Baaghi TV

آئین کی بالادستی کا تقاضا سب سےیکساں،تجزیہ:شہزاد قریشی

آئین کی بالادستی کا تقاضا صرف دوسروں سے نہیں، بلکہ سیاست دانوں، اداروں اور عوام سب سے یکساں طور پر ہوتا ہے

پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں کی قربانیاں قوم کا سرمایہ ہیں، جن کا احترام اور اعتراف ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے

ملکی استحکام الزام تراشی سے نہیں، بلکہ آئین کی پاسداری، قومی یکجہتی اور تمام اداروں کے باہمی احترام سے حاصل ہوتا ہے۔

تجزیہ شہزاد قریشی

پاکستان میں آئین، جمہوریت، ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کے حوالے سے بحث کوئی نئی بات نہیں۔ ہر دور میں مختلف سیاسی جماعتیں اور رہنما آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کی بات کرتے رہے ہیں۔ تاہم ایک بنیادی سوال ہمیشہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ کیا آئین پر عمل درآمد صرف دوسروں سے مطالبہ کرنے کا نام ہے یا خود بھی اس کی مکمل پابندی ضروری ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آئین کسی ایک ادارے، جماعت یا فرد کے لیے نہیں بلکہ پوری ریاست کے لیے ہوتا ہے۔ آئین کی پاسداری کا تقاضا سیاست دانوں، حکومتی عہدیداروں، ریاستی اداروں اور عام شہریوں سب پر یکساں طور پر عائد ہوتا ہے۔ اگر کوئی سیاسی رہنما آئین کی بالادستی کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اپنی سیاسی زندگی، فیصلوں اور طرزِ عمل میں بھی آئینی اصولوں کی پاسداری کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اسی طرح ریاستی اداروں پر تنقید یا حمایت دونوں حقائق، دلیل اور ذمہ داری کے دائرے میں ہونی چاہئیں۔پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر سکیورٹی ادارے ملک کی سرحدوں کے دفاع، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قومی سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہزاروں افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، شہداء اور غازیوں کی خدمات قوم کے لیے قابلِ احترام ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سرحدوں پر کھڑے سپاہی اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں اور قوم ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ دوسری طرف جمہوری معاشروں میں عوام کو یہ حق بھی حاصل ہوتا ہے کہ وہ ریاستی اداروں، حکومتوں اور سیاسی قیادت کی کارکردگی پر سوال اٹھائیں اور اپنی رائے کا اظہار کریں۔ لیکن یہ اظہارِ رائے ذمہ داری، شائستگی اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔ بے بنیاد الزامات، نفرت انگیز زبان یا ایسے بیانات جو قومی یکجہتی کو نقصان پہنچائیں، کسی کے حق میں نہیں ہوتے۔ پاکستان کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا حل الزام تراشی، محاذ آرائی اور مسلسل تناؤ میں نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مضبوط جمہوری روایات اور ریاستی اداروں کے باہمی احترام میں ہے۔ اگر سیاست دان، ادارے اور عوام سب اپنی اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کریں تو پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ریاست کے طور پر مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔ ملک کی تعمیر صرف نعروں سے نہیں ہوتی، بلکہ کردار، ذمہ داری، قربانی اور آئین و قانون کی حقیقی پاسداری سے ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو قومی اتحاد، استحکام اور روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

More posts