Baaghi TV

یاسین ملک ، جب انسان اپنی زندگی کا آخری فیصلہ بھی اپنوں کے لیے کرتا ہے،تحریر: زینب جہانزیب

کچھ لوگ تاریخ میں اپنے کارناموں سے نہیں، اپنے سوالوں سے زندہ رہتے ہیں۔ وقت ان کے نام کے گرد کتنی ہی بحثیں کھڑی کر دے، عدالتیں اپنے فیصلے سنا دیں، ریاستیں اپنے مؤقف لکھ دیں، مگر ان کی زندگی سے اٹھنے والا ایک سوال پھر بھی باقی رہتا ہے۔ یاسین ملک بھی شاید ایک ایسا ہی سوال ہیں؛ ایک ایسا نام جسے کوئی مزاحمت کی علامت کہتا ہے، کوئی سیاسی جدوجہد کا کردار، کوئی متنازع شخصیت، مگر ان تمام شناختوں کے پیچھے ایک انسان بھی ہے، جس کی زندگی کا ایک بڑا حصہ کشمیر کے سیاسی بحران، جدوجہد، قید اور جدائی کے درمیان گزرا۔ اور شاید ان کی داستان کا سب سے دردناک پہلو سیاست نہیں، بلکہ وہ رشتے ہیں جو ایک قیدی انسان کے ساتھ جیل کی دیواروں کے باہر بھی قید ہو جاتے ہیں۔

محمد یاسین ملک ۳ اپریل ۱۹۶۶ء کو سری نگر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام غلام قادر ملک تھا۔ کشمیر کے حالات نے ان کی نوجوانی پر گہرا اثر ڈالا اور وہ کم عمری ہی سے کشمیر کی سیاسی جدوجہد میں شامل ہو گئے۔ وقت کے ساتھ وہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) سے وابستہ ہوئے، جس کا بنیادی مؤقف ایک آزاد اور خودمختار جموں و کشمیر کا قیام رہا ہے، یعنی ایسا کشمیر جو نہ بھارت کے ساتھ الحاق کرے اور نہ پاکستان کے ساتھ۔ یاسین ملک نے ایک عرصے تک اس تنظیم کی مسلح جدوجہد میں بھی کردار ادا کیا، مگر ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ ۱۹۹۴ء میں آیا، جب انہوں نے مسلح راستہ ترک کرکے پرامن سیاسی جدوجہد اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد وہ کشمیر کے مسئلے کے سیاسی اور مذاکراتی حل کی بات کرتے رہے۔

مگر تاریخ کے راستے ہمیشہ انسان کی مرضی سے نہیں چلتے۔ برس گزرتے گئے، سیاسی حالات بدلتے رہے اور پھر ۲۰۱۹ء میں بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) پر پابندی عائد کردی۔ یاسین ملک کو گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف مقدمات کا سلسلہ آگے بڑھا۔ ۲۰۲۲ء میں بھارت کی خصوصی قومی تحقیقاتی ادارے کی عدالت نے انہیں دہشت گردی سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی۔ یاسین ملک نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کی اور عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ بے قصور ہیں۔ انہوں نے مقدمے کا دفاع مزید نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور یہاں تک کہا کہ اگر عدالت انہیں سزائے موت بھی دیتی ہے تو وہ اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مقدمہ نہ لڑنے کے فیصلے کو اعترافِ جرم نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے سرلا بھٹ کے مقدمے میں ملوث ہونے کے الزام کو بھی یکسر مسترد کیا اور سوال اٹھایا کہ اگر اس مقدمے کے شواہد موجود تھے تو انہیں اتنے طویل عرصے تک کیوں سامنے نہیں لایا گیا۔ ان کے نزدیک یہ کارروائی سیاسی انتقام کا حصہ تھی۔ کوئی ان کے مؤقف سے اتفاق کرے یا اختلاف، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتے ہیں کہ سیاست، عدالت، انصاف اور انسانی حقوق کے درمیان لکیر کہاں کھینچی جائے۔

لیکن یاسین ملک کی داستان کا اصل درد شاید عدالت کے فیصلے میں نہیں، اس خط میں چھپا ہے جو انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے قریب رشتوں کے نام لکھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ وہ برسوں سے قیدِ تنہائی میں ہیں اور اپنی اہلیہ مشعال ملک اور اپنی بیٹی سے فون یا تصویری گفتگو تک نہیں کر سکے۔ ذرا سوچیے، ایک انسان کے پاس پوری دنیا سے کہنے کو بہت کچھ ہو، مگر اپنے گھر میں موجود دو سب سے عزیز لوگوں تک پہنچنے کے لیے صرف چند الفاظ اور ایک خط رہ جائیں۔ دنیا کے شور میں شاید یہ معمولی بات لگے، مگر ایک باپ کے لیے اپنے بچے کی آواز سننے سے محروم ہونا بھی ایک ایسی سزا ہے جسے کسی عدالت کے فیصلے میں لکھا نہیں جا سکتا۔
اور پھر اس خط کا وہ حصہ آتا ہے جہاں سیاست اچانک خاموش ہو جاتی ہے اور ایک شوہر بولنے لگتا ہے۔ یاسین ملک نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کے بارے میں لکھا کہ وہ برسوں سے قیدِ تنہائی میں ہیں اور انہیں اپنی بیوی اور بیٹی سے رابطے کی اجازت تک نہیں ملی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے رہنمائی کے لیے استخارہ کیا اور اس کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ وہ مشعال کو ازدواجی رشتے سے آزاد کرتے ہیں، تاکہ وہ ان کے حالات کے بوجھ تلے دب کر ایک ایسی زندگی نہ گزاریں جس میں انتظار ہی انتظار ہو، بلکہ وقار کے ساتھ اپنی زندگی کا نیا باب شروع کر سکیں۔ یہ چند الفاظ نہیں، شاید ایک شوہر کی محبت کی سب سے تلخ شکل ہے۔ کبھی محبت کسی کو اپنے پاس رکھنے کا نام ہوتی ہے، اور کبھی محبت اس مقام تک پہنچ جاتی ہے جہاں انسان اپنے محبوب کو اپنے وجود کی اذیت سے آزاد کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہ فیصلہ کتنا درست ہے یا کتنا قابلِ قبول ہے، اس پر الگ بحث ہو سکتی ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی ذہنی اور جذباتی کیفیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک شخص جو خود قید میں ہو، اپنی آزادی سے محروم ہو، اپنی بیوی اور بیٹی سے رابطے کے معمولی حق سے بھی محروم ہو، وہ آخرکار اپنی محبت کو بھی ایک قربانی میں بدل دیتا ہے۔
شاید یہی محبت کی سب سے المناک صورت ہے کہ انسان جسے زندگی بھر اپنے ساتھ رکھنے کا خواب دیکھتا ہے، ایک دن اسی کے مستقبل کے لیے خود اسے اپنے رشتے سے آزاد کرنے کی بات کرے۔ محبت کبھی کبھی وصال نہیں، قربانی بن جاتی ہے؛ کبھی محبت ساتھ رہنے کا نام نہیں، کسی دوسرے کی زندگی کو اپنے دکھ سے آزاد کرنے کی کوشش بن جاتی ہے۔ اور شاید یاسین ملک کے اس فیصلے میں سب سے زیادہ درد اسی بات کا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے سب سے قیمتی رشتے کو بھی اپنی قید کی سزا سے بچانا چاہتے ہیں۔
پھر وہ اپنی بیٹی رضیہ سلطانہ کے نام لکھتے ہیں۔ ایک تیرہ سالہ بچی کے نام۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی موت کی کوٹھڑی میں صرف وہ خود اور ان کی بیٹی کی تصویر ہے، اور اسی تصویر کے ذریعے وہ دن کے پچیس گھنٹے اپنی بیٹی کی موجودگی محسوس کرتے ہیں۔ یہ جملہ پڑھتے ہوئے شاید انسان کو پہلی مرتبہ سمجھ آتا ہے کہ قید کی دیواریں کتنی بلند ہوتی ہیں۔ ایک باپ کے پاس اپنی بیٹی کی تصویر ہے۔ تصویر میں ایک بچی ہے، مگر تصویر کے باہر ایک باپ ہے جو اسے چھو نہیں سکتا، اس کے بال نہیں سہلا سکتا، اس کی آواز نہیں سن سکتا، اسے یہ نہیں کہہ سکتا کہ ’’بیٹا، میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘ وہ صرف تصویر دیکھ سکتا ہے اور اپنے دن اس تصویر کی موجودگی میں گزار سکتا ہے۔ اس سے زیادہ بے بسی شاید ایک باپ کے لیے کیا ہوگی؟

اور پھر وہ اپنی بیٹی کو اپنی دادی کا خیال رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ شاید یہ ایک معمولی سا جملہ محسوس ہو، مگر غور کیجیے تو اس کے اندر ایک پوری نسل کا رشتہ چھپا ہوا ہے۔ ایک بیٹا اپنی ماں سے دور ہے، ایک باپ اپنی بیٹی سے دور ہے، اور وہ بیٹی کو کہہ رہا ہے کہ اپنی دادی کا خیال رکھنا۔ جیسے ایک شخص جیل کی چار دیواری میں بیٹھ کر بھی اپنے گھر کے رشتوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ایک ماں، ایک بیٹا، ایک پوتی اور درمیان میں ایک ایسی خاموشی جس کا کوئی اختتام دکھائی نہیں دیتا۔
شاید دنیا یاسین ملک کو ان کے سیاسی نظریے سے جانتی ہو، مگر ان کی ماں کے لیے وہ اب بھی صرف بیٹا ہیں۔ ایک ماں کے لیے بیٹا عمر سے بڑا نہیں ہوتا۔ دنیا اسے رہنما کہے، قیدی کہے، سیاسی کارکن کہے یا کوئی اور نام دے، ماں کے دل میں وہ ہمیشہ وہی بچہ رہتا ہے جس کے لیے دعا کرتے ہوئے اس کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ شاید جیل کی سب سے بھاری دیوار وہ ہوتی ہے جو ایک ماں اور بیٹے کے درمیان کھڑی ہو جائے، کیونکہ ماں کے لیے فاصلے کبھی صرف فاصلے نہیں ہوتے، وہ ہر دن ایک نئی کمی بن کر سامنے آتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست سے آگے انسانیت کھڑی ہو جاتی ہے۔ ہم یاسین ملک کے سیاسی نظریے سے اختلاف کر سکتے ہیں، ان کی ماضی کی مسلح جدوجہد پر سوال اٹھا سکتے ہیں، ان کے مؤقف کو قبول یا مسترد کر سکتے ہیں، مگر ایک ماں کے انتظار، ایک بیٹی کی محرومی اور ایک بیوی کی تنہائی کو کسی نظریے کے ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔ درد کا کوئی جھنڈا نہیں ہوتا۔ ماں کا آنسو کسی ملک کا نہیں ہوتا۔ بچے کو اپنے باپ کی ضرورت کسی نظریے کی محتاج نہیں ہوتی، اور انتظار کرتی ہوئی عورت کی راتیں کسی سرحد سے چھوٹی نہیں ہوتیں۔
شاید اسی لیے یاسین ملک کی داستان ہمیں صرف کشمیر کا سیاسی سوال نہیں دیتی، بلکہ انسان کے اندر ایک اور سوال پیدا کرتی ہے: اگر کسی شخص کے سیاسی مؤقف پر اختلاف ہو بھی، تو کیا اس کے انسانی دکھ کو محسوس کرنے کے لیے بھی ہمیں اس سے اتفاق کرنا ضروری ہے؟ اگر جواب ہاں ہے تو پھر ہماری انسانیت بہت محدود ہے۔ انصاف صرف اپنے لوگوں کے لیے انصاف نہیں ہوتا۔ انصاف تب مکمل ہوتا ہے جب ہم اپنے مخالف کے لیے بھی وہی بنیادی انسانی وقار چاہتے ہیں جس کی توقع اپنے لیے رکھتے ہیں۔

اور پھر ان کے خط کا اختتام شاید پوری داستان کا سب سے خاموش مگر گہرا حصہ ہے۔ وہ اپنے اس بیان کو ’’ضمیر کا آخری بیان‘‘ قرار دیتے ہیں۔ فیض احمد فیض کے اشعار اور قرآنِ پاک کی آیات کے ساتھ وہ کہتے ہیں کہ ان کے دل میں کسی فرد کے لیے نفرت یا انتقام کا جذبہ نہیں، اور وہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور فیصلوں کا معاملہ اب اللہ کی عدالت پر چھوڑتے ہیں۔ یہاں آکر ایک قیدی انسان اپنے مقدمے سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔ دنیا کی عدالت اپنا فیصلہ سنا سکتی ہے، مگر انسان کے اندر ایک اور عدالت ہوتی ہے، ضمیر کی عدالت، اور اس سے بھی آگے ایک ایسی عدالت کا تصور ہے جہاں نہ وکیل درکار ہے، نہ گواہ، نہ دلیل چھپائی جا سکتی ہے، نہ حقیقت کو کسی فائل میں دفن کیا جا سکتا ہے۔ اللہ کی عدالت۔
شاید اسی لیے ان کا آخری پیغام انتقام سے زیادہ سپردگی کا پیغام بن جاتا ہے۔ وہ اپنے معاملے کو اس عدالت کے حوالے کرنے کی بات کرتے ہیں جہاں انسان اپنے اعمال، اپنے ارادوں اور اپنی حقیقت کے ساتھ اکیلا کھڑا ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک انسان دنیا سے بحث کرنا چھوڑ کر اپنے رب سے معاملہ کرنے لگتا ہے۔ شاید یہ شکست نہیں، شاید یہ وہ خاموش مقام ہے جہاں انسان اپنے اندر کے شور سے نکل کر فیصلہ خدا پر چھوڑ دیتا ہے۔

یاسین ملک کی زندگی کو ایک جملے میں بیان کرنا شاید ممکن نہیں۔ وہ ایک پیچیدہ سیاسی اور تاریخی کردار ہیں، ان کی زندگی میں ایسے ابواب ہیں جن پر اختلاف بھی ہے اور بحث بھی۔ مگر ان کی داستان کا انسانی پہلو ہمیں یہ ضرور سکھاتا ہے کہ ہر سیاسی نام کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے، اور ہر انسان کے پیچھے کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اس کے ساتھ جیتے ہیں، اس کے لیے روتے ہیں اور اس کی غیر موجودگی کو اپنی زندگی میں اٹھائے پھرتے ہیں۔
کبھی کبھی تاریخ کسی شخص کے اعمال کا حساب لکھتی ہے، مگر اس کے گھر والوں کے آنسو شمار نہیں کرتی۔ کبھی عدالتیں جرم اور سزا کے درمیان فیصلہ لکھ دیتی ہیں، مگر انتظار کی مدت نہیں لکھتیں۔ کبھی ریاستیں اپنے مؤقف محفوظ کر لیتی ہیں، مگر ایک بچے کے دل میں اپنے باپ کی کمی کا کوئی ریکارڈ نہیں بنتا۔ اور کبھی ایک شخص اپنی زندگی کی آخری طاقت بھی اپنے لیے نہیں، اپنوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔

شاید یاسین ملک کے خط کی سب سے بڑی اذیت یہی ہے کہ اس میں ایک ایسا انسان دکھائی دیتا ہے جو اپنی زندگی کے فیصلوں پر گفتگو کرتے کرتے آخرکار اپنے گھر والوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ وہ اپنی بیوی کو آزاد کرنے کی بات کرتا ہے، اپنی بیٹی کو دادی کا خیال رکھنے کو کہتا ہے، اپنی ماں سے دور بیٹھا ہے اور اپنے مقدمے کا فیصلہ دنیا کی عدالت سے اٹھا کر اللہ کی عدالت کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہاں آکر سوال یاسین ملک سے نہیں رہتا، یہ سوال ہم سے ہو جاتا ہے کہ ہم آزادی کو کتنا سمجھتے ہیں؟ ہم انصاف کو کتنا غیر جانب دار رکھ سکتے ہیں؟ ہم اختلاف کے باوجود انسان کو انسان سمجھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
اور شاید سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم کبھی یہ سمجھ پائیں گے کہ کسی انسان کو قید کرنا صرف ایک جسم کو دیواروں کے اندر بند کرنا نہیں ہوتا؛ کبھی کبھی اس کے ساتھ ایک ماں کی دعائیں، ایک بیوی کا انتظار اور ایک بچے کا بچپن بھی قید ہو جاتا ہے۔

یاسین ملک کی داستان کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔ مگر ان کی بیٹی کی تصویر، ان کی ماں کی دعائیں اور ان کی بیوی کا انتظار کسی تاریخ کے فیصلے کے محتاج نہیں۔ کیونکہ کچھ دکھ عدالتوں میں ثابت نہیں کیے جاتے، وہ صرف محسوس کیے جاتے ہیں۔ اور کچھ قیدیں سلاخوں کے پیچھے نہیں ہوتیں، وہ انسان کے اپنے لوگوں سے فاصلے میں ہوتی ہیں۔
شاید اسی لیے سب سے مشکل قید وہ نہیں جس میں دروازہ بند ہو؛ سب سے مشکل قید وہ ہے جس میں انسان اپنے پیاروں کو یاد تو کر سکتا ہو، مگر ان تک پہنچ نہ سکتا ہو۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سیاسی داستان ختم نہیں ہوتی، بلکہ ایک انسانی داستان شروع ہوتی ہے،ایک ایسے انسان کی داستان، جس کے ہاتھ میں اب شاید صرف چند الفاظ، ایک تصویر، چند دعائیں اور اپنے رب کی عدالت پر چھوڑا ہوا ایک معاملہ باقی رہ گیا ہے۔

More posts