31 اگست کی سہانی شام پلاک کے چائنیز ہال میں ایک بہت خوبصورت نشست منعقد کی گئی ،یہ فاطمہ شیروانی کے سفر نامے ،، تہران جاناں ،، کی تقریب رونمائی تھی اس پروگرام کی صدارت سلمان باسط نے کی جبکہ مہمان خصوصی سلمی اعوان تھیں جن کی موجودگی اور مہربان شخصیت تقریب کو چار چاند لگا دیتی ہے ، نظامت الطاف سومرو (سومی بابو ) کی تھی اور مقررین میں غلام حسین ساجد ، آ منہ مفتی، بلقیس ریاض، دعا عظیمی اور مسرت کلانچوی شامل تھیں ، تمام مقررین نے فاطمہ شیروانی کے بطور پبلشر بہت عمدہ کام کرنے کو سراہا ، حوصلہ افزائی کی اور تہران کی پبلشرز کانفرنس میں شرکت اور اتنا اچھا سفر نامہ لکھنے پر ان کی تعریف کی ، سب نے تہران جانان کے عمدہ اسلوب ، رواں اور سادہ انداز میں دلچسپ روداد لکھنے کو پسند کیا
شرکاء میں حسین مجروح ، کنول بہزاد ، شاہین اشرف علی، شائستہ صادق، روزینہ زرش بٹ ، ستارہ آمین کومل ، صائمہ صبیح ، عمارہ ، وفا آزر ،غزالہ منظور ، لبنی طاہر ، ثمینہ حسن ، ثروت جہاں ، ثوبیہ اور دیگر خواتین و حضرات شامل تھے پروگرام کے بعد چائے کا عمدہ انتظام تھا ، قبل ازیں کیک کاٹا گیا جو فاطمہ کی پیاری دوست ،، فریم سے باہر ،،کی مصنفہ دعا عظیمی لائی تھیں سب نے فاطمہ کی اس کامیابی پر انہیں مبارکباد دی نیک خواہشات کا اظہار کیا ، فاطمہ شیروانی کے سفر نامہ تہران جانان کے علاوہ فاطمہ کے ادارے یاسر پبلیکیشنز کے تحت شائع ہونے والی سلمہ اعوان کی کتاب ،، بیچ بچولن ،، بھی موجود تھی کئی شرکاء نے یہ کتب خریدیں ، سئنیر ادیبوں اور دوستوں کی شرکت سے تقریب میں رونق رہی اور یاد گار رہی فاطمہ شیروانی کو بہت مبارکباد

