وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ جس طرح کسی ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ضروری ہوتی ہے، اسی طرح ڈیجیٹل اور سائبر سرحدوں کا تحفظ بھی اب قومی سلامتی کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ اگر کسی ملک کے ڈیجیٹل سسٹمز کو ہیک کر لیا جائے تو اس کا پاور گرڈ فیل کیا جا سکتا ہے، اسمارٹ سٹی کے کیمروں کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نظام جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں اگر بینکاری نظام میں مداخلت ہو جائے تو نہ صرف مالیاتی شفافیت بلکہ پورے مالیاتی آپریشنز متاثر ہو سکتے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ آنے والے دور میں چونکہ ہتھیار بھی ڈیجیٹل ہو چکے ہیں، اس لیے قومی دفاع کا تعلق بھی براہِ راست ڈیجیٹل سیکیورٹی سے جڑ گیا ہے ڈیجیٹائزیشن جتنی اہم ہو گئی ہے، سائبر سیکیورٹی بھی اتنی ہی اہمیت اختیار کر چکی ہےیہ چیلنجز صرف قومی سطح تک محدود نہیں بلکہ انفرادی سطح پر بھی خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے آج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور گوگل جیسے ڈیجیٹل نظام کسی فرد کی نفسیات، پسند ناپسند اور آئندہ فیصلوں کا اندازہ اس کے قریبی رشتہ داروں سے بھی بہتر لگا سکتے ہیں، جس کی وجہ بگ ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کی غیر معمولی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بگ ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کے امتزاج نے جمہوریت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ووٹرز کی رائے اور انتخابی فیصلوں کو متاثر اور منظم طریقے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے،احسن اقبال نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے اب تک نیٹ فلکس پر موجود فلم ’دی گریٹ ہیک‘ نہیں دیکھی تو ضرور دیکھیں، کیونکہ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو لوگوں کی سوچ، رائے اور فیصلوں کو متاثر کرنے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یہ ایک نئی اور طاقتور مینیپولیٹو صلاحیت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ڈس انفارمیشن پھیلانا اب انتہائی آسان ہو چکا ہے، جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی آمد کے بعد ایک عام آدمی کے لیے یہ پہچاننا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے کہ کوئی ویڈیو یا آڈیو اصل ہے یا مصنوعی، اے آئی کے ذریعے تیار کردہ مواد نے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کو مزید دھندلا دیا ہے، جسے مختلف عناصر اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، وہ خود ڈیجیٹل عدم برداشت، نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کے نتائج کا شکار رہ چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2018 میں بعض سیاسی گروہوں نے مذہب کا کارڈ استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف ڈس انفارمیشن اور ہیٹ اسپِیچ پھیلائی، جس سے متاثر ہو کر ایک نوجوان نے ان پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور سے ان کا کوئی ذاتی تعلق، جھگڑا یا دشمنی نہیں تھی، لیکن صرف آن لائن نفرت انگیز مواد سے متاثر ہو کر اس نوجوان نے یہ قدم اٹھایا۔
