Baaghi TV

افواجِ پاک اور ہم،تحریر: جان ایم رمضان

پاکستان کی تاریخ، اس کی سلامتی اور اس کے مستقبل کا ذکر ہو تو افواجِ پاکستان کا کردار ایک اہم اور ناقابلِ فراموش حقیقت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس نے ملک کے دفاع، سرحدوں کی حفاظت اور قومی سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داریاں ہمیشہ نبھانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے عوام اور افواجِ پاکستان کے درمیان تعلق محض وردی اور شہری کا تعلق نہیں، بلکہ یہ اعتماد، قربانی، ذمہ داری اور وطن سے محبت کے ایک گہرے رشتے کی علامت ہے۔

پاکستان ایک نظریاتی اور جغرافیائی طور پر اہم ملک ہے۔ اس کی سرحدیں، اس کے قومی مفادات اور اس کی خودمختاری مسلسل ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں ایک مضبوط، منظم اور پیشہ ور دفاعی نظام ریاست کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ افواجِ پاکستان اسی قومی دفاعی ذمہ داری کا اہم حصہ ہیں۔ بری فوج، بحریہ اور فضائیہ ملک کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ کسی بھی ملک کی مضبوطی صرف اس کی فوجی طاقت سے نہیں ہوتی۔ مضبوط پاکستان کے لیے مضبوط معیشت، مستحکم ادارے، معیاری تعلیم، قانون کی بالادستی، انصاف، سیاسی برداشت اور قومی یکجہتی بھی ضروری ہیں۔ افواجِ پاکستان ملک کے دفاع کی ذمہ داری ادا کرتی ہیں، جبکہ ایک باشعور قوم کا فرض ہے کہ وہ اپنے حصے کی ذمہ داریاں بھی پوری کرے۔

افواجِ پاک اور ہم کا مطلب یہی ہے کہ وطن کی حفاظت صرف سرحد پر کھڑے جوان کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر پاکستانی کی اپنی جگہ ایک ذمہ داری ہے۔ ایک استاد علم کی روشنی پھیلا کر، ایک ڈاکٹر انسانیت کی خدمت کرکے، ایک مزدور محنت کرکے، ایک کاروباری شخص دیانت داری سے کاروبار کرکے، ایک صحافی ذمہ دارانہ قلم کے ذریعے اور ایک طالب علم اپنی تعلیم پر توجہ دے کر پاکستان کی خدمت کر سکتا ہے۔

ہمارے شہداء نے اپنے وطن کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم پاکستان کو مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ شہداء کے خاندانوں کا احترام، ان کی قربانیوں کو یاد رکھنا اور نئی نسل کو وطن کی تاریخ سے آگاہ کرنا بھی قومی ذمہ داری ہے۔

افواجِ پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں ان جوانوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو مشکل ترین حالات میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ برف پوش پہاڑوں سے لے کر صحراؤں تک، سمندری حدود سے فضائی سرحدوں تک، پاکستانی دفاعی اہلکار اپنی ذمہ داریوں کے لیے موجود رہتے ہیں۔ ان کی زندگی نظم و ضبط، مشکل حالات اور مسلسل تربیت سے عبارت ہے۔

لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ قوم اور فوج کے درمیان مضبوط تعلق باہمی احترام اور قومی مفاد کی بنیاد پر قائم رہتا ہے۔ تنقید، اختلافِ رائے اور احتساب کسی بھی جمہوری معاشرے کا حصہ ہیں، مگر قومی سلامتی، ریاستی اداروں اور ملک کے مفادات کے بارے میں گفتگو ہمیشہ ذمہ داری، دلیل اور شائستگی کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا اور سیاسی یا ذاتی اختلافات کو قومی یکجہتی پر ترجیح دینا کسی بھی صورت ملک کے مفاد میں نہیں۔

آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت قومی اتحاد کی ہے۔ ہمیں اپنے اختلافات کے باوجود اس بات پر متحد ہونا ہوگا کہ پاکستان ہماری مشترکہ شناخت ہے۔ ہماری زبانیں مختلف ہوسکتی ہیں، ہمارے سیاسی نظریات مختلف ہوسکتے ہیں، ہماری ترجیحات مختلف ہوسکتی ہیں، لیکن وطن سب کا ایک ہے۔

افواجِ پاکستان اور پاکستانی عوام ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ فوج بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے اور اس کے جوان بھی اسی مٹی کے بیٹے ہیں۔ ان کے والدین، بہن بھائی اور خاندان اسی معاشرے میں زندگی گزارتے ہیں۔ جب کوئی پاکستانی جوان وطن کے دفاع میں اپنی جان قربان کرتا ہے تو اس کا دکھ پورے معاشرے کا دکھ بن جاتا ہے۔

ہمیں اپنے بچوں کو یہ سبق دینا ہوگا کہ پاکستان صرف ایک نقشے پر بنے ہوئے جغرافیہ کا نام نہیں۔ پاکستان ایک ذمہ داری ہے، ایک امانت ہے اور ایک قومی عہد ہے۔ اس امانت کی حفاظت صرف ہتھیار سے نہیں بلکہ کردار، علم، دیانت، اتحاد اور محنت سے بھی ہوتی ہے۔

ہم اگر واقعی پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، بازاروں، دفاتر اور معاشرے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ٹیکس کی ادائیگی، قانون کی پاسداری، سرکاری و قومی املاک کا تحفظ، رشوت سے انکار، جھوٹ سے اجتناب اور دوسروں کے حقوق کا احترام بھی حب الوطنی ہی کی شکلیں ہیں۔

افواجِ پاکستان کی طاقت کے ساتھ عوام کی طاقت بھی ضروری ہے، اور عوام کی طاقت قومی اتحاد سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک متحد قوم اپنے ملک کے دفاع، ترقی اور استحکام میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔ ہمیں نفرت، انتشار اور مایوسی کے بجائے امید، محنت اور اتحاد کو فروغ دینا ہوگا۔

پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ صرف آج کے حالات نہیں کریں گے بلکہ ہماری آج کی محنت، ہماری ترجیحات اور ہماری نئی نسل کی تربیت کرے گی۔ اگر ہم تعلیم یافتہ، باکردار، قانون پسند اور متحد قوم بن گئے تو پاکستان کی دفاعی طاقت کے ساتھ معاشی اور سماجی طاقت بھی کئی گنا بڑھ جائے گی۔

افواجِ پاک اور ہم دراصل ایک مشترکہ ذمہ داری کا نام ہے۔ سرحدوں پر محافظ اپنا فرض ادا کریں اور سرحدوں کے اندر عوام اپنا فرض ادا کریں؛ یہی قومی استحکام کی بنیاد ہے۔

ہم افواجِ پاکستان کے شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں، غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور ہر اس پاکستانی کو سلام پیش کرتے ہیں جو اپنے وطن کی بہتری کے لیے ایمانداری اور محنت سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

آئیں عہد کریں کہ ہم پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے اپنے میدان میں کردار ادا کریں گے۔ ہم اختلاف کو دشمنی نہیں بنائیں گے، قانون کا احترام کریں گے، قومی اداروں کے بارے میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں گے، شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں گے اور اپنی آنے والی نسل کو ایک پرامن، مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان دینے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان ہماری پہچان ہے، اس کی سلامتی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اس کا روشن مستقبل ہم سب کی مشترکہ جدوجہد سے وابستہ ہے۔

پاکستان زندہ باد۔
افواجِ پاکستان پائندہ باد۔

More posts