بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے مسلمانوں کے حالیہ بیان نے خطے میں تشویش کی لہر پیداکر دی ہے۔
اجیت ڈوول نے کہا ہے کہ نوجوانوں کے دلوں میں تاریخ کا بدلہ لینے کی آگ ہونی چاہیے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو معمول بنانا ضروری ہے یہ بیان ڈیولپڈ انڈیا ینگ لیڈرز ڈائیلاگ – 2026 کے دوران سامنے آیا۔
ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں نے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے معروف سماجی کارکن محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ اقلیتوں کے خلاف تشدد پر اُکسانے کے مترادف ہے اور صدیوں پرانے واقعات کا بدلہ لینے کا مطالبہ محض دھوکہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ڈوول کا بیان بھارت میں نفرت اور مذہبی بنیاد پر فرقہ وارانہ تشدد کو بڑھانے کی عکاسی کرتا ہےڈوول ڈاکٹرائن خطے میں پراکسیز کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے اور جنوبی ایشیا میں تنازعہ کو ہوا دینے کا ذریعہ ہے، آر ایس ایس اور ڈوول ڈاکٹرائن کا گٹھ جوڑ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔
