بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ کی جانب سے ایک خطاب کے دوران مسلمانوں سے متعلق متنازع بیانات پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
آدتیہ ناتھ نے آسام کے برپیٹا میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) کے امیدوار دیپک کمار داس کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی اور کانگریس اور متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) پر سخت تنقید کی انہوں نے کہا کہ آسام کو ‘لو جہاد’ اور ‘لینڈ جہاد’ کی سرزمین نہیں بننے دیا جائے گا کانگریس نے تو انتخابات سے پہلے ہی میدان چھوڑ دیا ہے جب کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ‘یو ڈی ایف کو خلیج بنگال میں پھینک دیا جائے ‘
نیتن یاہو کا چیف آف اسٹاف عہدے سے مستعفیٰ
میڈیا رپورٹس کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی آسام کو مبینہ طور پر ’مسلم دراندازوں‘ سے پاک کر سکتی ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر مسلمان کی نشاندہی کرکے اسے ریاست سے نکالا جا سکتا ہے اتر پردیش میں اب کسی کو سڑکوں پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ عبادت گاہوں سے بلند آواز میں عبادات یا اعلانات پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کے ان بیانات پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتے ہیں اور معاشرتی تقسیم کو بڑھا سکتے ہیں۔
