ایشیائی سرزمین پر جاری آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں ایک غیر معمولی صورتحال سامنے آ گئی ہے جہاں پہلی بار امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سیمی فائنل مرحلے سے پہلے ہی تمام ایشیائی ٹیمیں ٹورنامنٹ سے باہر ہو سکتی ہیں۔
بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے اس ایونٹ میں جنوبی ایشیا کی چھ ٹیمیں شریک تھیں جن میں میزبان بھارت، سری لنکا کے علاوہ پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان اور نیپال شامل تھیں۔
بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل ہی آئی سی سی نے متنازع فیصلے کے تحت ایونٹ سے باہر کر دیا تھا، جبکہ نیپال توقعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ہی ناک آؤٹ ہو گیا۔ افغانستان، جو حالیہ برسوں میں بڑی ٹیموں کو شکست دے کر توجہ کا مرکز بنتا رہا ہے، اس بار پہلے مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکا۔
گزشتہ روز میزبان سری لنکا کو انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد سپر ایٹ مرحلے میں مسلسل دو میچ ہارنے کے باعث وہ بھی ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔
اب سابق عالمی چیمپئن پاکستان اور دفاعی چیمپئن بھارت ہی ایشیا کی آخری امیدیں رہ گئی ہیں، تاہم دونوں ٹیموں کی سیمی فائنل تک رسائی مشکل دکھائی دے رہی ہے۔ انگلینڈ کی نیوزی لینڈ کے خلاف بڑی جیت نے پاکستان کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔ اگر انگلینڈ اگلا میچ بھی جیت جاتا ہے تو پاکستان کو سیمی فائنل تک پہنچنے کے لیے سری لنکا کے خلاف بڑی فتح درکار ہوگی، جبکہ نیوزی لینڈ کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کی مہم ختم ہو جائے گی۔
دوسری جانب بھارت کو سپر ایٹ کے پہلے میچ میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں بھاری شکست کے بعد منفی رن ریٹ کا سامنا ہے۔ سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے اسے اپنے باقی دونوں میچز بڑے مارجن سے جیتنا ہوں گے تاکہ رن ریٹ بہتر ہو سکے۔
بھارت آج زمبابوے کے خلاف جبکہ اتوار کو ویسٹ انڈیز کے خلاف میدان میں اترے گا۔ اگر وہ ان میں سے ایک بھی میچ ہار گیا یا مطلوبہ رن ریٹ حاصل نہ کر سکا تو ٹی 20 ورلڈ کپ کی 19 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی بھی ایشیائی ٹیم سیمی فائنل تک نہیں پہنچ سکے گی۔
ٹی 20 ورلڈ کپ میں پہلی بار سیمی فائنل سے قبل تمام ایشیائی ٹیموں کےباہر ہونے کا خطرہ
