Baaghi TV

اگست کا ادھورا پیغام: سامراجی زنجیروں سے حقیقی آزادی تک،تحریر: نعیم خان

تاریخ کا طبعی اصول ہے کہ جب طاقتور کے پاؤں تلے سے زمین نکلتی ہے تو وہ اسے اپنی سخیانہ پالیسی کا نام دے کرعزت سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا بھر میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی تلخ ، ڈرامائی اور پیچیدہ حقائق سے بھری پڑی ہے۔ اگر تاریخ کے صفحات کو غیر جانبدارانہ نگاہ سے دیکھا جائے تو برطانیہ کا اپنی وسیع و عریض سلطنت کو خیرباد کہنا محض کچھ رہنماؤں کی تقاریر کا جادو یا حریت پسندوں کی جدوجہد نہیں تھا بلکہ اس کے پسِ پردہ برلن کی خوفناک راتوں سے لے کر لندن کی خالی تجوریوں تک ایک مکمل معاشی و سیاسی تباہی کا داستانوی پس منظر تھا۔

اس پوری تاریخ کا سب سے انوکھا اور تلخ کردار ایڈولف ہٹلر کا ہے۔ یہ تاریخ کا ایک ستم ظریفانہ موڑ ہے کہ جس ہٹلر نے ایشیا یا افریقہ کی آزادی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا وہی برطانوی سلطنت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ ہٹلر کی چھیڑی ہوئی دوسری جنگِ عظیم نے برطانیہ کو فوجی ، اقتصادی و معاشی اور نفسیاتی طور پر اس حد تک توڑ دیا کہ اس کے ہاتھ سے اپنی نوآبادیات پر گرفت چھوٹنے لگی۔ ہٹلر نے برطانوی افواج ان کے جاہ و جلال اور معاشی و معاشرتی لائف اسٹائل پر وہ کاری ضربیں لگائیں کہ فتح کے باوجود برطانیہ ایک خالی خولی ڈھانچہ بن کر رہ گیا۔

جنگ کے بعد لندن کی صورتحال یہ تھی کہ برطانوی عوام کو راشن کارڈز پر خوراک مل رہی تھی اور برطانیہ خود امریکہ کے دیے گئے قرضوں پر سانسیں لے رہا تھا۔ اسی معاشی بدحالی اور تباہی نے برطانیہ کو اپنی "ایسٹ آف سویز” پالیسی پر مجبور کیا۔ 1968 میں برطانیہ نے انتہائی تلخ لیکن حقیقت پسندانہ فیصلہ کیا کہ نہرِ سویز کے مشرق میں واقع اپنے تمام فوجی اڈے اور علاقے خالی کر دیے کیونکہ اب ان کا خرچہ اٹھانا برطانوی معیشت کے بس میں نہیں رہا تھا۔

یہی وہ موقع تھا جہاں سے تاریخ کے دو مختلف رخ سامنے آتے ہیں۔ ایک طرف وہ خطے تھے جہاں آزادی کی کوئی پرتشدد یا منظم تحریک سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ خلیجی ریاستیں جیسے متحدہ عرب امارات ، بحرین اور قطر یا بحرِ الکاہل کے چھوٹے جزائر جیسے فیجی اور بارباڈوس وہاں کے لوگ صبح اٹھے تو انہیں معلوم ہوا کہ برطانوی سرپرست اب واپس جا رہے ہیں۔ برطانیہ نے وہاں پرامن انتقالِ اقتدار اور آئینی ارتقاء کا راستہ اس لیے چنا تاکہ اپنے معاشی بوجھ کو کم کر سکے اور جاتے جاتے ان علاقوں کو کمیونسٹ اثر و رسوخ سے بچا کر اپنے مفادات محفوظ کر سکے۔ ان ممالک کو آزادی تحفے میں ملی نہیں تھی بلکہ برطانیہ نے اپنی مجبوری کی بنا پر ان پر دان کی تھی۔

لیکن دوسری طرف وہ خطے تھے جہاں کی مٹی میں آزادی کی نظریاتی تڑپ ان کے خون میں شامل تھی۔ یہ صرف زمین کے ٹکڑے کی جنگ نہیں تھی بلکہ انسان کے اپنے وجود اور قومی وقار کی جنگ تھی۔ برصغیر میں طویل سیاسی و آئینی جدوجہد کینیا کے غریب کسانوں کا "ماؤ ماؤ” گوریلا معرکہ اور الجزائر و مصر میں سامراجی تسلط کے خلاف عوامی ابھار یہ وہ نظریاتی معرکے تھے جنہوں نے خون سے تاریخ لکھی۔ ان علاقوں میں آزادی برطانیہ کی مرضی سے نہیں بلکہ عوام کی مسلسل قربانیوں جیلوں کی صعوبتوں اور نظریاتی پختگی کے نتیجے میں حاصل کی گئی۔ یہاں کے لوگوں نے برطانیہ کو باور کرایا کہ اب ان پر حکومت کرنے کی قیمت برطانوی سلطنت کی برداشت سے باہر ہو چکی ہے۔

تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ برصغیر سے جاتے وقت برطانیہ نے اپنی سامراجی حکمتِ عملی کا سب سے خطرناک کھیل کھیلا۔ انہوں نے عوامی تحریکوں کا جوش تو دیکھا تھا لیکن اقتدار منتقل کرتے وقت انہوں نے عوامی نمائندوں کی بجائے اپنے پرانے درباریوں یعنی وڈیروں ، جاگیرداروں اور گدی نشینوں کو فوقیت دی۔ یہ وہی طبقہ تھا جسے انگریز نے 1857 کے غدر ( جنگِ آزادی ) کے بعد اپنی وفاداری کے عوض زمینیں اور سندیں بانٹ کر پروان چڑھایا تھا۔

جب برطانیہ یہاں سے رخصت ہوا تو اس نے نظام کا ڈھانچہ اور روح انہی جاگیرداروں کے سپرد کر دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عام انسان کے لیے صرف ڈیسک پر بیٹھا افسر اور جھنڈا بدلا مگر شطرنج کی بازی وہی رہی۔ جن وڈیروں اور گدی نشینوں نے انگریز کے بوٹ پالش کیے تھے وہ راتوں رات نئے ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے۔ انہوں نے تعلیم کو عام نہیں ہونے دیا ، سیاسی شعور کو بیدار نہیں ہونے دیا اور عام کسان و مزدور کو اپنے روحانی و معاشی جال میں جکڑ کر رکھا۔

آج جب ہر سال اگست کا مہینہ آتا ہے تو ہم چراغاں کرتے ہیں ، قومی نغمے گاتے ہیں اور پرچم لہراتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف ایک بریدہ جغرافیہ حاصل کر لینا ہی مکمل آزادی ہے؟ اگر ستر سے زائد دہائیاں گزرنے کے بعد بھی عام شہری انصاف کے لیے تھانوں اور عدالتوں میں ذلیل ہوتا رہے اگر ووٹر اپنے ووٹ کا فیصلہ اپنی سوچ کی بجائے وڈیرے کے خوف یا گدی نشین کی دعا سے کرے اور اگر ملک کا تعلیمی نظام غریب کے بچے کو ذہنی غلام بنا کر رکھے تو یہ ماننا پڑے گا کہ آزادی کی کہانی ابھی ادھوری ہے۔

اس ادھوری آزادی کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہمیں نعروں کے خول سے نکل کر عمل کے میدان میں آنا ہوگا۔ سچی آزادی کی راہ یکساں تعلیمی انقلاب ، طاقت کی نچلی ترین سطح یعنی بلدیات تک منتقلی ، جاگیردارانہ نظام کا مکمل خاتمہ اور بلا تفریق قانون کی بالادستی سے ہو کر گزرتی ہے۔ جب تک عام شہری کا چولہا ، اس کی رائے اور اس کی عزتِ نفس مقامی آقا کے پنجہِ تسلط سے آزاد نہیں ہوگی تب تک جمہوری سفر کی سمت درست نہیں ہو سکتی۔ ووٹ کو شخصیت پرستی کی بجائے منشور اور کارکردگی کا ترازو بنانا ہی اس کا واحد اور پائیدار حل ہے۔

ماضی کی تاریخ چاہے کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو اور نوآبادیاتی دور کی وراثت نے ہمیں جتنے بھی زخم دیے ہوں مگر مستقبل کا قلم خود ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اگست کا مہینہ ہمیں صرف ماضی کی یاد دلانے کے لیے نہیں آتا بلکہ یہ ایک روشن آئینے کے طور پر تجدیدِ عہد کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جسمانی آزادی کا مرحلہ ہم نے 1947 میں طے کر لیا تھا مگر ذہنی ، معاشی اور سیاسی آزادی کا معرکہ ابھی باقی ہے اور یہ معرکہ تبھی جیتا جائے گا جب اس ملک کا عام شہری اپنے حق کے لیے بیدار ہوگا اور خود کو نظام کا سرچشمہ تسلیم کروائے گا۔

More posts