی فنڈز، سیوریج منصوبوں اور شہری ماحولیات سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر شیری رحمان نے کی، جبکہ قومی و صوبائی اداروں کے نمائندوں نے بریفنگ دی۔

اجلاس کے دوران شیری رحمان نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی مجموعی مختص رقم کم ہو کر 2.78 ارب روپے رہ گئی ہے اور فنڈز کے استعمال کی رفتار تشویشناک ہے۔ پی ایس ڈی پی سیکریٹری نے بتایا کہ معاشی صورتحال کے باعث ترقیاتی پروگرام میں کٹوتی کی گئی، تاہم یو جی پی پی کے تحت نئے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ زیر التوا بوٹینیکل گارڈن منصوبے کے لیے 700 ایکڑ اراضی مختص کر دی گئی ہے۔

مون سون اور موسمیاتی تبدیلیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا کہ 2026 سے 2027 کے دوران ایل نینو مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور آئندہ سال گزشتہ 40 برسوں کا گرم ترین سال ثابت ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں درجہ حرارت عالمی اوسط سے زیادہ رفتار سے بڑھ رہا ہے، جس کے باعث شدید موسمی واقعات، قدرتی آفات اور فلیش فلڈنگ کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گلیشیئرز کے پگھلاؤ میں 3.5 فیصد جبکہ بخارات بننے کی شرح میں 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ہیٹ ویوز میں 30 سے 32 فیصد اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جنوبی پنجاب اور زیریں سندھ کی زراعت موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہو سکتی ہے اور بے قاعدہ موسمی حالات کے باعث زرعی پیداوار کو 11 سے 12 فیصد تک نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں 850 ہیٹ ویو مراکز فعال ہیں اور متاثرہ افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ مزید برآں، جنگلات میں آگ لگنے کے 110 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ابتدائی وارننگ سسٹمز کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور محکمہ موسمیات کے 275 جدید سینسرز بہتر نتائج دے رہے ہیں۔

شیری رحمان نے مون سون صورتحال پر فوری توجہ اور ہنگامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے آبی بہاؤ کا ڈیٹا شیئر نہ کرنا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں گرین کور کے فروغ اور سیوریج ٹریٹمنٹ منصوبوں کے لیے فنڈز کی کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین نے بتایا کہ تین سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے لیے بڈنگ کا عمل 30 جون تک مکمل کر لیا جائے گا جبکہ منصوبوں کی لاگت میں 50 فیصد اضافے کے لیے پی سی ون پر نظرثانی مکمل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں روزانہ تقریباً 990 ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے لیکن صرف 500 ٹن کے قریب کچرا اٹھایا جا رہا ہے۔ ویسٹ مینجمنٹ نظام کو بہتر بنانے کے لیے آؤٹ سورسنگ ماڈل پر بھی کام جاری ہے۔

اجلاس کے دوران سینیٹر وقار مہدی نے سی ڈی اے کے گرین ایریاز، براؤن ایریاز اور ماسٹر پلان پر تفصیلی بریفنگ طلب کی۔ شیری رحمان نے اس بات پر زور دیا کہ غریب آبادیوں کی بے دخلی سے قبل متبادل رہائش کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے رہائشی منصوبہ بندی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔اجلاس کے اختتام پر شیری رحمان نے موسمیاتی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کلائمیٹ اتھارٹی کے کردار کا تعین ضروری ہے اور متعلقہ اتھارٹی کو وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کے ماتحت ہونا چاہیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی مجوزہ ترامیم کمیٹی کے ساتھ شیئر کرے تاکہ ان پر مزید غور کیا جا سکے۔

More posts