ٹورنٹو: پاکستانی نژاد کینیڈین رکنِ پارلیمنٹ سلمیٰ زاہد کی گاڑی نذرِ آتش کرنے کے واقعے میں ٹورنٹو پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا، جبکہ دوسرے ملزم کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ کینیڈا کے شہر اسکاربورو میں سلمیٰ زاہد کی رہائش گاہ کے باہر پیش آیا، جہاں ان کی گاڑی کو آگ لگا دی گئی تھی،ٹورنٹو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 24 سالہ روشوِن کرافٹن کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم کے خلاف املاک کو نقصان پہنچانے کی غرض سے آتش زنی، 5 ہزار کینیڈین ڈالر سے زائد مالیت کے نقصان، آتش گیر مواد اپنے قبضے میں رکھنے اور پروبیشن آرڈر کی خلاف ورزی سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں،پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کو 8 ستمبر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا، جبکہ واقعے میں مبینہ طور پر ملوث دوسرے ملزم کی تلاش اور کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب سلمیٰ زاہد نے تحقیقات پر ٹورنٹو پولیس سروس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات میں پولیس کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھیں گی،انہوں نے کہا کہ چونکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، اس لیے فی الحال واقعے کے محرک کے حوالے سے کوئی معلومات موجود نہیں۔ انہیں یقین ہے کہ وقت کے ساتھ حقائق سامنے آ جائیں گے اور وہ مزید تبصرہ کرنے سے قبل مکمل حقائق کا انتظار کریں گی۔
