اولاد انسان کے لیے قدرت کی عطا کردہ ایک عظیم اور لازوال نعمت ہے۔ جب ہمیں گھر میں بچے کی آمد کی خبر ملتی ہے تو پورا گھر خوشیوں سے بھر جاتا ہے۔ ماں اپنے آنے والے بچے کے لیے خواب دیکھتی ہے، اس کے ننھے ہاتھوں کا تصور کرتی ہے، اس کے نام کے بارے میں سوچتی ہے اور اس دن کا انتظار کرتی ہے۔ جب وہ اپنی اولاد کو پہلی بار گود میں اٹھائے گی لیکن کبھی کبھی زندگی انسان کو ایسی آزمائش سے دوچار کر دیتی ہے جس کا تصور بھی اس نے نہیں کیا ہوتا۔
ایننسیفلی(Anencephaly) بھی ایک ایسی ہی سنگین پیدائشی کیفیت ہے جو والدین کے لیے گہرے دکھ اور پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔طبی سائنس کی دنیا میں ایننسیفلی (Anencephaly) ایک انتہائی نایاب اور جان لیوا پیدائشی نقص (Birth Defect) ہے۔ اردو میں اسے عام طور پر "عدمِ دماغی” یا "لا دماغی” کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری اعصابی نالی کے نقائص (Neural Tube Defects) کے زمرے میں آتی ہے۔ اس حالت میں مبتلا بچہ کھوپڑی، سر کی جلد اور دماغ کے اہم حصوں (خاص طور پر فوربرین اور سیریبرم، جو سوچنے، سمجھنے اور دیکھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں) کے بغیر پیدا ہوتا ہے۔
ایننسیفلی (Anencephaly) میں حمل کے ابتدائی 21 سے 28 دنوں کے دوران، جنین (Embryo) میں ایک خاص نالی بنتی ہے جسے "نیورل ٹیوب” (Neural Tube) کہا جاتا ہے۔ یہ نالی آگے چل کر بچے کا دماغ اور ریڑھ کی ہڈی بناتی ہے۔ اگر یہ نالی اپنے اوپری حصے سے مکمل طور پر بند نہ ہو سکے، تو دماغ کا اگلا حصہ تیار نہیں ہو پاتا اور وہ ایمنیوٹک سیال (Amniotic Fluid) میں کھلا رہ جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ حصہ آہستہ آہستہ گل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حمل کے دوران باقاعدہ طبی معائنہ نہایت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ بعض پیچیدگیوں کی بروقت تشخیص والدین کو صورتِ حال کو سمجھنے اور ماہرین سے مناسب رہنمائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔موجودہ دور میں جدید طبی ٹیکنالوجی کی بدولت ایننسیفلی(Anencephaly) کی تشخیص حمل کے دوران ہی ہو جاتی ہے۔الٹراساؤنڈ (Ultrasound) کے ذریعے حمل کے دوسرے سہ ماہی (سیکنڈ ٹرائمسٹر) یا بعض اوقات پہلے سہ ماہی کے آخر میں بچے کی کھوپڑی اور دماغ کی غیر موجودگی کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
بدقسمتی سے، ایننسیفلی کا کوئی علاج یا جراحی (سرجری) ممکن نہیں ہے۔ اس حالت کے ساتھ پیدا ہونے والے زیادہ تر بچے دنیا میں آنے سے پہلے ہی رحمِ مادر (Uterus)میں دم توڑ دیتے ہیں (Stillbirth)۔ جو بچے زندہ پیدا ہوتے ہیں، وہ دماغ کے بنیادی حصے (Brainstem) کی بدولت چند گھنٹے یا چند دن تک سانس لینے اور دل دھڑکنے کے قابل ہوتے ہیں لیکن جلد ہی وہ وفات پا جاتے ہیں۔ ایسے خاندانوں کو شدید ذہنی اور جذباتی صدمے سے گزرنا پڑتا ہے، جس کے لیے انہیں نفسیاتی مدد اور کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایننسیفلی (Anencephaly) کی کوئی ایک مخصوص وجہ بیان نہیں کی جا سکتی۔ مختلف جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں جبکہ فولک ایسڈ کی کمی بھی نیورل ٹیوب ڈیفیکٹس کے خطرے سے وابستہ ہے۔ اسی لیے طبی ماہرین حمل سے پہلے اور حمل کے ابتدائی عرصے میں فولک ایسڈ کے مناسب استعمال کی اہمیت بیان کرتے ہیں۔ تاہم اگر کسی بچے میں یہ کیفیت تشخیص ہو جائے تو والدین، خصوصاً ماں کو خود کو قصوروار نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ ایک طبی پیچیدگی ہے اور کسی فرد کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا نہ درست ہے اور نہ ہی انسانی رویے کے شایانِ شان۔
اس کیفیت کی تشخیص والدین کے لیے یقیناً ایک مشکل لمحہ ہو سکتی ہے۔ جنہوں نے اپنے بچے کے حوالے سے بے شمار خواب دیکھے ہوں، ان کے لیے ایسی خبر قبول کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ایسے وقت میں خاندان کے افراد اور معاشرے کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ والدین کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئیں۔ غیر ضروری سوالات، طعنے اور قیاس آرائیاں ان کے دکھ کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ انہیں الزام نہیں بلکہ سہارا، افواہوں کے بجائے درست معلومات اور تنقید کے بجائے ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایننسیفلی میں دماغ اور کھوپڑی کے جو حصے معمول کے مطابق تشکیل نہیں پاتے، انہیں بحال کرنے کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں۔ اس لیے ایسی تشخیص کی صورت میں والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ماہرِ امراضِ نسواں، بچوں کے ماہرین اور متعلقہ طبی ماہرین سے تفصیلی مشورہ کریں۔ ڈاکٹر بچے کی حالت کے مطابق دستیاب طبی نگہداشت اور آئندہ کے معاملات کے بارے میں رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر والدین کو جذباتی دباؤ میں آنے کے بجائے مستند طبی معلومات حاصل کرنی چاہییں اور اپنے معالج کی رہنمائی کو اہمیت دینی چاہیے۔
ایننسیفلی (Anencephaly) ہمیں ایک اور اہم حقیقت کا احساس دلاتی ہے کہ صحت کے مسائل کے بارے میں شعور کتنا ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سے لوگ حمل کے ابتدائی طبی معائنے، غذائی ضروریات اور فولک ایسڈ کی اہمیت سے پوری طرح واقف نہیں۔ بعض اوقات معاشرتی جھجک یا غلط تصورات کے باعث خواتین بروقت طبی مشورہ حاصل نہیں کر پاتیں۔ ہمیں اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ حمل کوئی معمولی مرحلہ نہیں بلکہ ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے خصوصی توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔
حمل کی منصوبہ بندی کرنے والی خواتین کے لیے ڈاکٹر سے پہلے ہی مشورہ کرنا، فولک ایسڈ کے مناسب استعمال کے بارے میں رہنمائی حاصل کرنا اور حمل کے دوران باقاعدگی سے طبی معائنہ کروانا مفید اقدامات ہیں۔ البتہ فولک ایسڈ کی مقدار ہر شخص کے لیے یکساں نہیں ہوتی، اس لیے اسے ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔
زندگی ہمیشہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں چلتی۔ کچھ آزمائشیں ایسی ہوتی ہیں جن کا جواب ہمارے پاس نہیں ہوتا، مگر ان آزمائشوں کے دوران ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہمارے اختیار میں ضرور ہوتا ہے۔ ایننسیفلی کے بارے میں آگاہی، بروقت طبی مشورہ، فولک ایسڈ کی اہمیت کو سمجھنا اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آنا ہی وہ رویہ ہے جو ایک باشعور اور انسان دوست معاشرے کی پہچان بن سکتا ہے۔
آخرکار ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر پیدا ہونے والی زندگی اپنے ساتھ ایک انسانی کہانی لے کر آتی ہے۔ بعض کہانیاں خوشیوں سے بھری ہوتی ہیں اور بعض ہمیں صبر، محبت اور انسانیت کا سبق دے جاتی ہیں۔ ایننسیفلی (Anencephaly) بھی ایسی ہی ایک خاموش آزمائش ہے، جس کے سامنے ہمیں بے بسی کے بجائے شعور، الزام کے بجائے ہمدردی اور خاموشی کے بجائے درست آگاہی کو اپنا راستہ بنانا چاہیے تاکہ ایک ماں کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے
