Baaghi TV

عدالت کا ویب سائٹس سے اداکارہ تبو سے متعلق قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کا حکم

نئی دہلی: بھارتی اداکارہ تبو کو شخصیت کے حقوق سے متعلق مقدمے میں دہلی ہائی کورٹ سے ریلیف مل گیا۔ عدالت نے متعدد ویب سائٹس اور آن لائن پلیٹ فارمز کو اداکارہ کی جانب سے قابلِ اعتراض قرار دیے گئے مواد کو ہٹانے کی ہدایت کردی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق تبو نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مختلف ویب سائٹس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور دیگر آن لائن ذرائع پر موجود بعض مواد ان کی شخصیت کے حقوق کی خلاف ورزی، ہتک آمیز اور فحش نوعیت کا ہے۔جسٹس جیوتی سنگھ نے سینئر وکیل سواتی سوکمار کے دلائل سننے کے بعد متعلقہ آن لائن پلیٹ فارمز کو قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کی ہدایت کی۔ سماعت کے دوران تبو کی فلموں کے مختلف مناظر بھی عدالت کے سامنے زیرِ بحث آئے۔اداکارہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض ویڈیو کلپس کو ایسے سرچ الفاظ کے ساتھ فروغ دیا جا رہا ہے جن کے ذریعے تبو کو نامناسب انداز میں پیش کیا گیا۔ وکیل کے مطابق کچھ فلمی مناظر کی رفتار کم کرکے اور ان کے عنوانات تبدیل کرکے انہیں جنسی نوعیت کا تاثر دینے کی کوشش کی گئی۔

سواتی سوکمار نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ مواد بار بار نئے اکاؤنٹس اور پوسٹس کے ذریعے دوبارہ سامنے آتا ہے، اس لیے معاملہ محض کاپی رائٹ یا عام آن لائن خلاف ورزی تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات زیادہ سنگین ہیں۔سماعت کے دوران ایک آن لائن پلیٹ فارم کے وکیل نے شخصیت کے حقوق سے متعلق ایک دوسرے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بعض اوقات ایسے مقدمات کے ذریعے مبینہ ہتک آمیز مواد کو ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ اس مقدمے میں سامنے آنے والے قانونی سوالات صرف تبو کے کیس تک محدود نہیں بلکہ آن لائن پلیٹ فارمز پر قابلِ اعتراض مواد کی روک تھام سے متعلق وسیع تر معاملات بھی اس میں شامل ہیں۔جسٹس جیوتی سنگھ نے ریمارکس دیے کہ انتہائی نقصان دہ مواد کی صورت میں ایسا مؤثر نظام ضروری ہے جس کے ذریعے اسے انٹرنیٹ پر اپ لوڈ ہونے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔

عدالت نے آن لائن پلیٹ فارمز کے موجودہ حفاظتی اقدامات، خودکار مواد کی شناخت کے نظام، شکایات درج کرانے کے طریقہ کار اور انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز کے تحت شکایات کے ازالے کے نظام کا بھی جائزہ لیا۔عدالت کے مطابق بنیادی سوال صرف پالیسی بنانے یا اس پر عمل درآمد کا نہیں بلکہ ایسا مؤثر طریقہ کار وضع کرنے کا ہے جس کے ذریعے قابلِ اعتراض مواد کو ابتدائی مرحلے ہی میں آن لائن آنے سے روکا جا سکے۔دہلی ہائی کورٹ نے ان وسیع قانونی معاملات میں عدالت کی معاونت کے لیے ایمی کس کیوری (عدالتی معاون) مقرر کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کارروائی کے دوران ایسے ضمنی قانونی معاملات کی نشاندہی بھی کی جائے گی جن پر بعد میں تفصیلی غور کیا جائے گا۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ مستقبل میں ایسے مقدمات سے نمٹنے کے لیے ایک معیاری طریقہ کار وضع کرنے پر توجہ دی جائے گی۔کیس کی مزید سماعت 7 دسمبر کو ہوگی۔

More posts