اٹلی کے جزیرہ سسلی میں واقع یورپ کے سب سے بڑے فعال آتش فشاں ماؤنٹ ایٹنا پر آسمانی بجلی گرنے سے ایک امریکی سیاح ہلاک ہوگیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق 29 سالہ نوجوان امریکی ریاست کنساس سے تعلق رکھتا تھا اور وہ آتش فشاں کے ایک ممنوعہ علاقے میں پیدل سفر کر رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق واقعہ اتوار کی شام اس وقت پیش آیا جب ماؤنٹ ایٹنا کے علاقے میں شدید گرج چمک کے ساتھ طوفانی موسم جاری تھا۔ نوجوان درختوں کی حد سے اوپر ایک کھلے اور غیر محفوظ مقام پر موجود تھا کہ اچانک آسمانی بجلی اس پر آگری۔
حادثے کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمی سیاح کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا اور طبی عملے نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ حکام کی جانب سے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت کی باضابطہ تصدیق ابھی نہیں کی گئی۔
ماؤنٹ ایٹنا ایک فعال آتش فشاں ہے اور اس کی حالیہ سرگرمیوں کے باعث اس کے وسیع علاقے کو سیاحوں اور پیدل سفر کرنے والوں کے لیے بند قرار دیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے خطرناک علاقوں میں داخلے پر پابندی عائد ہے، تاہم اس کے باوجود بعض سیاح ممنوعہ راستوں کا رخ کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ماؤنٹ ایٹنا پر آتش فشاں کی سرگرمیوں کے مقابلے میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں زیادہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ آتش فشاں سے براہ راست ہلاکتوں کا آخری بڑا واقعہ 1987 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ماؤنٹ ایٹنا کی حالیہ سرگرمی نے سسلی کے فضائی سفر کو بھی متاثر کیا۔ آتش فشاں سے خارج ہونے والی راکھ کے باعث قریبی شہر کاتانیا کے ہوائی اڈے کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا، جس سے متعدد پروازیں منسوخ ہوئیں اور سینکڑوں مسافر متاثر ہوئے۔
ماؤنٹ ایٹنا پر آسمانی بجلی گرنے سے امریکی سیاح ہلاک
